جولائی 17, 2026

سوشل میڈیا، اختلافِ رائے اور معاشرتی ذمہ داری

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

آرائیں کمیونٹی ٹرسٹ پاکستان پنجاب کے صدر چودھری عمار اجمل آرائیں کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس بظاہر ایک تنظیمی موقف پیش کرنے کا موقع تھی، لیکن اس کے پس منظر میں کئی ایسے سماجی اور اخلاقی پہلو بھی موجود تھے جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس کا مرکزی موضوع سوشل میڈیا پر ایک شخص کی جانب سے ٹرسٹ کے بانی چیئرمین چودھری شاہد عباس آرائیں اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کی گئی غیر اخلاقی اور توہین آمیز زبان تھا۔ اس معاملے پر ٹرسٹ کی قیادت اور عہدیداران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ ریاستی اداروں سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس میں ضلعی صدر اوکاڑہ چودھری ظہیر بابر آرائیں، ساہیوال ڈویژن کے سینئر رہنما چودھری عرفان احمد آرائیں سمیت ضلع اوکاڑہ، رینالہ خورد، گوگیرہ اور دیگر علاقوں کے تنظیمی عہدیداران کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ اختلافِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن کسی فرد، اس کے خاندان یا اس کی عزت و وقار کو نشانہ بنانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔چودھری عمار اجمل آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرائیں کمیونٹی ٹرسٹ پاکستان ایک رجسٹرڈ فلاحی ادارہ ہے جو خدمتِ خلق، برادری کے اتحاد، باہمی احترام اور سماجی فلاح کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی بنیاد ذاتی مفاد پر نہیں بلکہ خدمت کے جذبے پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرسٹ کے تمام عہدیداران اپنی استطاعت کے مطابق ذاتی وسائل سے فلاحی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور تنظیم کسی قسم کی لازمی یا ماہانہ فنڈنگ کی حامی نہیں۔پریس کانفرنس میں چودھری عمار اجمل آرائیں نے آرائیں برادری کی تاریخی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1915ءمیں میاں محمد شفیع نے انجمن آرائیاں کی بنیاد رکھی اور برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ ان کے مطابق برادری کی اجتماعی ترقی، تعلیم، خدمتِ خلق اور باہمی اتحاد کا یہی جذبہ آج بھی زندہ ہے اور آرائیں کمیونٹی ٹرسٹ اسی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا نے اگرچہ اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارمز پر ذاتی حملے، کردار کشی، جھوٹے الزامات اور غیر مہذب زبان کا استعمال معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے بلکہ نوجوان نسل کے اخلاقی رویوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اختلافات ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ تنظیموں کے درمیان نظریاتی اختلاف بھی ہو سکتے ہیں اور شخصیات کے درمیان بھی۔ لیکن مہذب معاشروں میں اختلاف کا اظہار دلیل، شائستگی اور قانونی دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ جب اختلاف ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جائے اور زبان کی شائستگی ختم ہو جائے تو پھر معاشرے میں برداشت، احترام اور اعتماد بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔چودھری عمار اجمل آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ چودھری شاہد عباس آرائیں ہمیشہ تمام برادریوں اور قبائل کا احترام کرتے آئے ہیں اور ان کی جدوجہد شفافیت، احتساب اور برادری کے وسائل کے درست استعمال کے لیے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ان کے موقف سے اختلاف ہے تو وہ دلیل کے ساتھ اپنی بات کرے، لیکن کسی کے اہل خانہ یا ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے، سی سی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص سوشل میڈیا کو ذاتی انتقام کا ذریعہ نہ بنا سکے۔پریس کانفرنس میں شریک عہدیداران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرائیں کمیونٹی ٹرسٹ پاکستان مستقبل میں صرف آرائیں برادری ہی نہیں بلکہ تمام مستحق خاندانوں کی خدمت کے لیے مختلف فلاحی منصوبے شروع کرنا چاہتی ہے۔ مستحق بچیوں کی شادی، تعلیمی معاونت، طبی امداد اور دیگر رفاہی منصوبے تنظیم کے مستقبل کے اہداف میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدمتِ خلق کا جذبہ کسی ایک برادری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرے کے ہر ضرورت مند فرد تک پہنچنا چاہیے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر چودھری عمار اجمل آرائیں نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کے احترام میں تنظیم نے خاموشی اختیار کیے رکھی، تاہم اب متعلقہ افراد کو قانونی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ساہیوال، لاہور ہائی کورٹ اور دیگر قانونی فورمز سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار صحافت معاشرے میں مثبت سوچ، برداشت اور انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں آزادیِ اظہار ایک بنیادی حق ضرور ہے، مگر اس آزادی کے ساتھ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو ذاتی کردار کشی، نفرت انگیزی اور غیر اخلاقی مہمات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد یا ایک تنظیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اختلافات کا حل عدالت، قانون، مکالمہ اور دلیل ہے، نہ کہ گالم گلوچ اور ذاتی حملے۔سانچ کے قارئین کرام! سوال یہ کہ کیا ہم اظہارِ رائے کی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں اجتماعی طور پر اپنی معاشرتی اقدار، اخلاقی رویوں اور سوشل میڈیا کے استعمال پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ مہذب معاشروں کی بنیاد احترام، برداشت اور قانون کی بالادستی پر قائم ہوتی ہے، اور یہی وہ اصول ہیں جنہیں ہر شہری، ہر تنظیم اور ہر ادارے کو مقدم رکھنا چاہیے٭