ایرانی میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان شروع ہونے والے اہم تکنیکی مذاکرات شدید تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ مذاکرات میں شریک ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں دی جانے والی سخت دھمکیوں اور جارحانہ بیانات پر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ دھمکی آمیز ماحول اور سفارتی آداب کے منافی بیانات کی موجودگی میں بامقصد مذاکرات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔
اس شدید سفارتی احتجاج کے بعد، ایرانی وفد نے احتجاجاً مذاکرات کے موجودہ دور میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے اور واشنگٹن کے رویے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، وفد کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نئی شروعات اور تعلقات میں بہتری کی باتیں کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیاں ان کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔ اس اچانک پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو ایک بار پھر گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
