سینیٹ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے اہم ترین سفارشات منظور کر لیں؛ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے اور غریب دوست ریلیف کی تجاویز پیش

اسلام آباد: سینیٹ آف پاکستان نے عوامی ریلیف، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور لگژری آئٹمز پر ٹیکسز بڑھانے کی متعدد اہم تجاویز کے ساتھ وفاقی بجٹ سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا نے یہ سفارشات سینیٹ کے سامنے پیش کیں، جن کا مقصد معاشی توازن برقرار رکھتے ہوئے عام آدمی پر بوجھ کم کرنا ہے۔

سفارشات کے مطابق، سینیٹ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے اور پنشنرز کے منجمد میڈیکل الاؤنس کو فوری بحال کرنے کی تجویز دی ہے۔ عوام کو براہِ راست ریلیف دینے کے لیے موٹر سائیکل پر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، جب کہ تعلیمی اسٹیشنری، ادویات، اور بچوں کی ضرورت کی اشیاء سے سیلز ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کے لیے ٹیکس استثنا مزید 10 سال کے لیے بڑھانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

دوسری جانب، سینیٹ نے امیر طبقے اور لگژری درآمدات پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے کی مضبوط سفارش کی ہے۔ تجاویز کے تحت 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں، مہنگی امپورٹڈ پراپرٹی، غیر ملکی چاکلیٹ، پرفیومز، ڈیزائنر گھڑیوں اور مہنگے اسمارٹ فونز پر کسٹم ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس بڑھایا جائے گا۔ تاہم، پہلی بار گھر یا مقامی طور پر تیار کردہ چھوٹی گاڑی خریدنے والوں کے لیے ٹیکسز اور رجسٹریشن چارجز میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

Exit mobile version