اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ضلع خیبر سے منتخب ہونے والے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو پارٹی ڈسپلن کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کے الزام میں باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹس میں اقبال آفریدی سے 7 روز کے اندر تحریری طور پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اقبال آفریدی کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جو پارٹی نظم و ضبط اور پالیسی کے صریحاً منافی ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مسلسل پارٹی کے دیگر ارکانِ اسمبلی کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا اور غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران بھی پارلیمانی پارٹی کے متفقہ فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔
نوٹس میں سب سے سنگین الزام 23 جون کے واقعے کا لگایا گیا ہے، جس کے مطابق اقبال آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی ارکان پر حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کے ایک ساتھی نے متعدد اراکینِ اسمبلی پر جسمانی حملہ کیا اور اقبال آفریدی خود بھی اس حملے میں براہِ راست ملوث پائے گئے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنا تفصیلی مؤقف تحریری طور پر پارٹی قیادت کے سامنے پیش کریں۔
شوکاز نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ 7 روز کے اندر جواب جمع نہ کرایا گیا، یا فراہم کردہ وضاحت پارٹی قیادت کے لیے غیر تسلی بخش ثابت ہوئی، تو پارٹی آئین اور ضوابط کے تحت سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں اقبال آفریدی کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقل طور پر پارٹی سے بے دخل کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی سے متعلق تمام معاملات کا فیصلہ پی ٹی آئی کے آئین اور اندرونی قواعد و ضوابط کے مطابق بلا تفریق کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ضلع خیبر سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے تاحال اس شوکاز نوٹس پر کوئی باضابطہ یا تحریری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
