گندم خریداری میں تاریخی اصلاحات، باردانہ کلچر کا خاتمہ اور محکمہ خوراک کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا اعلان، وزیر خوراک سندھ کا سندھ اسمبلی میں اظہار خیال

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان نے سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک متوازن، عوام دوست اور ترقی پسند بجٹ پیش کیا ہے جو عوامی فلاح، معاشی استحکام، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور کم از کم اجرت میں اضافہ عوامی مفاد میں اہم فیصلہ ہے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ کراچی سے کشمور اور تھر سے سکھر تک ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں تاریخی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح صوبے کے ہر شہری تک ترقی، خوشحالی اور امید کا پیغام پہنچانا ہے۔ وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ سندھ قومی معیشت، توانائی، صنعت اور تجارت کا مرکز ہے اور این ایف سی ایوارڈ، گیس رائلٹی اور دیگر آئینی حقوق صوبے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو نعرے نہیں بلکہ کارکردگی اور مسائل کا حل چاہیے اور سندھ حکومت عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ پہلی بار گندم کی خریداری ہاری کارڈ رکھنے والے کاشتکاروں سے براہ راست کی گئی اور پورے عمل میں ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو سندھ بینک کے ذریعے براہ راست اور شفاف ادائیگیاں کی گئیں جس سے خریداری کے نظام پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ پہلی بار باردانہ خریداری کے روایتی نظام کو ختم کرکے اس کی لاگت گندم کے امدادی نرخ میں شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں باردانہ کلچر شکایات، بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور منفی تاثر کا سبب بنتا تھا جبکہ اس نظام میں کرپشن کے خدشات بھی موجود رہتے تھے، نئی پالیسی کے ذریعے ان تمام امکانات کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ باردانہ کلچر کے خاتمے سے کاشتکاروں کو سہولت ملی ہے اور گندم خریداری کے عمل میں شفافیت کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور بہت جلد اس حوالے سے عوام کو بڑی خوشخبری دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم خریداری، ادائیگیوں، اسٹاک مینجمنٹ اور مالیاتی نظام کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے منسلک کیا جا رہا ہے جبکہ کسان رجسٹریشن سے گندم ریلیز تک تمام مراحل میں شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ محکمہ خوراک میں کرپشن، خردبرد اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے اور گندم کرپشن و چوری میں ملوث 100 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جن میں 20 افسران کو ملازمت سے برطرف، 21 کو معطل جبکہ 61 کے خلاف شوکاز کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کرائے جائیں گے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے جبکہ ڈیجیٹل انسپیکشن، ای چالان اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز فوڈ سیفٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر میں جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور موبائل لیبارٹریز کے ذریعے فوڈ سرویلنس کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت فوڈ سیفٹی کو عوامی صحت کی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے مخدوم طالب المولیٰ میڈیکل کالج کی اسکیم کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے، ہالا میں چیسٹ پین یونٹ کے قیام اور بھٹ شاہ میں صوفی ازم یونیورسٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ بجٹ 2026-27 عوامی فلاح، شفافیت، معاشی استحکام اور ترقی کے سفر کو مزید مضبوط بنائے گا۔

Exit mobile version