سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: شادی میں ملنے والے سونے کے زیورات اور تحائف دلہن کی ذاتی ملکیت ہیں، شوہر یا سسرال کا کوئی حق نہیں

سپریم کورٹ نے ایک کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شادی میں دلہن کو ملنے والے سونے کے زیورات اس کی ذاتی ملکیت ہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شوہر یا سسرال دلہن کے زیورات پر کوئی ملکیتی حق نہیں رکھتے، اور دلہن کے زیورات روکنا اس کے ملکیتی حقوق سے غیر قانونی محرومی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے حکمنامے کے مطابق بیوی اپنے زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، اور والدین کی جانب سے دلہن کو دیا گیا سونا اس کی ذاتی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ کو بیوی کے ذاتی سامان اور زیورات کے کیسز سننے کا مکمل اختیار ہے، اور شوہر و ساس کے خلاف زیورات کی واپسی کا دعویٰ فیملی کورٹ میں قابلِ سماعت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ دلہن کو ملنے والے برائیڈل گفٹس بھی اس کی ذاتی ملکیت تصور ہوں گے کیونکہ کسی تحفے کی ملکیت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ کس نیت سے دیا گیا تھا اور آیا وہ دلہن کے خصوصی استعمال کے لیے تھا یا نہیں، نہ کہ اس بات سے کہ تحفہ کس کے نام سے منسوب ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ زیورات اور تحائف اکثر خواتین کے لیے مالی تحفظ اور خودمختاری کا ذریعہ ہوتے ہیں، جس کے ساتھ ہی سونے کے زیورات سے متعلق دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی گئی۔

Exit mobile version