تحریر: محمد انور بھٹی
لیکن اب اس مادی دور میں اکثر لوگ دوسروں کی کمزوریوں، ان کی لغزشوں اور ان کی مجبوریوں کو اپنی محفلوں کی تفریح اور تمسخر کا ذریعہ بنا چکے ہیں اور رہی سہی کسر اس جدید دور کے سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جس نے اس اخلاقی اور نفسیاتی بیماری کو وبا کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا ہے جہاں لوگ اپنے کمپیوٹر اور موبائل کی اسکرینوں کے پیچھے چھپ کر دوسروں کی ذاتی زندگیوں، ان کی لغزشوں اور ان کی خطاؤں پر اس طرح سفاکانہ تبصرے اور تضحیک آمیز جملے کستے ہیں جیسے وہ خود معصوم عن الخطا ہوں اور ان کا تعلق فرشتوں کی کسی اعلیٰ نسل سے ہو جن سے زندگی میں کبھی کوئی گناہ یا غلطی سرزد ہی نہیں ہو سکتی اور اسی تلخ حقیقت پر بندن میاں نے اپنی مخصوص طنزیہ اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ بھئی ہمارے ہاں تو اب بعض لوگ ایسے دیدہ ور بن چکے ہیں جو اگر کسی انتہائی خوبصورت، سرسبز اور شاداب باغ میں بھی چلے جائیں جہاں سینکڑوں اقسام کے رنگ برنگے اور خوشبودار پھول کھلے ہوں تو وہ ان تمام پھولوں کے حسن اور خوشبو کو یکسر نظر انداز کر کے پورے باغ میں صرف ایک سوکھا ہوا پتا یا کوئی کچرا تلاش کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں تاکہ وہ اس ایک سوکھے پتے کو ہوا میں لہرا کر اور دنیا کو دکھا کر یہ ثابت کر سکیں کہ یہ پورا باغ ہی خراب، اجڑا ہوا اور ناقص ہے حالانکہ ایک دانشمند، عاقل اور اعلیٰ ظرف انسان کبھی بھی ایک سوکھے ہوئے پتے یا ایک عیب کو دیکھ کر اس پورے باغ کے حسن، اس کی شادابی اور اس کی رعنائی کا انکار نہیں کرتا کیونکہ جدید سائنسی اور نفسیاتی تحقیقات بھی یہ واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مثبت سوچ، رجائیت اور اچھائی کا پہلو برقرار رکھتے ہیں وہ نہ صرف خود ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ خوش، مطمئن اور صحت مند رہتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کی خوبیوں سے مسلسل سیکھتے ہیں ان کا اعتراف کر کے اپنے سماجی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں اور اپنی زندگی کو پسماندگی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس جو لوگ منفی سوچ کے اسیر ہوتے ہیں اور ہر وقت دوسروں کے عیبوں، خامیوں اور نقصانات کی فہرستیں تیار کرنے میں الجھے رہتے ہیں وہ نہ صرف اپنے اندر حسد کا زہر بھرتے ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے تمام بہترین مواقع بھی ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں کیونکہ جو شخص ہر وقت دوسروں کی خامیوں کی کتاب پڑھنے میں مصروف رہے گا اسے اپنی ذات کے اندر جھانکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی کبھی مہلت ہی نہیں مل پائے گی اور اس کائناتی سچائی کو سمجھنے کے لیے بندن میاں نے ایک محنتی کسان کی خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک کسان اگر اپنی لہلہاتی ہوئی فصل میں اگنے والی چند خودرو جڑی بوٹیوں کو ہی دیکھ کر مایوس ہوتا رہے اور ان جڑی بوٹیوں کے خوف سے اپنی اصل فصل کو پانی دینا اور اس کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ دے تو آخرکار اس کی وہ پوری زرخیز فصل ہی تباہ و برباد ہو جائے گی لیکن اگر وہ دانا کسان ان جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اچھی پنیری، مضبوط پودوں اور صحت مند فصل کی حفاظت کرے، انہیں وقت پر پانی دے اور انہیں پروان چڑھائے تو اس کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور یہی سنہری اور لافانی اصول انسانی معاشرے اور باہمی تعلقات پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہےکہ اگر ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کی خوبیوں، ان کی نیکیوں اور ان کی صلاحیتوں کو ابھاریں گے، ان کا چرچا کریں گے تو معاشرہ اچھائی کی طرف راغب ہوگا اور اگر ہم صرف اور صرف عیب تلاش کرنے اور انہیں اچھالنے کے عمل میں مگن رہیں گے تو معاشرے میں نفرتیں، دوریاں، حسد اور بدگمانیاں اس طرح بڑھتی چلی جائیں گی کہ پورا سماجی ڈھانچہ ہی منہدم ہو جائے گا اور اگر ہم تاریخِ عالم کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام بڑے رہنما، مصلحین، انبیاء اور اولیاء کرام اسی لیے انسانی قلوب کو فتح کرنے اور معاشروں میں انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ انسانوں کے اندر مایوسی کے بجائے امید کی شمع جلائی، انہوں نے انسانوں کے عیبوں پر پردہ ڈال کر ان کے اندر چھپی ہوئی خوبیوں اور اچھائیوں پر کامل یقین کیا، انہوں نے ظاہری طور پر کمزور اور ناتواں لوگوں کے اندر چھپی ہوئی اخلاقی طاقت کو دیکھا، ناامید اور ہارے ہوئے دلوں میں امید کی نئی روح پھونکی اور شکست خوردہ انسانوں میں کامیابی اور رفعت کی صلاحیت کو بیدار کیا اور اگر وہ عظیم ہستیاں بھی عام لوگوں کی طرح صرف عیب تلاش کرنے، ان کی خطاؤں پر انہیں رسوا کرنے اور ان کی خامیوں کی فہرستیں بنانے بیٹھ جاتیں تو شاید انسانی تاریخ آج ان کے عظیم ناموں، ان کے کارناموں اور اخلاقی انقلاب کے تذکروں سے بالکل خالی ہوتی اور جب میں نے بندن میاں سے یہ سوال کیا کہ کیا پھر انسان کو معاشرے میں موجود برائیوں، غلطیوں اور عیبوں کی نشاندہی بالکل نہیں کرنی چاہیے اور کیا خاموش تماشائی بنے رہنا چاہیے تو انہوں نے تڑپ کر جواب دیا کہ نہیں میرے پیارے بھائی عیب کی نشاندہی اور برائی کی روک تھام تو ایک زندہ معاشرے کی بنیادی نشانی ہے اور یہ ضرور کرنی چاہیے لیکن اس عمل کے پیچھے انسان کی نیت صرف اور صرف اصلاح، خیرخواہی اور بہتری کی ہونی چاہیے نہ کہ کسی کو ذلیل و رسوا کرنے، اس کی تذلیل کرنے یا اپنے کسی ذاتی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کیونکہ جب مقصد کسی کی اصلاح اور معاشرے کی بہتری ہوگا تو بات کرنے کا لہجہ محبت، شفقت اور مٹھاس سے بھرپور ہوگا نہ کہ نفرت، طنز اور حقارت سے اور کسی دوسرے انسان کو اس کا عیب اس تنہائی میں بتانا جہاں کوئی تیسرا موجود نہ ہو اور اس نیت سے بتانا کہ وہ اپنی اصلاح کر لے یہ تو حقیقی خیرخواہی اور مومن کا شیوہ ہے لیکن کسی کے عیب کو سرِعام اچھالنا، محفلوں میں اس کا مذاق اڑانا اور اسے نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرنا خود انسانیت کا ایک بہت بڑا عیب اور اخلاقی جرم ہے اور اس گہری گفتگو کے بعد بندن میاں کچھ دیر کے لیے بالکل خاموش ہو گئے اور ان کی نظریں دور افق پر گرتی ہوئی شام کے سائے پر جم گئیں پھر انہوں نے ایک گہری آہ بھری اور بولے کہ میں نے اپنی اس طویل زندگی میں ایسے عالی ظرف اور فرشتہ صفت لوگ بھی دیکھے ہیں جو دوسروں کی انتہائی معمولی، چھوٹی اور غیر اہم خوبی کو بھی اس طرح دل کھول کر سراہتے ہیں اور اس کی اس طرح حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ان کے وہ چند تعریفی اور محبت بھرے الفاظ کسی مایوس، ہارے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جینے کی امید دے دیتے ہیں، کسی ناکام انسان کو زندگی کے معرکے میں دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ عطا کر دیتے ہیں کیونکہ تعریف اور محبت کے چند سچے، مخلصانہ اور بے غرض الفاظ کبھی کبھی انسان کی زندگی میں وہ عظیم معجزہ کر جاتے ہیں جو برسوں کی خشک نصیحتیں، ملامتیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں کر پاتیں اور اگر ہمارے معاشرے کا ہر فرد صرف یہ ایک پختہ عادت ڈال لے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اردگرد کے ماحول سے، اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ سے، اپنے دفتر میں اپنے ساتھی ملازمین سے، اپنے محلے میں اپنے پڑوسیوں سے اور اپنی قوم میں کسی بھی شخص سے صرف ایک اچھائی، ایک خوبی یا ایک نیک عمل تلاش کرے گا اور اس کا اعتراف کرے گا تو یقین جانو کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے معاشرے کی یہ حبس زدہ فضا محبت، امن اور سکون کے معطر جھونکوں میں بدل سکتی ہے کیونکہ یہ ایک عالمگیر نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان جس چیز کو اپنی زندگی میں شدت کے ساتھ تلاش کرتا ہے اور جس پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے آخرکار اسے کائنات میں وہی چیز سب سے زیادہ نظر آنے لگتی ہے اور اگر ہم عیب تلاش کریں گے تو ہمیں ہر طرف برائی ہی برائی نظر آئے گی اور اگر ہم خوبی تلاش کریں گے تو ہمیں ہر انسان کے اندر حسنِ اخلاق کے جلوے دکھائی دیں گے پھر بندن میاں نے انتہائی عقیدت اور عاجزی کے ساتھ آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھائیں اور بڑے رقت آمیز لہجے میں کہنے لگے کہ ذرا اس کائنات کے مالک اور خالقِ حقیقی کی صفتِ ستاری اور غفاری کو تو دیکھو جو اپنے بندوں کے دن رات کے بے شمار گناہوں، عیبوں اور نافرمانیوں کو دیکھنے کے باوجود ان پر فوری گرفت نہیں فرماتا، ان کا رزق بند نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں معاشرے میں رسوا کرتا ہے بلکہ وہ تو اپنے بندوں کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انہیں توبہ، رجوع اور اپنی اصلاح کرنے کے بے شمار مواقع اور مہلت عطا فرماتا ہے تو اگر وہ کائنات کا خالق، مالک اور حاکمِ مطلق ہونے کے باوجود اپنے گناہ گار بندوں کے ساتھ اتنا کرم، اتنی نرمی اور اتنی چشم پوشی کا معاملہ فرماتا ہے تو پھر اس کی عاجز اور خطاکار مخلوق کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے عیبوں کی جاسوسی کرے، ان کی کمزوریوں کو اچھالے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے بیج بوئے بلکہ انسانوں کو تو ایک دوسرے کے ساتھ رحم، درگزر، عفو اور محبت کا رویہ اپنانا چاہیے اب شام پوری طرح ڈھل چکی تھی چائے کے کھوکھے پر بلب روشن ہو چکے تھے اور ہماری پیالیوں میں موجود چائے بالکل ٹھنڈی ہو چکی تھی جب بندن میاں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو میں نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے آخری سوال کیا کہ بندن میاں پھر آج کی اس طویل اور گہری تحقیق کا حتمی نتیجہ اور خلاصہ کیا نکلا تو انہوں نے اپنے چہرے پر ایک عمیق اور لافانی مسکراہٹ سجاتے ہوئے انتہائی خوبصورت جواب دیا کہ میرے عزیز اس پوری تحقیق کا حاصل اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس دنیا میں اچھے، مخلص اور مثبت لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے بس بنیادی مسئلہ اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی بدگمانی اور تنگ نظری کے باعث ان اچھائیوں اور اچھے لوگوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے ہم سب معاشرے میں عیبوں کے سفاک شکاری تو بن گئے ہیں لیکن خوبیوں کوپرکھنے والے اور ان کی قدر کرنے والے جوہری نہیں رہے حالانکہ ایک سچا اور ماہر جوہری وہی ہوتا ہے جو پتھروں اور مٹی کے بڑے ڈھیر میں سے بھی اپنی گہری نظر اور مہارت کے بل بوتے پر قیمتی ہیرا تلاش کر لیتا ہے اور جاتے جاتے بندن میاں نے ایک ایسا لافانی جملہ کہا جو ہمیشہ کے لیے میرے دل و دماغ پر نقش ہو گیا کہ یاد رکھو کسی بھی انسان کی حقیقی عظمت، اس کی رفعت اور اس کے کردار کی بلندی اس بات میں ہرگز پنہاں نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے اندر سے کتنے عیب، کتنی خامیاں اور کتنے نقصانات تلاش کر لیتا ہے بلکہ انسان کی اصل عظمت تو اس بات میں ہے کہ وہ دوسروں کی ذات میں بظاہر چھپی ہوئی کتنی خوبیاں، صلاحیتیں اور اچھائیاں پہچان لیتا ہے کیونکہ کسی کا عیب اور نقص ڈھونڈنا تو صرف ظاہری آنکھ کا کام ہے جو ہر عام اور سطحی انسان کر سکتا ہے لیکن کسی انسان کی خوبی، اس کی نیکی اور اس کی تڑپ کو ڈھونڈنا دراصل دل کا کام ہے اور جن معاشروں کے دل زندہ، بیدار اور روشن رہتے ہیں وہی معاشرے دنیا میں حقیقی ترقی کرتے ہیں، وہی محبتیں بانٹتے ہیں اور وہی تاریخ کے صفحات میں ابدی عزت اور بقا پاتے ہیں اور یہی اس پوری فکر انگیز تحریر کا اصل حاصل، نچوڑ اور پیغام ہے کہ اگر ہم واقعی ایک بہترین، پرامن اور خوشحال خاندان، ایک مثالی اور مربوط معاشرہ اور ایک عظیم و غیور قوم تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اب اپنے چہروں سے بلاجواز تنقید، حسد، بغض اور عیب جوئی کے سیاہ شیشے اتار پھینکنے ہوں گے اور ان کی جگہ انصاف، حقیقت پسندی، عفو و درگزر اور محبت کی روشن عینک پہننی ہوگی تاکہ ہم دوسروں کی چھوٹی لغزشوں اور خطاؤں کو سوشل میڈیا اور محفلوں میں اچھال کر تماشا بنانے کے مہلک رویے سے تائب ہو سکیں اور اس کے بجائے ان کے اندر چھپی ہوئی حقیقی صلاحیتوں، جذبوں اور اچھائیوں کو پہچان کر ان کی سرپرستی کر سکیں کیونکہ جب تک ہم عیبوں کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے معاشرہ نفرت کی آگ میں جلتا رہے گا اور جیسے ہی ہم خوبیوں کی اس الٰہی اور فطری روشنی میں قدم رکھیں گے تو پورا معاشرہ امن اور آشتی کا گہوارہ بن جائے گا کیونکہ خوبی تلاش کرنے والا انسان ہمیشہ امید، تعمیر اور زندگی پیدا کرتا ہے جبکہ عیب تلاش کرنے والا انسان معاشرے میں صرف مایوسی، تخریب اور نفرت کا زہر پھیلاتا ہے اور اب یہ انتخاب کلی طور پر ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے کہ ہم اس گلشنِ سوسائٹی میں خوبیوں کی خوشبو اور روشنی بانٹنے والے سچے جوہری بننا چاہتے ہیں یا پھر عیبوں کے سوداگر بن کر اندھیروں کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں اور یقیناً ایک بہتر اور صالح معاشرے کی تعمیر کے لیے ہمیں خوبیوں کا جوہری بننا ہی ہوگا۔
