سچ و حق پر قدغن قرآن کی مخالفت ھے

کالمکار: جاوید صدیقی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین و دستور کی شقوں کی ابتداء ہی دین اسلام اور ایمان سے شروع ہوتی ھیں۔ ہمارے آئین میں اللہ تبارک تعالیٰ کو قادر مطلق اور سپریم تسلیم کیا گیا ھے اور اسی کے احکام کو حکمِ آخر مانا گیا ھے، اِسی دستور و آئین میں رسولِ خدا ﷺ کو آخری نبی تسلیم اور ایمان کی شرط لاگو کی گئی ھے۔ آئین و دستور پاکستان میں قرآن کو مقدس ترین الہٰامی کتاب تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ قرآن کے احکامات کو ہی ملک و قوم کیلئے حرفِ آخر سمجھا اور تسلیم کیا گیا ھے۔ ان نقاط کو شامل کرنے کا مقصد و ارادہ و نظریہ یہی ھے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ھے لیکن پھر ایوان پارلیمیٹیرین کی رائے مشورے کو مقدم بنانے کیلئے اسے جمہوریت کا درجہ دیا گیا ھے تاکہ حالات و واقعات اور جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تحت دو تہائی اکثریت کیساتھ ریاست کے قوانین میں ترامیم کی جاسکے جوکہ ترامیم کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ھے، اب بازگشت سنائی دے رہی ھے اٹھائیسویں ترامیم کی کب اور کس وقت ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ھے۔۔۔ معزز قارئین!! ہمارا آئین و دستور دو خطوط یا حصوں پر مشتمل ھے۔ ایک دینِ محمدی ﷺ دوسرا جمہوریت یعنی عوامی منتخبین کی رائے، بات واضع ھے دین سے مراد قرآنی یعنی شرعی قوانین اور جمہوریت سے مراد عوام کے منتخب نمائندگان۔ پاکستان تاحال اپنے انتخابات کو صاف و شفاف اور منصف بنانے میں ناکام رھا ھے اسکی کئی وجوہات ہیں اول وہ سیاسی پارٹی جو ریاست میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں انتخابات میں کمزور سامنے والے امیدوار کو میدان سے فرار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں چاہے دھمکی سے چاہے دنگے فساد سے۔ دوسرا سیاسی جماعتیں بھی ایک ہی ٹریک پر سفر کرتی ہیں سیاسی رہنما انہیں ٹکٹ دیتے ہیں جو انکی خواہشات کا بہترین احترام اور انتظام کرسکیں یہی سبب ھے کہ شاد و نادر قدرتی معجزہ کے سبب کبھی آزاد امیدوار کامیاب ہوجائے۔ اس جمہوری طرز عمل کا ہمارے ملک میں سب سے زیادہ اثر و دباؤ نظر آتا ھے۔ میں کسی ایک کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا بس یہی کہتا ھوں کہ آج کمپیوٹر اور جدید سائنس اس قدر آگے جاچکی ھے کہ اب انتخابات کو کمپیوٹرائز نظام میں مروج کردینا چاہئے تاکہ عوام جنہیں منتخب کرنا چاہیں وہی انہیں ایوان کی سیٹ پر بیٹھے نظر آئیں اور وہ ملک و قوم کیلئے مثبت فلاحی پلاننگ پروجیکٹ کم لاگت کم وقت میں پائیدار مضبوط تیار کرکے پیش کرسکیں یہ کوئی ناممکن یا مشکل نہیں کیونکہ ہمارا پڑوسی دوست ملک چین ہمیں بہترین ٹیکنالوجی سے استوار کرسکتا ھے لیکن اس کیلئے ہمیں ایماندار دیانتدار سچااور مخلص کا ہونا شرط اول ھے۔ آج کراچی کی حالت کو دیکھ کر موجودہ اور سابقہ ذمہداروں میں خوبی نظر نہیں آتی اس کیلئے پڑھے لکھے دین دار نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اپنا ریاست کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ دنیا جانتی ھے کہ پاکستان میں قابلیت ذہانت اہلیت کی کمی نہیں بس اہل قابل ذہین نوجوانوں کو خدمت کا موقع ہی نہیں دیا جاتا ھے یہ میں نہیں کہتا ریکارڈ پر موجود ھے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبان کے نوٹس و بیان واضع دلیل ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن اپنی ساکھ کھو چکی ھے اور کمیشن میں اہلیت قابلیت ذہانت کو دفن کردیا گیاھے۔ میری تحریر کا مقصد کسی کی تذلیل یا حرمت پر ضرب ہرگز نہیں بلکہ حقیقت سے انکاری بھی ممکن نہیں جو حقائق نامہ ھے وہی پیش خدمت ھے اپنے معززین کیلئے۔ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ہماری اسمبلی میں شراب اور سود کے خلاف بل پیش کئے گئے تو حاصل نیتجہ کیا رھا آپ بخوبی واقف ہیں کہ چند ایک مسلمان پارلیمینٹیرین کا ردعمل کیا آیا آخرکار ان دونوں بلوں کو مسترد کردیا گیا دنیا پوچھتی ھے کہ اسلامی لکھنے کا پھر کیا مقصد یہ دوہراہ معیار اور منافقت نہیں تو پھر کیا ھے۔ ایک سچا صحافی نہ قدغن سے گھبراتا ھے نہ کسی ذاتی مفاد کے تحت بنائے گئے قانون کی پرواہ کرتا ھے وہ جانتا ھے کہ مر کر اسے اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا ھے وہ قرآن کے قوانین کیساتھ کھڑا رہتا ھے اور سچائی میں جام شھادت بھی نوش کرنے سے گھبراتا نہیں کیونکہ اللہ کی محبت اسکے ساتھ ہوتی ھے۔ یہ پاکستان لاکھوں سچے مسلمان ایمان یافتہ تحریک پاکستان کے مجاہدین کی قربانیوں سے بنا ھے یہ انہی کی امانت ھے اس ملک کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے نظریہ اور علامہ اقبال ؒ کے خواب کی تعبیر کے تحت ڈھالا جانا چائیے تاکہ ملک میں امن سلامتی خوشحالی اور ترقی نظر آئے۔ پیکا ایکٹ لگانے سے اللہ کے نظام کو نہیں بدل سکتے وہ مسلمان ہی نہیں جو سچائی ایمانداری دیانتداری قرآن و شریعت کیساتھ کھڑا نہ ہو۔ پیکا ایکٹ بل انہوں نے پاس کیا ھے جو سچ و حق کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں جو جھوٹ کو معتبر اور عزیز رکھتے ہیں اپنی خواہشات کو اللہ اور رسول ﷺ سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں یہ انکا عمل دین سے انحراف کے مترادف ھے یاد رکھئے کہ سچ و حق پر قدغن قرآن کی مخالفت بھی ھے جو رب کو شدید ناپسند بھی ھے ۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version