جون 21, 2026

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، برطرفی کی سزا بحال

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے میں ریمارکس دیے ہیں کہ خراب شہرت رکھنے والا کوئی بھی جج عدالتی منصب پر برقرار رہنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہ فیصلہ میلسی میں تعینات سابق ایڈیشنل سیشن جج کے کیس میں جاری کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کا تحریر کردہ 9 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سامنے آیا ہے، جبکہ جسٹس نعیم اختر اور جسٹس شفیع صدیقی بھی اس 3 رکنی بینچ کا حصہ تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا پرانا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہائیکورٹ کی جانب سے جج کو دی گئی برطرفی کی سزا کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

عدالت نے عدالتی افسر کی بحالی اور اپنے خلاف منفی ریمارکس ختم کرنے کی دونوں درخواستیں یکسر مسترد کر دی ہیں۔ تحریری حکمنامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ رشوت کا براہِ راست ثبوت نہ بھی ملے، تب بھی خراب شہرت کا حامل جج اپنے عہدے پر نہیں رہ سکتا۔ سپریم کورٹ کے مطابق، خراب شہرت ثابت ہونے پر لازمی ریٹائرمنٹ دینا کافی نہیں بلکہ برطرفی ہی سب سے مناسب سزا ہے۔ ٹربیونل نے برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر کے قانون کی غلط تشریح کی تھی۔

حکمنامے میں مزید سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد ہی مجروح ہو جائے تو ایسے جج کو منصب پر برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایک جج کی دیانت داری کو حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا؛ وہ یا تو مکمل طور پر دیانت دار ہوتا ہے یا پھر بالکل نہیں ہوتا۔ خراب شہرت رکھنے والے جج کو عدالتی نظام سے ہٹانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے انسانی جسم سے کسی ناسور کو کاٹ کر نکال دیا جائے۔