کاراکاس: وینزویلا میں آنے والے شدید اور تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1430 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے آفیشل بیان جاری کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 3238 افراد شدید زخمی ہیں جبکہ زلزلے کی تباہ کاریوں کے باعث 3142 افراد مکمل طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔
حکام نے انتہائی تشویشناک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے دبے اور لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 50 ہزار کے قریب ہے۔ ریسکیو ماہرین کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امید یعنی "گولڈن ونڈو” کا وقت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ختم ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ زلزلے کے ابتدائی 72 گھنٹوں کو "گولڈن ونڈو” کہا جاتا ہے جس میں زندگی بچنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ زلزلے کو 72 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، تاہم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال پوری قوت سے جاری ہے اور حال ہی میں ساحلی ریاست لا گوئیرا میں ملبے سے دو خواتین کو معجزاتی طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے۔
تباہی کی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وینزویلا کی قائم مقام صدر نے امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ ساحلی ریاست ‘لا گوئیرا’ کو عارضی طور پر فوجی کنٹرول میں دینے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر فیلڈ اسپتال بھی قائم کر دیے گئے ہیں جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی برادری بھی اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کی مدد کے لیے آگے آئی ہے۔ امریکہ، کولمبیا، چلی، میکسیکو، اسپین، فرانس، چین اور بھارت سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے وینزویلا کے لیے ہنگامی امدادی سامان، ماہر طبی عملہ اور خصوصی ریسکیو ٹیمیں روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو پے در پے ہولناک زلزلوں نے ریاست لا گوئیرا کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔





