کربلا اور شمر کا سیاہ کردار

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی 

​ محرم الحرام کا مہینہ جب بھی آتا ہے، تاریخ کے اوراق سے کربلا کی داستانِ غم ایک بار پھر تازہ ہو جاتی ہے جو ہمیں صرف آنسو بہانے کا نہیں بلکہ اپنے ضمیر اور کردار کے احتساب کا موقع دیتی ہے، اس المناک تاریخ کے تاریک ترین کرداروں میں ایک نام شمر بن ذی الجوشن کا ہے جس کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کہ ظاہری عبادت اور مذہبیت، باطنی کردار کی ضمانت ہرگز نہیں ہوتی، تاریخی روایات کے مطابق شمر کوئی دین سے نابلد شخص نہیں تھا بلکہ وہ کثرت سے نوافل پڑھتا، روزے رکھتا اور اس کی پیشانی پر سجدوں کے گہرے نشانات بھی نمایاں تھے یعنی وہ بظاہر ایک نہایت دیندار  اور عبادت گزار شخصیت کے طور پر معروف تھا، مگر یہ تمام تر ظاہری مذہبیت اس کے باطن میں چھپے درندے کو چھپانے کا محض ایک منافقانہ لبادہ تھی کیونکہ وہ ایک تجربہ کار جنگجو ہونے کے ساتھ ساتھ اقتدار اور ذاتی مفادات کا بھوکا بھی تھا، اس کی درندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ شمر ہی تھا جس نے حضرت امام حسینؑ اور ان کے اہل و عیال کے خیموں کو جلانے کا حکم دیا اور جب امامؑ بھوکے پیاسے حالتِ نماز میں تھے تو اس نے درندگی کی انتہا کرتے ہوئے آپؑ کے سرِ انور کو جسمِ اطہر سے جدا کیا، یہ منافقانہ خصلت اس کی شخصیت کا خاصہ تھی کہ وہ ایک طرف سجدے کرتا تھا اور دوسری طرف کائنات کے سردار کے گھرانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبادت گزار دکھائی دینے والا شخص آخر اتنا سنگدل کیسے بن گیا؟ اس کا جواب اسی تضاد میں ہے کہ شمر کے لیے دین اللہ کی رضا کا راستہ نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک آلہ کار تھا اور جب اس نے امامؑ کی حقانیت کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھا تو اس کے اندر موجود "شمر” نے اپنے تمام دعووں کو پسِ پشت ڈال دیا، افسوس کہ آج بھی ہمارا معاشرہ ایسے شمر صفت کرداروں سے بھرا پڑا ہے جو خود کو پکا مسلمان اور دین کا ٹھیکیدار کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر ان کے اعمال عین یزیدی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، آج کا شمر وہ حکمران یا صاحبِ اختیار ہے جو اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے عوام کے حقوق کا گلا گھونٹ رہا ہے، وہ سفید پوش مذہبی پیشوا ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہا ہے اور وہ بااثر شخصیت ہے جو کمزوروں کی آواز دبانے کے لیے ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے، یہ لوگ بظاہر نمازیں پڑھتے ہیں، لمبی داڑھیاں رکھتے ہیں اور تقدس کا لبادہ اوڑھتے ہیں مگر ان کے سجدے محض دکھاوا ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں خلقِ خدا کے لیے کوئی رحم نہیں، صرف اپنی انا اور اقتدار کی ہوس ہے، یہ شمر والی منافقت آج ہمارے گرد و پیش میں نئے روپ میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، شمر محض تاریخ کا کوئی پرانا نام نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے، ہمیں تاریخ کے اوراق میں اسے ڈھونڈنے کی بجائے اپنے اردگرد دیکھنا چاہیے، جہاں جہاں ظلم ہے اور جہاں جہاں مفادات کے لیے اخلاقیات کا قتل ہو رہا ہے وہاں شمر کا کردار آج بھی زندہ ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اپنی ذات کے اندر سے اس منافقانہ سوچ کو دفن کر دیا ہے؟ محرم الحرام کا اصل سبق تبھی پایا جا سکتا ہے جب ہم اپنے کردار سے یزیدی اور شمر صفت منافقت کا خاتمہ کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چلنے اور حق و سچ کا ساتھ دینے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین

Exit mobile version