خیبرپختونخوا کا بجٹ پورے سال کا ہوگا یا تین ماہ کا؟ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے پہلے صرف 3 ماہ کا عبوری بجٹ پیش کرنا چاہتے تھے، لیکن 3 ماہ کے بجٹ کی پیشکش میں قانونی سقم آڑے آ گیا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ پورے سال کا بجٹ پیش نہ کرنے سے صوبے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہو سکتا تھا، اسی لیے پارٹی نے صوبے کے وسیع تر مفاد میں وزیراعلیٰ کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صوبائی بجٹ جمعے 19 جون کو پیش ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی قیادت کے اندر بجٹ کے حوالے سے تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کے دعوے کے برعکس کہا کہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اور نہ ہی یہ طے پایا ہے کہ بجٹ سہ ماہی ہوگا یا پورے سال کا۔ مینا خان نے زور دے کر مطالبہ کیا کہ بجٹ سے پہلے وزیراعلیٰ اور مشیرِ خزانہ کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، کیونکہ عوام نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا ہے اور بجٹ میں عوامی ریلیف کے حوالے سے ان کی ہدایات اور مشاورت انتہائی ضروری ہے۔

Exit mobile version