لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے پے در پے شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.1 تھی، جس کے چند منٹ بعد ہی 7.5 شدت کا دوسرا ہولناک جھٹکا محسوس کیا گیا، جس سے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس زلزلے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے مائی کیٹیا کے مرکزی ایئرپورٹ کی تباہی، 188 افراد کے جاں بحق اور 1500 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے ہلاکتوں میں ہولناک اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے 1 لاکھ کے درمیان پہنچنے کا ہولناک خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ اسی دوران امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی 5.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا جہاں 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اس بڑے سفارتی اور انسانی بحران پر عالمی برادری فوری طور پر وینزویلا کی مدد کے لیے آگے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زلزلے کی ابتدائی رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اور انہوں نے امریکی اداروں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے زلزلے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کو ہر قسم کی امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ادھر یورپی ملک اسپین نے بھی متاثرین کی بحالی اور ریسکیو آپریشن کے لیے اپنی فوج کا خصوصی دستہ بھیجنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ ہسپانوی وزارتِ دفاع کے مطابق خصوصی تربیت یافتہ کتوں، جیو فونز اور ریسکیو کیمروں سے لیس 54 فوجی اہلکار فوری طور پر وینزویلا روانگی کے لیے تیار ہیں۔
