تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
ضلع اوکاڑہ میں جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے قیام کے بعد جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محدود وسائل اور افرادی قوت کے باوجود سی سی ڈی اوکاڑہ نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر حکمت عملی اپناتے ہوئے ایسے نتائج حاصل کیے ہیں جو نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا بھی سبب بنے ہیں۔ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اوکاڑہ مہر محمد یوسف کی سربراہی میں ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سی سی ڈی کے قیام سے قبل یکم مئی 2024 سے 30 اپریل 2025 تک ضلع اوکاڑہ میں مختلف سنگین جرائم کے مجموعی طور پر 5393 مقدمات درج ہوئے تھے، جبکہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد یکم مئی 2025 سے 30 اپریل 2026 تک یہ تعداد کم ہو کر 2405 رہ گئی۔ اس طرح مجموعی جرائم میں 55.41 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جو ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی کے مقدمات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سی سی ڈی کے قیام سے قبل ڈکیتی کے 59 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ بعد ازاں یہ تعداد کم ہو کر 24 رہ گئی، یوں ڈکیتی کی وارداتوں میں 59 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح رہزنی کے مقدمات 1444 سے کم ہو کر 456 رہ گئے جس سے 68 فیصد کمی سامنے آئی۔گاڑی چوری کے جرائم کے حوالے سے صورتحال مزید حوصلہ افزا رہی۔ پہلے چار مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد گاڑی چوری کا ایک بھی مقدمہ رپورٹ نہیں ہوا، جس کے باعث اس جرم میں سو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات بھی نمایاں طور پر کم ہوئے اور ان کی تعداد 555 سے گھٹ کر 180 رہ گئی، جس سے 68 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے۔

کار چوری کے واقعات میں بھی خاطر خواہ کمی آئی۔ پہلے 17 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ بعد ازاں یہ تعداد 10 تک محدود رہی، یوں 41 فیصد کمی سامنے آئی۔ موٹر سائیکل چوری کے مقدمات 2102 سے کم ہو کر 1133 رہ گئے جس سے 46 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح ڈکیتی، رہزنی اور قتل کے مشترکہ سنگین مقدمات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ پہلے پانچ مقدمات درج ہوئے تھے جو کم ہو کر صرف ایک رہ گئے، یوں اس جرم میں 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ریپ مع قتل کے مقدمات دونوں ادوار میں صفر رہے، جو اس حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے۔قتل جیسے حساس اور سنگین جرم میں بھی واضح بہتری سامنے آئی۔ سی سی ڈی کے قیام سے قبل قتل کے 158 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ بعد ازاں یہ تعداد 107 رہ گئی، جس سے 32 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح نقب زنی کے واقعات 1049 سے کم ہو کر 494 رہ گئے اور اس جرم میں 53 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔جرائم میں اس مجموعی کمی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر حکمت عملی، مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں اور عوامی تعاون کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سی سی ڈی اوکاڑہ نے محدود وسائل کے باوجود جرائم کے مختلف شعبوں میں جو نتائج حاصل کیے ہیں وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مربوط منصوبہ بندی اور موثر نگرانی کے ذریعے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اوکاڑہ مہر محمد یوسف کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ڈی اوکاڑہ کا مقصد صرف جرائم کی روک تھام ہی نہیں بلکہ ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کا قیام بھی ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد ضلع اوکاڑہ میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ جرائم کی مجموعی شرح میں 55 فیصد سے زائد کمی اس امر کا ثبوت ہے کہ مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کے ذریعے معاشرے کو جرائم سے پاک بنانے کی جانب موثر پیش رفت ممکن ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی ان اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں بھی اسی تسلسل کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ اوکاڑہ کو مزید محفوظ اور پرامن ضلع بنایا جا سکے٭