پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دونوں اطراف سے آمادگی ہے تو پھر ان مذاکرات کے آغاز میں دیر کس بات کی ہے؟ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی مانگی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے ایوان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان کی ابتدا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اچھے الفاظ سے نہیں ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بار بار برداشت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسی سے باہمی تناؤ اور نفرتیں کم ہوں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم نے واقعی ایوان کو مضبوط اور فعال بنانا ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو مل کر ایک مشترکہ یادداشت پر دستخط کرنا ہوں گے۔
اسمبلی میں جاری حالیہ تلخیوں کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اقبال آفریدی کو معطل کر کے ایوان سے نکل جانے کا کہنا مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ اقبال آفریدی کو اجلاس کے باقی دورانیے کے لیے واپس لایا جائے۔ بیرسٹر گوہر نے وفاقی وزیر رانا تنویر کی جانب سے معذرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی معذرت کو قبول کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 جون کو تحریک انصاف کو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
