حزب اللہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والا معاہدہ مسترد کر دیا، ملکی خود مختاری پر سودے بازی قرار

بیروت: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے حالیہ امن معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اپنے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ ’فریم ورک معاہدہ‘ لبنان کی قومی خود مختاری اور سالمیت کے صریحاً خلاف ہے اور اس کا مقصد لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں تجویز دی کہ موجودہ یکطرفہ معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی ڈیل کے تحت ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی سیکرٹری جنرل نے دوٹوک الفاظ میں اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک لبنان کی سرزمین سے ایک بھی اسرائیلی فوجی کا انخلا نہیں ہو جاتا، حزب اللہ اپنی مسلح مزاحمت اور دفاعی جنگ جاری رکھے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک متنازع معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے مکمل خاتمے تک اپنی فوج کو لبنانی حدود کے اندر ہی تعینات رکھ سکے گا۔ مزید برآں، لبنان اور اسرائیل نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا اور اس کے تمام فوجی و تنظیمی بنیادی ڈھانچے کا خاتمہ کیا جائے گا۔

اس متنازع معاہدے کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی لبنان کے مختلف شہروں میں شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے۔ دارالحکومت بیروت سمیت کئی بڑے شہروں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جہاں انہوں نے ٹائر جلا کر راستے بلاک کر دیے اور موجودہ لبنانی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اس معاہدے کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

Exit mobile version