تحریر: محمد انور بھٹی
انسانی معاشرت کا یہ ایک المیہ رہا ہے کہ جہاں ارتقا کے نت نئے مراحل طے پاتے ہیں وہاں انسانی نفسیات کی بعض پیچیدگیاں اور اخلاقی پسماندگی کے رویے بھی شدت اختیار کر جاتے ہیں اور اسی اہم سماجی و نفسیاتی حقیقت کا ادراک اس وقت ہوا جب بندن میاں حسب معمول چائے کے ایک روایتی کھوکھے پر بیٹھے اپنی مخصوص فکری دنیا میں مگن تھے جہاں ان کے سامنے اخبار کھلا ہوا تھا مگر ان کی متجسس اور گہری نظریں چھپے ہوئے الفاظ کے بجائے سامنے سے گزرتے ہوئے لوگوں کے چہروں کی جھریوں، مسکراہٹوں اور ان کے تاثرات کا احاطہ کر رہی تھیں اور جب میں نے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے یہ سوال داغا کہ بندن میاں آج آپ کس گہرے تفکر کی وادیوں میں گم ہیں تو انہوں نے اپنی مخصوص سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ بھائی آج میں ایک بہت ہی انوکھی اور عمیق تحقیق میں مصروف ہوں جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اس کائنات اور معاشرے میں اچھے اور مثبت رجحان رکھنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے یا پھر منفی اور برے رویوں کے حامل افراد کا غلبہ ہے تو میں نے انتہائی حیرت اور استعجاب سے پوچھا کہ کیا آپ یہ گراں قدر اور عمیق تحقیق اس اخبار کے صفحات پر بکھری خبروں کو پڑھ کر رہے ہیں یا پھر ان چائے خانوں اور سڑکوں پر چلتے پھرتے انسانوں کے چہروں کی کتاب پڑھ کر تو بندن میاں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور بولے کہ نہیں میرے عزیز میں یہ تحقیق نہ تو اخبار کے بیانیے سے اخذ کر رہا ہوں اور نہ ہی صرف چہروں کے ظاہری تاثرات سے بلکہ میں صبح سے یہاں بیٹھ کر لوگوں کی باہمی گفتگو، ان کے تبصروں، ان کے لہجوں کی کاٹ اور ان کے الفاظ کے انتخاب کو سن کر یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرتی رویوں کا دھارا کس سمت بہہ رہا ہے اور جب میں نے مزید وضاحت چاہی کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے تو بندن میاں نے چائے کی پیالی کو میز پر رکھتے ہوئے بڑے دردمندانہ لہجے میں کہا کہ آج صبح سے جتنے بھی لوگ اس کھوکھے پر آئے ہیں یا جہاں کہیں بھی میری نظر پڑی ہے ہر شخص دوسرے کی ذات میں چھپے عیب، خامی اور نقص کو اس طرح اچھال رہا ہے جیسے اس سے بڑا کوئی سچ نہ ہو کیونکہ کوئی کسی کو خود غرضی کا طعنہ دے رہا ہے تو کوئی کسی کی شب و روز کی محنت کو نکمے پن کا نام دے کر اس کی تذلیل کر رہا ہے کوئی کسی کے پہناوے اور لباس کی ظاہری حالت پر طنز کے تیر چلا رہا ہے تو کوئی کسی کے بات کرنے کے انداز اور لہجے پر اعتراضات کے پہاڑ کھڑے کر رہا ہے حتیٰ کہ معاشرے میں کسی کی غربت اور مفلسی کا تمسخر اڑانا تو ایک عام سی روایت بن چکا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی مسلسل جدوجہد اور محنت کے بل بوتے پر کامیابی کی کسی منزل پر فائز ہو جاتا ہے تو لوگ اس کی اس کامیابی اور کامرانی میں بھی کوئی نہ کوئی خامی، کوئی نہ کوئی متبادل راستہ یا کوئی اخلاقی نقص تلاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے اس مادی اور نفسا نفسی کے دور میں اچھائیوں، خوبیوں اور صلاحیتوں کی کوئی مادی قلت نہیں ہے بلکہ دراصل ان خوبیوں کو دیکھنے والی روشن اور مثبت آنکھوں کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے اور معاشرہ مجموعی طور پر ایک ایسے اندھے کنویں میں گرتا جا رہا ہے جہاں صرف تاریکی اور خامیاں ہی نظر آتی ہیں پھر انہوں نے چائے کا ایک اور تلخ گھونٹ بھرا اور فلسفیانہ انداز میں گویا ہوئے کہ اس مادی دنیا کا سب سے آسان، سہل اور سستا کام کسی دوسرے انسان کی ذات میں عیب نکالنا، اس پر انگلی اٹھانا اور اس کی تحقیر کرنا ہے کیونکہ اس تخریبی عمل کے لیے انسان کو نہ تو کسی اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی طویل تجربے کی حاجت ہوتی ہے نہ کسی اعلیٰ درجے کی بصیرت درکار ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی پاکیزہ کردار کی ضرورت پیش آتی ہے بلکہ عیب جوئی اور نقص نگاری تو وہ ادنیٰ شخص بھی انتہائی مہارت کے ساتھ کر لیتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک بھی قابل ذکر کارنامہ انجام نہ دیا ہو اور جو خود نالائقی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہو لیکن اس کے برعکس کسی دوسرے انسان کی ذات میں چھپی ہوئی خوبی کو تلاش کرنا اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا اور اس کی اچھائی کو تسلیم کرنے کے لیے انسان کے دل کا وسیع ہونا، اس کے ظرف کا بلند ہونا، اس کے اندر انصاف پسندی کا مادہ ہونا اور انسانیت کے اعلیٰ اصولوں سے واقفیت ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جو شخص خود اندرونی طور پر مطمئن، پرسکون اور نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوتا ہے وہی دوسروں کی خوبیوں کی سچی مدحت سرائی کر سکتا ہے جبکہ وہ شخص جو اپنے وجود کے اندر مسلسل ناکامیوں، حسرتوں، محرومیوں اور شکستوں کا بھاری بوجھ اٹھائے پھرتا ہے وہ اپنی اس اندرونی کمتری اور احساسِ محرومی کو چھپانے کے لیے دن رات دوسروں کے عیب تلاش کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتا ہے تاکہ دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنے اندر کے بونے قد کو عارضی طور پر بڑا محسوس کروا سکے کیونکہ کسی کی تعریف کرنے کے لیے دل کی گہرائی اور وسعتِ قلبی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کسی پر بلاجواز تنقید کرنے اور اس کی دل آزاری کرنے کے لیے صرف زبان کی لچک اور چند زہر آلود الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں اور اس نفسیاتی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے بندن میاں نے ایک نہایت سبق آموز اور فکر انگیز قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ ایک دانا استاد نے اپنے تمام شاگردوں کی فکری تربیت کے لیے ان کے سامنے ایک بالکل صاف اور بڑا سفید کاغذ رکھا جس کے عین مرکز میں ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ بنا ہوا تھا اور جب استاد نے تمام شاگردوں سے پوچھا کہ تمہیں اس سفید صفحے پر کیا دکھائی دے رہا ہے تو سب شاگردوں نے یکزبانی اور پورے وثوق کے ساتھ جواب دیا کہ ہمیں اس کاغذ کے درمیان میں ایک سیاہ نقطہ نظر آرہا ہے جس پر استاد کے چہرے پر ایک گہری گرفت کا تاثر ابھرا اور وہ مسکرا کر انتہائی افسوس کے ساتھ بولا کہ مجھے اس بات پر شدید حیرت اور دکھ ہے کہ تم میں سے کسی ایک بھی شاگرد کی نظر اس اتنے بڑے، چمکدار اور وسیع سفید کاغذ پر نہیں پڑی جو اس سیاہ نقطے کے چاروں طرف موجود ہے بلکہ تم سب کی نظریں صرف اس ایک چھوٹے سے سیاہ نقطے پر جم کر رہ گئیں اور یہی بعینہٖ حال ہمارے معاشرے کے انسانوں کا ہے جن کے اندر قدرت نے بے شمار خوبیاں، اچھائیاں، گراں قدر صلاحیتیں اور انسانیت کے روشن پہلو ودیعت کر رکھے ہوتے ہیں مگر ہم اپنی تنگ نظری اور عیب جوئی کی عادت کے باعث ان تمام روشن پہلوؤں اور خوبیوں کو یکسر نظر انداز کر کے صرف اس انسان کے کسی ایک عیب، کسی ایک لغزش یا کسی ایک کمزوری کو پکڑ لیتے ہیں اور پھر اس کی پوری زندگی، اس کے پورے کردار اور اس کی تمام تر شخصیت کا فیصلہ اسی ایک سیاہ نقطے یعنی عیب کی بنیاد پر کرنے بیٹھ جاتے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی اور جہالت پر مبنی رویہ ہے اور یہ مہلک اخلاقی بیماری صرف عام اور جاہل لوگوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ہمارے معاشرے کے بڑے بڑے معتبر اداروں، نظاموں اور کارپوریٹ ڈھانچوں میں بھی کینسر کی طرح پھیل چکی ہے جہاں اگر کوئی محنتی اور وفادار ملازم برسوں تک انتہائی ایمانداری، دیانت داری اور جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہے تو اس کی اس طویل اور بے داغ خدمات کا تذکرہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کے لیے دو تعریفی کلمات کہے جاتے ہیں لیکن اگر کسی دن انسانی کمزوری کے باعث یا حالات کے جبر کے تحت اس سے کام کے دوران کوئی ایک چھوٹی سی غلطی یا خطا سرزد ہو جائے تو اس ادارے کا پورا انتظامی نظام اس کی برسوں کی محنت اور وفاداری کو بھلا کر اس کی پوری سروس کو اسی ایک غلطی کے ترازو میں تول دیتا ہے اور اسے ناکارہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اسی طرح اگر ایک مخلص استاد اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا کر سینکڑوں اور ہزاروں بچوں کو علم کے نور سے منور کر دےان کی تربیت کرے اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنا دے تو اس کی یہ عظیم قربانی کسی کو یاد نہیں رہتی لیکن اگر کسی محفل میں یا کسی موڑ پر اس استاد سے کوئی ایک معمولی سی لغزش یا بشری تقاضوں کے تحت کوئی خطائے اجتہادی ہو جائے تو وہی ایک لغزش پورے معاشرے اور محفلوں کا بنیادی موضوع بن جاتی ہے اور لوگ اس کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عیب تلاش کرنے اور دوسروں کی خامیاں بیان کرنے سے انسان کو ایک عارضی اور جھوٹی برتری کا احساس حاصل ہوتا ہے اسے نفسیاتی طور پر یہ مغالطہ لاحق ہو جاتا ہے کہ شاید دوسرا شخص اخلاقی طور پر چھوٹا ہو گیا ہے اور وہ خود بہت بڑا اور پارسا بن گیا ہے حالانکہ کائنات کا سچا اصول اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ جو شخص دوسروں کی عزت کو گھٹانے، ان کی پگڑی اچھالنے اور ان کی تذلیل کرنے میں مصروف رہتا ہے وہ دراصل معاشرے کی نظر میں اور خود اپنے ضمیر کے سامنے اپنی ہی شخصیت کا قد چھوٹا کر رہا ہوتا ہے اور اگر ہم کائنات کے مظاہر اور فطرت کے عظیم اور غیر جانبدارانہ نظام کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتے وقت کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ سامنے موجود درخت چونکہ ٹیڑھا ہے یا اس کی شاخیں بے ڈھنگی ہیں اس لیے میں اس پر اپنی روشنی اور تپش نہیں ڈالوں گا اور نہ ہی آسمان پر اڑتے ہوئے بادل کبھی یہ سوچ کر رکتے ہیں کہ یہ زمین بنجر، سخت اور غیر زرخیز ہے اس لیے اسے اپنی بارانِ رحمت سے محروم رکھنا چاہیے اور نہ ہی کائنات میں چلنے والی مصفا ہوا کبھی یہ امتیاز کرتی ہے کہ چونکہ یہ مکان اور کھڑکی بہت پرانی، خستہ حال اور بوسیدہ ہے اس لیے اس کے اندر تازگی اور زندگی کی لہر نہیں بھرنی کیونکہ قدرت کا پورا نظام صفاتی حسن اور خوبیوں کو تلاش کرنے، انہیں قبول کرنے اور انہیں پروان چڑھانے پر استوار ہے جبکہ اس کے برعکس انسان کا بنایا ہوا سماجی نظام اور اس کی مسخ شدہ سوچ اکثر و بیشتر صرف عیب تلاش کرتی ہے اور پھر اسے مرچ مصالحہ لگا کر اور بڑھا چڑھا کر معاشرے کے سامنے پیش کرنے میں فرحت محسوس کرتی ہے جس کی واحد اور سادہ ترین وجہ یہ ہے کہ کسی کی ذات میں خوبی تلاش کرنے کے لیے دل میں سچی محبت، خلوص اور ہمدردی کا ہونا لازم ہے جبکہ عیب تلاش کرنے کے لیے انسان کے اندر چھپا ہوا حسد، بغض اور کینہ ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ محبت ہمیشہ انسانوں کو آپس میں جوڑتی ہے ان کے درمیان قربت کے پل تعمیر کرتی ہے جبکہ حسد اور عیب جوئی کا یہ قبیح عمل انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتا ہے اور معاشرے کے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے اور اگر ہم اپنے موجودہ معاشرے کی حقیقی تصویر کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو یہ تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آج اگر کوئی غریب یا متوسط طبقے کا نوجوان اپنی انتھک محنت، شب و روز کی جدوجہد اور صلاحیت کے بل بوتے پر کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے تو لوگ اس کی اس کامیابی کے پیچھے چھپی قربانیوں، جاگتی راتوں اور اس کے اسباق کے بارے میں سوال نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے کوئی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس اس کی اس جائز کامیابی کو مشکوک بنانے کے لیے اس کے خلاف منفی افواہیں، سازشیں اور من گھڑت کہانیاں تراشنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ اس کی محنت کو داغدار کیا جا سکے اسی طرح اگر کوئی غریب آدمی اپنی معاشی حالت کو سدھارنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے اور اپنی حالت بدل لیتا ہے تو لوگ اس کی اس طویل جدوجہد کو سراہنے اور اس کی ہمت کی داد دینے کے بجائے اسے ہمیشہ شک، شبہے اور بدگمانی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگر کوئی سرکاری افسر یا رہنما تمام تر ترغیبات اور دباؤ کے باوجود انتہائی دیانت داری، سچائی اور اصول پسندی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہے تو لوگ اس کی اس عظمتِ کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ضرور اس کی اس پارسائی کے پیچھے کوئی بہت بڑا ذاتی مفاد، کوئی چھپا ہوا ایجنڈا یا کوئی گہری چال ہوگی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے بطور معاشرہ اچھائی اور خوبی کو دل سے قبول کرنے اور اسے خوش آئند قرار دینے کے بجائے اس پر بلاجواز شبہ کرنا اور اسے متنازع بنانا سیکھ لیا ہے اور ایک وہ دور تھا جب ہمارے معاشرے کے بزرگ، اساتذہ اور والدین بچوں کے اندر چھپی ہوئی چھوٹی سے چھوٹی اچھائی اور مثبت رجحان کو بھی بڑی باریک بینی سے تلاش کرتے تھے اور پھر اس کی اس خوبی کو نکھارنے کے لیے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے استاد اپنے شاگرد کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے شفقت کا ہاتھ اس کے سر پر رکھتا تھا اور دوست اپنے دوست کی کامیابی کے لیے دل سے دعائیں مانگتے تھے اور اس کی خامیاں پسِ پردہ ڈال دیتے تھے ۔ (جاری ہے)
