بے لگام منشیات فروشی پر سوالات

تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

سوال تو یہ پیدا ہوتا ھے کہہ منشیات آزاد علاقوں سے کئی سو چوکیوں اور چند ایک بارڈر کو کیسے عبور کرکے کراچی پہنچتی ہے؟؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ پولیس محکمہ کو بھتہ خوری میں کون ملوث کرتا ھے؟ یہ رسی کی کمان کس کے ہاتھوں میںن رہتی ھے ؟؟ کیا کمان وزراء مشراء پولیس آئی جیز، ڈی آئی جیز سمیت باڈر فورسس کے ہاتھوں میں ھے کہ نہیں ؟؟ اب یہ بھی سوال پیدا ہوتا ھے کہ کیا اسمگلروں کیساتھ باہمی اعتماد کے سودے طے شدہ رقوم کی طلبی کے کیساتھ ھوتے ہیں ؟؟ شک پیدا ھوتا ھے کہ یہ مافیائی چکر شاید اسی سبب چل رھا ھے ؟؟ خیال ظاہر کیا جارھا ھے کہ جب اوپر سے ہی کمان کٹ جائے تو رسی خودبخود نیچے ڈھیر گر سکتی ھے ؟؟ اب دیکھنا یہ ھے کہ مقتدر قوتیں تماشا دیکھتی رہیں گی یا پھر گرینڈ آپریشن کرکے ملک و قوم اور ریاست کو بچانے کیلئے مضبوط ٹھوس اقدام اٹھاتی ہیں کہ نہیں ؟؟ کیا اسٹبلشمنٹ ملکی بقاء و سلامتی کیلئے ہر رکاوٹ کو توڑتے ہوئے اس مافیاء کو ہمیشہ کیلئے دفن کردے گی ؟؟ کیا اسٹبلشمنٹ ایوان سے منشیات کی خرید و فروخت پر قانون اور آئین میں فوری سزائے موت قررار دیتی ھے کہ نہیں؟؟ اور یہ بھی دیکھنا ھے کہ منشیات کے سہولتکاروں کو بھی یہی سزا مرتکب کی جاتی ھے کہ نہیں ؟؟ اگر ہاں تو اسٹبلشمنٹ کو سلام و دعا کہ اللہ ہماری اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور دونوں جہاں کی عزت و دولت سے سرفراز کردے آمین یا رب العالمین

Exit mobile version