سات فیصد کا معجزہ اور سیاست کے جادوگر

تحریر: ۔محمد انور بھٹی

بندن میاں صبح سویرے اخبار ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے۔ چہرے پر ایسی سنجیدگی طاری تھی جیسے قوم کی تقدیر کا سارا بوجھ اور قومی خزانے کی آخری چابی ان کی اپنی جیب سے گم ہوگئی ہو۔ میں نے پاس جا کر پوچھا خیریت ہے بندن میاں؟ آج کچھ زیادہ ہی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا سرحدوں پر کوئی نئی ہلچل ہے یا پھر پڑوس کی مرغی نے آپ کے صحن میں انڈا دے دیا ہے؟بندن میاں نے چشمے کو ناک کی ہڈی پر تھوڑا اوپر سرکایا، اخبار کو بڑی نفاست سے تہہ کیا اور ایک گہری، فلسفیانہ سانس لے کر بولے، میاں، فکر مند نہ ہوں تو کیا کروں؟ رات تک تو مہنگائی ایک طرف کھڑی اپنے نوکیلے دانت نکال کر ہمیں ڈرا رہی تھی، اور صبح اٹھا تو اخبار کی سرخی نے دل کی دھڑکن ہی روک دی۔ معلوم ہوا کہ حکومتِ وقت نے تنخواہوں اور پنشن میں پورے سات فیصد کا ’تاریخی‘ اور ’انقلابی‘ اضافہ فرما دیا ہے۔ اب میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس شاہانہ سخاوت پر خوشی کا جشن مناؤں، محلے میں مٹھائی بانٹوں یا پھر اپنے غریب کیلکولیٹر کے گلے لگ کر تعزیت کروں جو صبح سے اس اضافے کے ہندسوں کو ضرب تقسیم کرتے کرتے خود کوسنے دے رہا ہے۔
میں نے مسکرا کر کہا، بندن میاں، آخر سات فیصد کے اضافے میں مسئلہ کیا ہے؟ کچھ نہ ہونے سے تو کچھ ہونا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ بندن میاں نے چائے کی پیالی کو میز پر پٹخا ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری اور بولے مسئلہ؟ میاں تمہیں مسئلہ نظر نہیں آتا؟ ہمارے اس پاک دیس میں ’اضافہ‘ اور ’کمی‘ دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں یہ دونوں ایک ہی خاندان کے سگے بھائی معلوم ہوتے ہیں۔ جب اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھی حکومت کسی چیز میں ’اضافہ‘ کرتی ہے تو غریب عوام کی جیب میں فوری طور پر ’کمی‘ کا احساس بیدار ہو جاتا ہے۔ اور جب بازار والے راتوں رات قیمتیں بڑھاتے ہیں تو وہ اضافہ پوری آب و تاب، پورے جاہ و جلال اور پورے لشکر کے ساتھ غریب کے کچن میں دندناتا ہوا داخل ہوتا ہے۔ تم نے کبھی اس سات فیصد کو غور سے دیکھا ہے؟ میں نے معصومیت سے سر ہلایا نہیں۔ بندن میاں نے تاسف سے سر ہلایا یہی تو ہماری پوری قوم کی بدقسمتی ہے۔ ہم نے کبھی ان جادوئی ہندسوں کو غور سے دیکھا ہی نہیں۔ اگر دیکھ لیتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ سات فیصد صرف ایک ریاضی کا عدد نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نظام کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ یہ اقتدار کے ایوانوں سے پھوٹی ایک ایسی لطیف، مزاحیہ اور سحر انگیز تخلیق ہے جس پر بجٹ بنانے والی حکومت خود اندر بیٹھ کر ہنستی ہے اور باہر کھڑی عوام خون کے آنسو روتی ہے۔
وہ کہنے لگے کہ جب رات کو ٹی وی پر اس معجزے کا اعلان ہوا تو چینلز کے اینکر پرسن ایسے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے جیسے ناسا والوں نے چاند پر دوبارہ پاکستانی پرچم گاڑ دیا ہو یا ملک کا سارا قرضہ کسی غیبی طاقت نے معاف کر دیا ہو۔ خبریں ایسے چمکدار لہجے میں پڑھی جا رہی تھیں جیسے ہر ریٹائرڈ بابو اور سرکاری ملازم کے گھر کے باہر سونے کی کان دریافت ہو چکی ہو اور اب غربت ہمیشہ کے لیے بوریا بستر گول کر کے جا چکی ہے۔ پٹی چل رہی تھی ملازمین کی موجیں پنشن میں سات فیصد کا خطیر اضافہ میرے محلے کے ایک ریٹائرڈ کلرک جو عمر بھر فائلوں کا پیٹ بھرتے بھرتے اب خود بوڑھے اور لاغر ہو چکے ہیں یہ مژدہ سنتے ہی اپنا پرانا کیلکولیٹر اٹھا لائے۔ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے عینک کے پیچھے سے حساب لگایا تو پتا چلا کہ مہینے کے آخر میں جتنے روپے بڑھیں گے اتنے میں تو ان کی شوگر کی دوا کا ایک پتا بھی پورا نہیں آتا۔ وہ بیچارے کچھ دیر تو آسمان کو تکتے رہے پھر دھیمی آواز میں بولےلگتا ہے حکومت نے میری صحت اور خوراک کو مدنظر رکھ کر ہی یہ باریک اضافہ کیا ہے تاکہ میں صرف دوا خریدنے جوگا رہوں اور اگلے بجٹ کے اعلان تک کسی نہ کسی طرح سانسیں کھینچتا رہوں۔
بندن میاں نے چائے کا ایک طویل گھونٹ بھرا اور سیاست کے اکھاڑے کا ذکر چھیڑ دیا۔ کہنے لگے اصل کمال تو اس دھرتی پر سیاست کا ہے۔ جب آپ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتے ہیں تو یہی سات فیصد کا اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی ایک بہت بڑی قومی خدمت، ایک عظیم الشان احسان اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف بن کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ اس کرسی سے اتر کر اپوزیشن کے بنچوں پر تشریف فرما ہوتے ہیں تو پچاس فیصد سے کم اضافے کی بات کرنا بھی ایک سیاسی گناہ ملازم دشمنی اور غریب پر ظلم سمجھا جاتا ہے۔ یہ اقتدار کی کرسی بھی بڑی جادوئی چیز ہے میاں اس پر بیٹھتے ہی تندرست سے تندرست سیاست دان کو بھی اچانک ملکی خزانہ بالکل خالی, ویران اور قحط زدہ نظر آنے لگتا ہے اور جیسے ہی یہ کرسی ہاتھ سے نکلتی ہے اسی خالی خزانے میں سونے کے پہاڑ، دودھ کی نہریں اور ہیرے جواہرات کے انبار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک سادلو صاحب مجھ سے بڑی عقیدت سے کہہ رہے تھے کہ فلاں جماعت تو ملازمین کی سب سے بڑی خیرخواہ اور غریب پرور ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ بولے آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ اسمبلی کے اندر کھڑے ہو کر غریبوں کے حقوق کے لیے کیسی شیر جیسی دہاڑ لگاتے ہیں کیسے ڈیسک بجاتے ہیں؟ میں نے مسکرا کر پوچھا اور جب یہی جماعت خود حکومت میں آتی ہے تو کیا کرتی ہے؟ وہ صاحب بغلیں جھانکنے لگے اور بولے پھر وہ اصل میں ملکی خزانے کی دگرگوں حالت اور بین الاقوامی اداروں کی شرطیں دیکھتی ہے۔ میں نے سر پیٹ لیا کہ گویا جب تک آپ اپوزیشن میں ہیں آپ کو صرف عوام اور ان کی بھوک نظر آتی ہے اور جیسے ہی آپ وزیر بنتے ہیں آپ کو صرف خزانے کی لاچاری دکھائی دیتی ہے۔
بندن میاں کے چہرے پر طنز کی کاٹ دار مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ بولےمجھے تو اس ملک کے سیاست دانوں کی سائنسی صلاحیتوں پر رشک آتا ہے۔ یہ دنیا کے وہ واحد جادوگر ہیں جو ایک ہی وقت میں، ایک ہی سانس کے اندر حکومت کی تعریف بھی کر سکتے ہیں اور اسی پالیسی پر اندرونی تنقید کا تڑکا بھی لگا سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کو دکھانے کے لیے بجٹ کے خلاف اسمبلی سے واک آؤٹ بھی بڑی شان سے کرتے ہیں اور پھر پچھلے دروازے سے آ کر اسی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے دستخط بھی فرما دیتے ہیں۔ ملازمین کے حق میں ایسی رقت آمیز تقریریں کریں گے کہ سننے والوں کے دوپٹے اور رومال آنسوؤں سے تر ہو جائیں اور پھر انہی ملازمین کے ہاتھ پر سات فیصد کا خیراتی سکہ رکھ کر پریس کانفرنس میں فتح کا نشان بھی بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ بے مثال اور حیرت انگیز صلاحیت اقوام متحدہ کو معلوم ہو جائے تو وہ دنیا بھر کے پیچیدہ ترین تنازعات، جنگیں اور سفارتی بحران حل کرانے کے لیے ہمارے ان سیاست دانوں کو بھاری کرائے پر لے جائے، کیونکہ جو فنکار یہاں بھوک اور بجٹ کو ایک ساتھ سجا سکتے ہیں وہ دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
وہ کچھ دیر کے لیے رکے پھر آواز کو مزید دھیما کر کے بولے میاں تم نے کبھی ہمارے نظام کی اس خوبصورتی پر غور کیا ہے کہ یہاں ہر مسئلے کا سو فیصد حل صرف ’اعلان‘ کے اندر ہی موجود ہوتا ہے ’عمل‘ سے اس کا دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ اس جادوگری کی سب سے بڑی مثال مرکز میں خادمِ اعلیٰ جناب محمد شہباز شریف کا وہ اعلان ہے جس میں انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ بزرگوں کی پنشن میں یکمشت سات فیصد کا یہ شاہانہ دلکش اضافہ فرما دیا۔ اب کمال دیکھیے کہ صدارت کی عالی شان کرسی پر براجماں جناب آصف علی زرداری کی جماعت جو برسوں سے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر غریبوں کے دلوں کی دھڑکن بنی ہوئی ہے اور جو اپوزیشن میں بیٹھ کر وفاقی حکومت سے تنخواہوں اور پنشن میں پورے پچاس فیصد اضافے کا تگڑا مطالبہ کر رہی تھی جب ان کے اپنے صوبے سندھ میں غریب پنشنرز اور ملازمین کی باری آئی تو انہوں نے بھی وفاق کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پورے سات فیصد کا ہی ٹیکہ لگا دیا۔ گویا اپوزیشن میں نعرے پچاس فیصد کے اور اقتدار میں کرتوت سات فیصد کے اب سندھ کے غریب ملازمین بھی خادمِ اعلیٰ اور روٹی، کپڑے کے نعرے داروں کی اس مشترکہ معجزاتی پالیسی کے نرغے اور مروڑ میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔
بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور بولے اس دہرے معیار کا نتیجہ اب سب کے سامنے بالکل صاف ہے۔ ایک طرف ملازمین کے حقوق کا ہمدرد بننے کا سستا ڈرامہ رچانے کے لیے اسمبلیوں سے واک آؤٹ کی خوبصورت اداکاری بھی کی جا رہی ہے اور حکومت کی مخالفت میں اخبارات کو ملازمین اور پنشنرز کے حق میں بڑے بڑے ہمدردانہ بیانات بھی داغے جا رہے ہیں لیکن عمل کے میدان میں سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اب اس سارے کھیل کے پیچھے اصل اندر کی کہانی کیا ہے کون کس سے ملا ہوا ہے اور پردے کے پیچھے کیا سودے بازی ہوئی ہے یہ تو صرف اقتدار کے بند کمروں میں بیٹھنے والے اندر والے ہی بتا سکتے ہیں۔ مگر کمال یہ ہے کہ وہ اندر والے بھی اس وقت گہری اور پراسرار خاموشی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔ ان کی یہ جادوئی خاموشی اب کب ٹوٹے گی اور عوام کے سامنے سچ کب آئے گا اس بارے میں تو وہی صاحبِ اختیار لوگ ہی فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس خاموشی کے ٹوٹنے کے پیچھے کون سا بڑا سیاسی راز، کون سی مصلحت اور کون سا فائدہ چھپا ہے یہ تو صرف وہی رازداں جانتے ہیں جو اس اقتدار کے کھیل کے اصل کھلاڑی ہیں جبکہ عوام ہمیشہ کی طرح صرف تماشائی بنی تالیاں بجا رہی ہے۔
میں نے پوچھا بندن میاں پھر ایسی صورتحال میں یہ مظلوم عوام کیا کریں؟ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے عوام وہی کریں جو وہ پچھلے ستر سالوں سے بڑی وفاداری کے ساتھ کرتی آئی ہے۔ پہلے خبر سن کر ٹی وی کے سامنے تھوڑا سا خوش ہوں پھر جیب سے پنسل نکال کر حساب لگائیں پھر حقیقت کھلنے پر گہری خاموشی کا روزہ رکھ لیں اور پھر اگلے سال کے بجٹ کا انتظار کرنے لگیں۔ یہ ایک ایسا لازوال قومی کھیل ہے جس میں ہر سال رولز اور قواعد تو وہی پرانے رہتے ہیں صرف کھیلنے والے ملازمین اور پنشنرز بوڑھے اور ناکارہ ہوتے جاتے ہیں۔ کل محلے کے چوک پر ایک بزرگ ریٹائرڈ ملازم مجھے ملے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ کہنے لگے بندن میاں اس بار حکومت نے میری پنشن میں جو یہ سات فیصد کا اضافہ کیا ہے اس نے میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اور میں اب پہلے سے کہیں زیادہ فکر مند اور خوفزدہ ہو گیا ہوں ڈر کے مارے اب دکان کا رخ نہیں کر پا رہا۔ میں نے حیرت سے پوچھا بزرگوں اضافہ تو آپ کی آمدنی میں ہوا ہے پھر یہ خوف کیسا؟ وہ بزرگ ٹھنڈی آہ بھر کر بولے بندن میاں تم نہیں جانتے۔ جیسے ہی ریڈیو اور ٹی وی پر یہ خبر چلی ہےسب سے پہلے مکان مالک کی طرف سے خبر آئی ہے کہ مکان کے کرایہ میں فی الفور دس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اور اب ہمارے محلے کے سبزی فروش، دکاندار اور دودھ والے کو بھی پتا چل گیا ہے کہ میری آمدنی اب ’شاہی‘ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اب وہ میری کمزور جیب کو اور زیادہ بے دردی سے لوٹیں گےکیونکہ ان کے پاس قیمتیں بڑھانے کا ایک قانونی اور سرکاری جواز جو آ گیا ہے۔
بندن میاں ہنسنے لگے اور بولے میاں اس ملک میں مہنگائی اور غریب کی تنخواہ دو ایسے ریل کے ڈبے ہیں جو زندگی میں کبھی ایک پٹری پر یا ایک رفتار سے نہیں چل سکتے۔ مہنگائی ہمیشہ ایک تیز رفتار جاپانی بلٹ ٹرین کا انجن بن کر سب سے آگے دوڑتی ہے اور تنخواہ کسی پرانی, خستہ حال مال گاڑی کے آخری ڈبے کی طرح ہانپتی، کانپتی اور دھواں اڑاتی پیچھے پیچھے آتی ہے۔ کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ ملکوں کی پٹریوں پر دوڑ رہے ہیں جن کا آپس میں کوئی ملاپ ممکن ہی نہیں ہے۔ مزے کی بات دیکھو جو لوگ کل تک پچاس فیصد اضافے کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے جو پریس کانفرنسوں میں میزیں تھپتھپا کر ملازمین کے حقوق کے لیے مر مٹنے کی قسمیں کھا رہے تھے وہ آج ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر اس سات فیصد کے معجزاتی فلسفے کی ایسی گہری تشریح فرما رہے ہیں کہ ارسطو اور افلاطون کی روحیں بھی شرما جائیں۔ اور جو لوگ کل تک اس سات فیصد کو عوام کے ساتھ ایک مذاق ایک بھونڈا مذاق قرار دے رہے تھے وہ آج اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر اسی سات فیصد کو ملکی تاریخ کا ایک ناقابل یقین اور تاریخی کارنامہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عوام بیچاری چوراہے پر حیران و پریشان کھڑی سوچ رہی ہے کہ آخر سچ کس کے پاس ہے؟ وہ سچ جو اپوزیشن میں بولا جاتا ہے یا وہ سچ جو حکومت میں آ کر چہرہ بدل لیتا ہے؟ مگر سچ بھی شاید ہمارے کسی سرکاری دفتر کی پرانی گرد آلود فائل کے نیچے دب کر مستقل طور پر سو چکا ہے اور اس کی تلاش کے لیے بھی اب ایک عدد نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ یعنی این او سی درکار ہوگا جو کوئی دینے کو تیار نہیں۔
بندن میاں نے ایک طویل اور گہری سانس لی ان کے چہرے پر طنز و مزاح کے پیچھے چھپی ایک سنجیدگی نمایاں ہوئی۔ بولے اصل مسئلہ یہ سات فیصد کا ہندسہ ہے ہی نہیں میاں۔ اصل مسئلہ تو وہ پراسرار اور گہری خاموشی ہے جو ان عالی شان ایوانوں کے اندر صوفوں پر بیٹھی ہے۔ وہ خاموشی جو لیڈروں کی بڑی بڑی، طوفانی تقریروں کے شور اور نعروں کے گونجتے ہوئے سمندر میں بھی صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ خاموشی جو غریب کے ہر سوال، ہر فریاد اور ہر آنسو کے جواب میں بڑی بے نیازی سے مسکرا دیتی ہے۔ وہ خاموشی جو اندر کی ساری حقیقت سارا سچ اور ساری سازشیں جانتی سب کچھ ہے مگر اپنے ہونٹوں پر اقتدار کا تالا لگا کر بولتی کچھ نہیں۔ میں نے اشتیاق سے پوچھا بندن میاں یہ خاموشی آخر کب ٹوٹے گی؟ کیا کوئی ایسا دن آئے گا جب یہ گونگے بول پڑیں گے؟ بندن میاں دھیمے سے مسکرائے اور بولے بیٹے ہمارے ہاں یہ خاموشی بھی بڑی سیانی، بڑی سمجھدار اور بڑی کاروباری ہوتی ہے۔ یہ اسی وقت اور اسی لمحے ٹوٹتی ہے جب بولنے سے اپنا کوئی ذاتی یا سیاسی فائدہ وابستہ ہو۔ ورنہ یہ مصلحت پسند خاموشی بھلا اپنا بنا بنایا روزگار کیوں خراب کرے؟
یہ کہہ کر انہوں نے اخبار کو لپیٹا، عینک اتاری اور کھلے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی امید سے بولے شایدآنے والے زمانوں میں کوئی ایسا بجٹ بھی اس دھرتی پر اترے جس میں ملک کے غریب ملازمین اور عمر بھر خدمت کرنے والے پنشنرز کو دکان پر جاتے ہوئے حساب لگانے کے لیے کسی کیلکولیٹر کی ضرورت نہ پڑے بلکہ ان کے چہروں پر واقعی ایک سچی اور حقیقی خوشی رقص کرتی ہوئی نظر آئے۔ مگر میاں فی الحال تو ہمیں سات فیصد کے اسی معجزے پر شکر بجا لا کر گزارا کرنا ہوگا آخر ہمارے معاشرے میں معجزوں پر سوال اٹھانا یا ان کی حقیقت پوچھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اور بندن میاں یہ کہتے ہوئے اپنی لاٹھی سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ چلو میاں ذرا بازار کا چکر لگا کر آتے ہیں۔ میں نے پوچھا بندن میاں اس تپتی دھوپ میں بازار کیوں؟ بولے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے اس مشترکہ جادوئی سات فیصد اضافے کے جواب میں ہمارے بازار کے آزاد تاجروں اور دکانداروں نے اپنی قیمتوں میں کتنے فیصد کا جوابی اضافہ فرما دیا ہے۔ آخر جمہوریت کا حسن یہی تو ہے کہ یہاں سب کو برابر کا حق حاصل ہے اگر شاہانِ اقتدار کو اعلان کا حق ہے تو غریبوں کے بازار کو قیمتیں بڑھانے کا پورا اختیار ہے۔

Exit mobile version