کراچی سے اپنے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ کی سیر کے لیے آنے والا ایک نوجوان تاجر مستونگ کے قریب دشت کے علاقے کھنڈ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، کراچی میں موبائل فون کا کاروبار کرنے والے علی جمیل اپنی بیوی عائشہ اور دو کمسن بچیوں کے ہمراہ کوئٹہ تفریح کے لیے آئے تھے۔ جمعہ کی شب کراچی واپسی کے دوران، وہ راستہ بھول جانے کے باعث قومی شاہراہ سے ہٹ کر دشت کے علاقے کھنڈ پہنچ گئے، جہاں مسلح دہشت گردوں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی نہ روکنے پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں علی جمیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی بیوی شدید زخمی ہو گئیں، تاہم گاڑی میں موجود دونوں بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔
صدر کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن منہاج گلفام نے بتایا کہ متاثرہ خاندان مبینہ طور پر گوگل میپ کی غلط رہنمائی کی وجہ سے اس حساس علاقے میں پہنچا تھا۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر کوئٹہ کے صوبائی سنڈیمن اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مقتول تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی نمازِ جنازہ کراچی میں ادا کر دی گئی ہے۔ کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔





