اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے غزہ میں بچوں کے خلاف مبینہ مظالم پر جاری کردہ ہولناک رپورٹ نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جو جنگی جرائم اور ممکنہ طور پر نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں دل دہلا دینے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک واقعے میں ماں کی گود میں دودھ پیتے محض 10 دن کے نومولود بچے کو گولی مار کر شہید کیا گیا، جبکہ ایک چار سالہ بچی خیمے کے اندر سر پر گولی لگنے سے مستقل معذور ہو گئی۔ کمیشن کے مطابق، اسرائیلی افواج نے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز کا استعمال کیا، جو گلیوں اور پناہ گزین کیمپوں پر منڈلاتے ہوئے کسی بھی متحرک انسان پر مشینی شکاریوں کی طرح اندھا دھند فائرنگ کرتے تھے۔
اس رپورٹ پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں یورپی پارلیمنٹ کے رکن بیری اینڈریوز نے معصوم بچوں کو نشانہ بنانے کے عمل پر گہری تشویش ظاہر کی، وہیں ایرانی تجزیہ کار سید محمد مرندی نے کہا کہ نسل کشی کو مسترد کرنے والوں کو اب اس رپورٹ کا جواب دینا ہوگا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے نتائج پر گہرے صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں 20 ہزار سے زائد بچوں کی شہادت ہمارے اجتماعی انسانی ضمیر پر ایک سیاہ داغ ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ان مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ان جرائم کی حقیقی قیمت چکانے پر مجبور کرے۔ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اسے اقوامِ متحدہ کی تاریخ کی سب سے چشم کشا اور سنگین رپورٹ قرار دیا ہے، تاہم اسرائیل نے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے ان تمام الزامات کو مسترد کر کے رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا ہے۔
