تختِ لاہور کے ساتھ نہیں رہنا، ہمیں الگ صوبہ ‘سرائیکستان’ چاہیے: سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا بڑا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ اجلاس میں جنوبی پنجاب کے حقوق اور الگ صوبے کے قیام کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب کوئی صوبہ حد سے زیادہ بڑا ہو جائے تو اس کا بٹوارہ لازم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ اب ہم تختِ لاہور کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتے، ہمیں ہمارا الگ صوبہ چاہیے اور آخر کیوں ہمارا صوبہ ‘سرائیکستان’ نہیں بنایا جا رہا؟ رانا محمود الحسن کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ہمارا دارالحکومت ملتان تھا، جبکہ بہاولپور کی عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت بھرپور ساتھ دیا تھا اور یہاں تک کہ تنخواہیں بھی ادا کی تھیں۔ اب جنوبی پنجاب کو انڈسٹریل زون، الگ ہائی کورٹ اور اپنا این ایف سی (NFC) ایوارڈ چاہیے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ہمیں زرعی اور آئی ٹی یونیورسٹیوں کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خود ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ آپ اپنے الگ صوبے کے حقوق کے لیے لڑیں۔ اس موقع پر ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت پورے یورپ سے زیادہ بچے پیدا کر رہا ہے، جہاں سالانہ 70 لاکھ بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال اٹھایا کہ ہم ان لاکھوں بچوں کے مستقل اور روزگار کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

Exit mobile version