مٹی کی نذر جذبے، زندگی کا المیہ اورریلوے پینشنرز کا نوحہ

تحریر: محمد انور بھٹی

شام کی لالی جب محلے کی پرانی نکڑ پر دم توڑ رہی تھی تو وہاں اگے اکیلے نیم کےدرخت کے سائے تلے بندن میاں بیٹھے تھے جن کی آنکھوں میں تیرتی وہ نمی پانی کی بوندیں نہیں بلکہ گزرے زمانوں کا نچوڑ اور کچے مکانوں میں بسنے والے پکے رشتوں کا نوحہ تھی چہرے کی جھریاں جیسے صدیوں کے ان کہے دکھوں کی لکیریں تھیں جن میں خاموشی کا ایک گہرا سمندر موجزن تھا اور جب میں نے قریب جا کر ان کی اس گہری اداسی کو ٹٹولنا چاہا تو انہوں نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے دھیمی مگر سحر انگیز آواز میں کہا کہ انور بھائی جب دل کے نہاں خانوں میں لفظ دم توڑ دیتے ہیں تو آنکھیں گفتگو کرتی ہیں اور جب یہ دیدے بھی تھک جائیں تو پھر خاموشی خود ایک فصیح زبان بن جاتی ہے ان کے لہجے میں کائنات کا وہ تلخ سچ تھا جو انہوں نے زندگی کی بھٹی میں جل کر سیکھا تھا اسی لیے سامنے سے گزرتے ہوئے ایک ایسے نوجوان کو دیکھ کر جو اپنے موبائل کی مصنوعی دنیا میں گم تھا اور اس کے بوڑھے باپ کے کانپتے ہاتھ میں لاٹھی تھی بندن میاں کا دل تڑپ اٹھا اور وہ کہنے لگے کہ اس مادی دوڑ میں سب سے سستا سودا بھی محبت کا ہے اور سب سے مہنگا نقصان بھی اسی کا ہے کیونکہ ہم ایک ایسی بستی کے باسی ہیں جہاں انسان کی سانسیں چل رہی ہوں تو اس کا وجود بوجھ لگتا ہے اور جب وہی سانسیں اکھڑ جائیں تو اس کے نام کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں حالانکہ وفاداری اور محبت کا حق مٹی کی ڈھیروں پر نہیں بلکہ زندگی کی شاہراہوں پر نبھائی جاتی ہے اور اس نوجوان کو شاید معلوم نہیں کہ جب یہ بوڑھے قدم رک جائیں گے تو وہ ان لمحوں کو ترسے گا جو آج اس کے پاس بالکل مفت ہیں۔ وہ کچھ دیر کو رکے تو ان کی نظروں کے سامنے پاکستان ریلویز کے ان بوڑھے اور لاچار پینشنرز کے چہرے گھوم گئے جنہوں نے عمر بھر تپتی دھوپ اور کڑکتی سردی میں ریل کی پٹریوں اور لوہے کے ان ہیوی انجنوں کے ساتھ اپنی جوانی کے بہترین سال اس امید پر دفن کر دیے تھے کہ آخری عمر میں یہ ادارہ ان کا سہارا بنے گا مگر اب حالت یہ ہے کہ انہیں ریٹائر ہوئے تین تین سال بیت چکے ہیں لیکن تاحال ان کے ریٹائرمنٹ کے جائز بقایاجات اور گریجویٹی کی ادائیگی نہیں ہو پا رہی ہےاور اس سے بھی بڑا المیہ ان بدنصیب ملازمین کا ہے جو دورانِ سروس ہی زندگی کی بازی ہار گئے اور آج ان کی بیوائیں اور یتیم بچے اپنے ہی شوہروں اور باپ کی حلال کمائی کے ڈیوز حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر کسمپرسی کی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بندن میاں کی آواز کی کسک اب گہرے دکھ میں بدل چکی تھی جب انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت وقت بلند بانگ دعوے کرتی ہے کہ وہ ایک غریب پرور حکومت ہے مگر دوسری طرف ان سفید پوش بوڑھوں اور یتیموں کی داد رسی کے لیے کسی کے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہے۔زندگی میں ان بوڑھے ملازمین کو دوا اور روٹی کے لیے ایک ایک پیسے کا محتاج رکھنے والے کل ان کے مرنے کے بعد بڑے بڑے فاتحہ خوانی کے انتظام کریں گے اور تعزیتی پیغامات لکھیں گے کیونکہ ہم نے احساس کو دکھاوے کی رسم بنا دیا ہے وہ اپنے دفاتر اور پینشن سیل کے چکر کاٹتے ان بوڑھے جفاکشوں کی داستانِ الم سناتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لوہے کے دیوقامت ڈیزل اور الیکٹرک انجنوں کے کیبن میں بیٹھ کر پچاس پچاس ڈگری سمر ٹمپریچر میں سینکڑوں میل کا سفر طے کیا وہ لوکو موٹیو ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور جن کی آنکھیں تپتی ہوئی دوپہروں اور کالی اندھیری راتوں میں تیز رفتار ٹرین کے سامنے میلوں دور پھیلی پٹریوں پر جمی رہتی تھیں تاکہ ہزاروں مسافروں کو ان کی منزلوں تک بحفاظت پہنچایا جا سکے ان ڈرائیوروں اور اسسٹنٹ ڈرائیوروں کی زندگی تو ہائی وولٹیج لائٹ، انجن کی شدید وائبریشن اور مسلسل اعصابی تناؤ کا نام ہے جہاں ایک سیکنڈ کی غفلت سینکڑوں جانوں کے زیاں کا سبب بن سکتی ہے ان کے ساتھ ہی وہ ٹرین انچارج گارڈ جو گاڑی کے آخری حصے میں اکیلا بیٹھا پوری ٹرین کے نظام، مسافروں کے تحفظ اور سگنلز کی نگرانی کرتا ہےجس کی راتیں سفر کی دھول اور دن ہنگاموں کی نذر ہو جاتے ہیں اور وہ کیرج اینڈ ویگن اسٹاف جو اسٹیشنوں کے یارڈز میں گاڑیوں کے نیچے گھس کر گرم لبریکینٹس، بریک بلاکس اور وہیل ایکسلز کی تپش کو اپنے چہرے پر جھیلتا ہے تاکہ سفر کے دوران کوئی وہیل جام نہ ہو، کوئی حادثہ جنم نہ لے۔ بندن میاں نے اپنے ہاتھ کے لرزتے ہوئے اشارے سے سگنل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ انور بھائی، ان پوائنٹس مینوں کو دیکھو جو کڑکتی دھوپ، طوفانی بارشوں اور ہڈیوں کو جما دینے والی سرد راتوں میں بھی ننگے آسمان تلے ہاتھوں میں لال اور ہری جھنڈیاں اور لیمپ تھامے پٹریاں بدلنے کے لیے مستعد کھڑے رہتے ہیں اگر ان کا ایک قدم لڑکھڑا جائے یا ایک پوائنٹ غلط لگ جائے تو پوری ٹرین لوہے کا ملبہ بن جائے مگر ان کی اس قربانی کی قیمت اس نظام کے پاس کیا ہے اور وہ گینگ مین جو خون جما دینے والے جاڑوں اور جھلسادینے والی لُو میں میلوں لمبی پٹریوں پر لوہے کے بھاری ہتھوڑے اور اوزار کندھوں پر اٹھائے پیٹرولنگ کرتے ہیں ٹریک کی مرمت کرتے ہیں جن کے تلوے گرم لوہے پر چل چل کر تپ جاتے ہیں اور جن کے ہاتھوں کے چھالے کبھی نہیں سوکھتے یہ وہ گمنام ہیرو ہیں جنہوں نے پاکستان ریلویز کی ساکھ کو اپنے خون اور پسینے سے بحال رکھا ہے مگر افسوس کہ ان کی اپنی زندگی کا ٹریک اکھڑ چکا ہے ان کی یہ محنت اور مشقت صرف ڈیوٹی نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال قربانی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ملازمین اپنے رشتہ داروں، اپنے جگر گوشوں، بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے سینکڑوں میل دور تنہائی کے مہیب سائے میں دن رات کاٹتے ہیں جب پورا ملک اپنے گھروں میں عید کی خوشیاں منا رہا ہوتا ہے جب شبِ برات کی رونقیں آنگنوں کو جگمگا رہی ہوتی ہیں اور جب عید الاضحیٰ پر لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ مل کر قربانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اس وقت یہ ریلوے ملازمین اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو ترستے ہوئے ریل کے پہیوں کو رواں رکھنے کے لیے کسی دور درازویران اسٹیشن پر ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں انہوں نے اپنی تمام ذاتی خوشیاں، اپنے دکھ درد اور اپنے جذبوں کو اس محکمے کی نذر کر دیا عید کی صبح جب ان کا بچہ نئے کپڑے پہن کر اپنے باپ کی کمی محسوس کرتا ہے تو وہ تنہا باپ کسی بیابان ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑا وائرلیس پر اگلی ٹرین کی آمد کا سگنل چیک کر رہا ہوتا ہے اس کے دل کے اندر جو درد اٹھتا ہے وہ صرف وہی جانتا ہے انہوں نے اپنے خاندانوں کی خوشیاں اس لیے قربان کیں تاکہ قوم اپنے پیاروں سے عید ملنے جا سکے مگر اس صلے میں ریاست نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ریٹائرمنٹ کے بعد تین تین سال تک ان کے جائز بقایاجات، ان کی کمیوٹیشن اور گریجویٹی کی رقم کو روک کر انہیں فاقہ کشی پر مجبور کر دیا گیا ہے ایک ایسا ملازم جو پینتیس سال تک ریلویز کا پہیہ چلاتا رہا آج وہ اپنے ہی پیسوں کے لیے کلرکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے پینشنر ہونا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی سند ہے کہ اس انسان نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اس ملک کی خدمت میں گزار دیا مگر یہاں کا پینشن سیل ان بزرگوں کے لیے کسی عقوبت خانے سے کم نہیں جہاں روزانہ ان کی عزتِ نفس کو کچلا جاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا منظر ان بیواؤں کا ہے جن کے سہاگ دورانِ سروس محکمے کی خدمت کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئے ان بیواؤں کے پاس اب نہ تو کوئی مستقل سہارا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا کوئی وسیلہ، وہ معصوم یتیم بچے جو کبھی اپنے باپ کی گود میں بیٹھ کر عید کی خوشیاں منانے کے خواب دیکھا کرتے تھے آج ان کے واجبات اور ڈیوز نہ ملنے کے سبب کسمپرسی اور انتہائی کٹھن زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کے گھروں کی چھتیں ٹپک رہی ہیں ان کے پاس اسکول کی فیس دینے کے پیسے نہیں ہیں اور وہ افلاس کے اس اندھیرے کنویں میں گر چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔بندن میاں کا لہجہ اب درد کی اس انتہا کو چھو رہا تھا جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف دل تڑپتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جو ہر روز ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر آ کر دعوے کرتی ہے کہ وہ غریب پرور ہے وہ غریبوں کی ہمدرد ہے اس کی غریب پروری کے تمام دعوے ان بیواؤں کے آنسوؤں اور یتیموں کی آہوں کے سامنے اڑتے ہوئے غبار کی طرح اڑ جاتے ہیں اگر یہ حکومت واقعی غریب پرور ہے تو پھر ان پینشنرز کو ان کا حق کیوں نہیں ملتا کیوں ایک بوڑھے باپ کو اپنی بیٹی کی رخصتی کے لیے قرض داروں کے پاؤں پڑنا پڑتا ہے کیوں ایک بیمار پینشنر کو ہسپتال کی دہلیز پر دوا نہ ملنے کے باعث دم توڑنا پڑتا ہے یہ کیسی غریب پروری ہے جو صرف فائلوں اور تقریروں تک محدود ہے اور عملی طور پر غریب کا خون نچوڑنے کا سبب بن رہی ہے رشتوں کا احترام اور احساس صرف مرنے کے بعد کی رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ جیتے جی انسان کو اس کا جائز حق دینا ہی اصل محبت ہے ہم نے اس معاشرے میں محبت کو احساس نہیں بلکہ ایک تماشا اور دکھاوے کی رسم بنا دیا ہے جب تک یہ ملازمین زندہ رہتے ہیں ہم ان کی خدمات کو تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں ان کے حقوق دباتے ہیں ان کی فائلیں روکتے ہیں اور جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کی ایمانداری کے گن گاتے ہیں ان کی تصاویر پر پھول چڑھاتے ہیں اور ان کے نام کے تعزیتی جلسے منعقد کرتے ہیں اور قسمت کا لکھا بیان کرکے بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔ بندن میاں نے کہا کہ یہ منافقت اب بند ہونی چاہیے انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دشمن کے ظلم سے نہیں بلکہ اپنوں کی بے حسی اور اپنے ہی ادارے کی بے اعتنائی سے ہوتی ہے پاکستان ریلویز ان کا اپنا ادارہ تھا جس کے لیے انہوں نے اپنا خون بہایا مگر اسی ادارے کے مقتدر حلقوں نے ان کی وفاداری کا یہ صلہ دیا کہ انہیں بڑھاپے میں بے سہارا چھوڑ دیا ۔ اب سورج پوری طرح افق کے پار جا چکا تھا اور محلے کی نکڑ پر اندھیرے کا راج ہو رہا تھا مگر بندن میاں کی باتوں سے نکلنے والی حق کی سچائی کی روشنی ماحول میں ایک عجیب سا ارتعاش پیدا کر رہی تھی انہوں نے اپنی لاٹھی کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے آخری اور سبق آموز بات کہی کہ انور بھائی قبرستانوں میں سوئے ہوئے لوگوں کو ہمارے آنسوؤں سے زیادہ ہماری اصلاح کی ضرورت ہے وہ ہمیں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ جو انصاف کرنا ہے آج کر لو جو حق دینا ہے آج دے دو جو محبت جتانی ہے ابھی جتا لو کیونکہ کل جب سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جائے گی تو تمہارے پچھتاوے، تمہاری تعزیتی پوسٹیں اور تمہاری دیگیں ان مظلوموں کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ زندگی بہت مختصر ہے اور قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے اس لیے اگر ہم اپنے معاشرے کو ایک حقیقی انسانی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان جیتے جاگتے بزرگوں، ان بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہوگی ان کے چہروں پر مسکراہٹ واپس لانی ہوگی اور ان کے جائز حقوق ان کی زندگی میں ان تک پہنچانے ہوں گے کیونکہ انسان کی اصل پہچان مرنے کے بعد بہائے گئے آنسو نہیں بلکہ اس کی زندگی میں دی گئی عزت، تکریم اور اس کا جائز حق ہے۔
ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ وقت کی ریت ہاتھوں سے پھسل رہی ہے اور جو لوگ آج اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو کر ان غریب پینشنرز اور بیواؤں کی فائلوں کو دبا کر بیٹھے ہیں۔اور جو طاقت ہمت اور قوت رکھنے کے باوجود ان کے لیے حق کی جنگ لڑنے سے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے کترا رہیں ہیں اور صرف اپنے ذاتی فوائد کے لیے ان کو ڈھال بنائے ہوئے ہیں انہیں بھی ایک دن اسی مٹی کے نیچے جانا ہے جہاں کوئی لیڈری کوئی وزارت بیوروکریسی اور کوئی عہدہ کام نہیں آئے گا۔ وہاں صرف ان کے اعمال اور ان کے ہاتھوں ہونے والے ظلم کا حساب ہوگا کاش کہ یہ مقتدر حلقے اور حکومت کے دعویدار اس سچائی کو سمجھ سکیں اور ان لاچار انسانوں کی داد رسی کر سکیں تاکہ یہ بوڑھے ہاتھ جب دعا کے لیے اٹھیں تو ان میں بددعا کے بجائے اس ملک کی سلامتی کے لیے التجا ہو بندن میاں کی یہ باتیں دل پر ایک گہرا زخم چھوڑ گئیں جو ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں کے درد کو محسوس کریں اور ان کے جیتے جی ان کے کام آئیں یہی وہ اصل سبق ہے جسے اگر ہم نے آج نہ سیکھا تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور ہم پچھتاووں کے اس سمندر میں ڈوب جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، رشتوں کی شادابی، بزرگوں کا مان اور مظلوم کی دادرسی ہی اس کائنات کا حسن ہے اور اسی حسن کو برقرار رکھنا ہم سب کا اولین فرض ہے۔
چنانچہ ریلویز کے ان ڈرائیوروں، گارڈز، پوائنٹس مینوں اور گینگ مینوں کی قربانیوں کا قرض اتارنے کا وقت اب آ چکا ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور ان کی سفید داڑھیاں پچھتاوے کے آنسوؤں سے مزید تر ہوں ریاست کو اپنے غریب پرور ہونے کا ثبوت عملی طور پر دینا ہوگا ان کی پینشن اور بقایاجات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ان کے گھروں کے ٹھنڈے چولہے پھر سے جل سکیں اور ان کے یتیم بچوں کے چہروں پر بھی عید کی حقیقی مسکراہٹ لوٹ آئے کیونکہ مردہ جسموں پر منوں مٹی ڈالنے کے بعد تعزیت کے دو بول بولنا بہت آسان ہے مگر اصل کمال یہ ہے کہ جیتے جی کسی گرتے ہوئے انسان کا ہاتھ تھام لیا جائے اور اس کے آنسوؤں کو پونچھ کر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس معاشرے کا ایک معزز اور قیمتی اثاثہ ہے یہی بندن میاں کا وہ پیغام تھا جو محلے کی اس اندھیری نکڑ سے اٹھ کر اب پورے فضائے آسانی پر ایک سچے اور ابدی منشور کی طرح گونج رہا تھا اور میرے دل کے اندر یہ یقین پختہ کر رہا تھا کہ انسانیت کی بقا صرف اور صرف جیتے جی انسان کی قدر کرنے میں ہی پوشیدہ ہے

Exit mobile version