اولاد: نعمت بھی، ذمہ داری بھی ، بچوں کی تربیت میں غفلت، معاشرے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف

از قلم: فیصل جنجوعہ

بچے ہر گھر کی رونق، ہر والدین کی امید اور ہر قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں والدین کی ایک بڑی تعداد بچوں کی تعلیم پر تو بے دریغ خرچ کر رہی ہے، مگر ان کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور انسانی اقدار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی غفلت مستقبل میں ایسے نوجوان پیدا کرتی ہے جو ڈگریاں تو رکھتے ہیں مگر اخلاق، برداشت اور ذمہ داری سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے والدین بچوں کی ہر ضد پوری کرنا اپنی محبت سمجھتے ہیں۔ جب بچہ بدتمیزی کرے، بڑوں کی بے ادبی کرے یا غلط رویہ اختیار کرے تو اسے روکنے کے بجائے اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اس اندھی محبت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ خود کو ہر حال میں درست سمجھنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی شخصیت میں غرور، خود پسندی اور بے حسی جنم لینے لگتی ہےافسوسناک امر یہ بھی ہے کہ آج والدین کی مصروفیات، موبائل فون، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی نے بچوں سے مکالمہ چھین لیا ہے۔ گھر ایک تربیتی ادارہ ہونے کے بجائے صرف رہائش گاہ بنتا جا رہا ہے۔ بچے والدین کے وقت، توجہ اور رہنمائی سے محروم ہو رہے ہیں، جس کا اثر ان کے رویوں، کردار اور مستقبل پر واضح نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ والدین کے کردار سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں جھوٹ، غصہ، بدزبانی، بے ایمانی اور دوسروں کی تحقیر ہوگی تو بچے بھی یہی رویے اپنائیں گے۔ اس کے برعکس اگر والدین خود احترام، سچائی، نظم و ضبط اور ذمہ داری کی مثال بنیں گے تو یہی اقدار بچوں کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ محبت اور نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کریں۔ بے جا سختی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے جبکہ بے جا نرمی انہیں غیر ذمہ دار اور خودسر بنا دیتی ہے۔ بہترین تربیت وہ ہے جس میں شفقت بھی ہو، اصول بھی ہوں، اعتماد بھی ہو اور جواب دہی بھی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ والدین اپنی تمام تر ذمہ داری سکول یا اساتذہ پر نہ ڈالیں۔ استاد تعلیم دے سکتا ہے، رہنمائی کر سکتا ہے، مگر بچے کی پہلی درسگاہ ہمیشہ اس کا گھر اور اس کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں تربیت کا ماحول نہ ہو تو بہترین تعلیمی ادارے بھی کردار سازی کا مکمل فریضہ انجام نہیں دے سکتے۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں یا اچھا انسان بھی۔ کیونکہ ایک اچھا کردار ہی کامیابی کو پائیدار بناتا ہے، جبکہ کردار کے بغیر کامیابی معاشرے کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
یاد رکھیں!
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کی حفاظت صرف اچھی خوراک، بہترین لباس یا اعلیٰ تعلیم سے نہیں بلکہ مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق اور بہترین تربیت سے ہوتی ہے۔ آج کی صحیح تربیت ہی کل ایک مہذب، باوقار اور کامیاب معاشرے کی ضمانت ہے۔

Exit mobile version