آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلویز مالی سال 2024-25 کے دوران شدید مالی خسارے کا شکار رہی، جس میں گزشتہ سال کی نسبت 9 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریلوے کی کل آمدنی 92.7 ارب روپے رہی جبکہ اخراجات 153 ارب روپے تک پہنچ گئے، جس سے آپریٹنگ نقصان 65 فیصد کی خطرناک سطح تک جا پہنچا۔ مالیاتی نظم و نسق کی خرابی اور انتظامی ناکامی کے باعث ادارہ مالی توازن برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔
مزید برآں، آڈٹ کے دوران ریلویز کی مختلف فارمیشنز میں 34.42 ارب روپے کی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریلویز انتظامیہ وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے لیے فراہم کردہ فنڈز کا بھی بروقت استعمال نہ کر سکی، جس سے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے بری طرح متاثر ہوئے۔ اثاثوں کی مالیت 515 ارب روپے ہونے کے باوجود ادارہ مسلسل دوسرے سال کسی قسم کی آمدنی پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے، جو اس کے طویل المدتی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
