تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج ایک ایسے ریلوے اسٹیشن کے شکستہ بینچ پر بیٹھے تھے جہاں وقت تو چلتا رہا مگر ترقی کی گاڑی شاید کئی دہائیاں پہلے کسی نامعلوم سگنل پر رک گئی تھی صبح کی دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہیں تھی اور سورج کی کرنیں زنگ آلود پٹریوں پر ایسے بکھری ہوئی تھیں جیسے کسی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں امید کے آخری چراغ ٹمٹما رہے ہوں اسٹیشن کی عمارت دور سے یوں دکھائی دیتی تھی جیسے کسی زمانے کی حسین دوشیزہ بڑھاپے کی جھریوں میں اپنی جوانی کی تصویریں تلاش کر رہی ہو دیواروں سے اکھڑا ہوا پلستر خاموشی سے یہ گواہی دے رہا تھا کہ یہاں کبھی زندگی کا شور تھا یہاں کبھی محبتوں کی آمد و رفت تھی یہاں کبھی مسافروں کے خواب اترتے تھے اور منزلوں کی خوشبو چڑھتی تھی مگر آج ہر طرف ایک ایسی خاموشی تھی جو انسان کے دل میں اتر کر سوال بن جاتی ہے اور جب انہوں نے چمڑے کے چوڑے بیلٹ سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے اس ابھرے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا جو پچھلے چند سالوں کی مفت خوری اور آرام پسندی کا منہ بولتا ثبوت تھا تو انہیں یکایک احساس ہوا کہ کائنات کا یہ بھی کیسا مضحکہ خیز اصول ہے کہ جب انسان کا پیٹ اور اس کا غرور اپنی طبعی حدود سے تجاوز کر جائیں تو پھر وہ کسی کو گلے لگانے کے قابل ہی نہیں رہتا کیونکہ پیٹ کا یہ جغرافیائی ابھار مادی قربتوں میں دیوار بن جاتا ہے اور اندر کا غرور روح کے مابین اتنے گہرے فاصلے پیدا کر دیتا ہے کہ اپنوں کی بائیں بھی چھوٹی پڑنے لگتی ہیں اور انسان اپنی ہی چربی اور انا کے خول میں قید ہو کر رہ جاتا ہے میاں صاحب نے اپنی پرانی ٹوپی درست کی اور سامنے پھیلے سنسان پلیٹ فارم کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی وہ سانس بھی شاید ان ہی پرانی ریل گاڑیوں کی طرح تھکی ہوئی تھی جنہوں نے اس سرزمین پر لاکھوں انسانوں کی کہانیاں ڈھوئی تھیں انہوں نے سوچا عجیب بات ہے انسان جب غریب ہوتا ہے تو دوسروں کے سہارے کی تلاش میں رہتا ہے مگر جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے اور غرور بڑھ جاتا ہے تو وہ انہی لوگوں کو بھول جاتا ہے جنہوں نے اس کے خالی دنوں میں اس کا ہاتھ تھااما تھا یہی حال قوموں کا بھی ہوتا ہے یہی حال اداروں کا بھی ہوتا ہے یہ اسٹیشن بھی کبھی اپنے لوگوں سے گلے ملتا تھا یہاں ہر آنے والی ٹرین کے ساتھ خوشیوں کے قافلے اترتے تھے یہاں ماں کی آنکھیں بیٹے کے انتظار میں بھیگتی تھیں یہاں محبوب کی ایک جھلک کے لیے دل دھڑکتے تھے یہاں فوجی جوان رخصت ہوتے تھے اور ان کی مائیں دعاؤں کے پھول ان کے قدموں میں بچھاتی تھیں یہاں مزدور اپنے بچوں کے لیے رزق کی تلاش میں روانہ ہوتے تھے اور واپسی پر ان کے ہاتھوں میں تحفے ہوتے تھے مگر آج اس اسٹیشن کی حالت ایسی تھی جیسے کسی بوڑھے باپ کو اس کے اپنے بچوں نے تنہا چھوڑ دیا ہو جہاں کی اکھڑی ہوئی پٹریاں اور دھول سے اٹے ہوئے لوہے کے سگنل وقت کی بے رحمی کا ماتم کر رہے تھے اور ان کی خستہ حالی دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کسی بوڑھے جاگیردار کی حویلی کا آخری چراغ بھی گل ہو چکا ہو جہاں کبھی زندگی اپنے پورے رومان تلاطم اور سحر انگیزی کے ساتھ دھڑکتی تھی وہاں اب صرف چمگادڑوں کے غول اور شام کے سائے میں آوارہ کتوں کی بریفنگ چل رہی ہوتی ہے جو اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ مادی ترقی کے اس پرشکوہ دور میں پرانی وضع داری اور مخلص رشتوں کی اوقات اب ایک متروک کباڑ سے زیادہ نہیں رہی ہوا کے ایک جھونکے نے پلیٹ فارم پر پڑے کاغذ کو اڑایا تو بندن میاں ہنس پڑے اور کہنے لگے واہ رے ترقی تیرے قصے بھی عجیب ہیں جن لوگوں نے کبھی ٹرین میں سفر کرنا اپنی شان سمجھا تھا آج وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر انہی ریلوے اسٹیشنوں کے پاس سے گرد اڑاتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور شاید ان کی نگاہ ایک لمحے کے لیے بھی اس طرف نہیں اٹھتی جہاں کبھی ان کی زندگی کی یادیں بستی تھیں اور وہ جو لوہے کی چوہے دانی جیسے بنچ پر بیٹھے تھے تو لکڑی کی چڑچڑاہٹ نے انہیں یاد دلایا کہ یہ بنچ بھی ان کے بھاری بھرکم وجود اور اس سے کہیں زیادہ بھاری انا کا بوجھ اٹھانے سے اب قاری طور پر معذرت خواہ ہے مگر ان کا تخیل تو اس وقت ماضی کی ان رومان پرور راتوں کی مسافت پر نکل چکا تھا جب اسی پلیٹ فارم پر بھاپ اڑاتے ہوئے کالے انجن کسی الہڑ دوشیزہ کی طرح ناز و انداز سے سیٹی بجاتے ہوئے داخل ہوتے تھے اور مسافروں کے دلوں کی دھڑکنیں اس لوہے کے دیو ہیکل وجود کی چاپ کے ساتھ یوں تال ملاتی تھیں جیسے کوئی صوفی وجد میں آ گیا ہو جب محبتیں واٹس ایپ کے نیلے ٹک کی محتاج نہیں تھیں بلکہ پیلے لفافوں میں بند ہو کر مہینوں کا سفر طے کرتی تھیں اور کسی کے آنے کی امید میں اسٹیشن کی پٹریوں پر اس طرح نظریں جمائی جاتی تھیں جیسے آسمان پر عید کا چاند تلاش کیا جا رہا ہو وہ بھی کیا دور تھا جب ریلوے اسٹیشن صرف مسافروں کے آنے جانے کی جگہ نہیں بلکہ جذبوں کی وہ آماجگاہ تھا جہاں جدائی کے آنسو سچی مہرابوں کی طرح گالوں پر سجتے تھے اور جب کوئی اپنا ریل کی کھڑکی سے ہاتھ ہلاتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے وجود کا ایک حصہ کٹ کر دور جا رہا ہو مگر اجنبیت کے اس جدید شاہکار دور نے انسان کو ایسا مشینی انجن بنا دیا ہے جو صرف کالا دھواں اگلنا جانتا ہے اور جس کے پاس تیز رفتار ٹرینیں تو ہیں لیکن اپنے بوڑھے باپ کے پاس بیٹھ کر دو منٹ بات کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ اس کا بڑھا ہوا پیٹ اور ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں کا جھوٹا غرور اسے زمین پر پاؤں رکھنے کی اجازت ہی نہیں دیتا بندن میاں کو یاد آیا کہ ایک وقت تھا جب اسٹیشن ماسٹر کی سیٹی میں بھی وقار ہوتا تھا جب سگنل مین کی ذمہ داری عبادت لگتی تھی جب ریلوے کا ملازم اپنے ادارے کو صرف نوکری نہیں بلکہ اپنی شناخت سمجھتا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ پیٹ بڑھنے لگے اور غرور پھولنے لگا عہدے خدمت کی جگہ طاقت بن گئے کرسی امانت کی جگہ ملکیت بن گئی اور ادارے ماں کی طرح سنبھالنے کے بجائے مال غنیمت کی طرح لوٹے جانے لگے اس ویرانی کے پس منظر میں اگر غور سے دیکھا جائے تو اسٹیشن کا وہ سگنل جو کبھی سرخ اور ہری روشنیوں سے مسافروں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا تھا اب ایک ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح لٹکا ہوا معاشرے کے ان والدین کی یاد دلاتا ہے جنہیں اولاد نے اپنی مادی آسائشوں کے بنگلوں میں کسی کونے کے کباڑ خانے کی طرح پھینک دیا ہے اور وہ قلی جو کبھی دو آنے کے عوض پورے خاندان کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا کر ہنستا ہوا دوڑتا تھا آج کا انسان اس کی نسبت اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ وہ اپنے دل سے نفرت اور حسد کا ایک چھوٹا سا ٹوکرہ بھی اتارنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اسے اپنے سر کا تاج بنا کر پھرتا ہے انہوں نے سامنے کھڑی ایک خستہ حال بوگی کو دیکھا جس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور رنگ ماند پڑ چکا تھا وہ بوگی انہیں کسی ایسی بیوہ عورت کی طرح لگی جو زمانے کے دکھ سہتے سہتے خاموش ہو گئی ہو بندن میاں نے دل ہی دل میں کہا اے لوہے کے اس تھکے ہوئے جسم تجھ پر بھی کبھی کتنے رنگ تھے کتنی رونق تھی کتنے خواب سوار ہوتے تھے مگر اب تیرے حال پر کوئی آنسو بہانے والا بھی نہیں اسی دوران ایک بوڑھا ریلوے ملازم ہاتھ میں جھاڑو لیے آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر چلتا نظر آیا اس کے چہرے کی جھریاں وقت کی داستان سناتی تھیں بندن میاں نے اسے دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ شخص نہیں بلکہ پوری ریلوے کی تاریخ چلتی پھر رہی ہو وہ قریب آیا اور بینچ پر بیٹھ گیا دونوں کچھ دیر خاموش رہے پھر بوڑھے نے آہ بھر کر کہا صاحب اب وہ دن نہیں رہے بندن میاں مسکرائے اور بولے دن تو اب بھی چوبیس گھنٹے کے ہی ہیں فرق صرف نیتوں کا ہے بوڑھا ہنس پڑا اور کہنے لگا بات تو سچ ہے پہلے تنخواہ کم تھی مگر دل بڑے تھے آج تنخواہیں بڑھ گئی ہیں مگر دل سکڑ گئے ہیں پہلے لوگ ایک دوسرے کے دکھ بانٹتے تھے آج ایک دوسرے کی کامیابی بھی برداشت نہیں ہوتی تضاد کا یہ تماشہ کتنا دلکش اور دردناک ہے کہ آج ہماری جیبیں کریڈٹ کارڈز سے بھری ہیں ہمارے پاس دنیا بھر کی معلومات کے ذخیرے موجود ہیں لیکن عاجزی کا وہ ایک ادنیٰ سا موتی گم ہو چکا ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا تھا ہم نے لوہے کی پٹریاں تو بچھا لیں مگر ان پر دوستی اور اخلاص کی کوئی گاڑی چلانے میں ناکام رہے کیونکہ ہمارا پیٹ ہوس کی غذا سے کبھی بھرتا ہی نہیں اور ہمارا غرور ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ شاید ہم اس کائنات کے واحد ناخدا ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موت کی تیز رفتار ایکسپریس جب آئے گی تو یہ ابھرا ہوا پیٹ بھی اسی مٹی کا ڈھیر بنے گا اور انا کا وہ سارا تاج محل پنو عاقل کے اس خستہ حال اسٹیشن کی چھت کی طرح زمین بوس ہو جائے گا جس کے ملبے کے نیچے اب صرف حسرتیں دم توڑ رہی ہیں میاں صاحب نے اپنی پُر نم آنکھوں سے دیکھا کہ سامنے کی دیوار پر کسی عاشقِ نامراد نے کوئلے سے اپنے محبوب کا نام لکھا تھا جو اب بارش کے پانی اور وقت کی دھول سے مٹ کر ایک بدنما داغ بن چکا ہے اور یہی داغ دراصل ہماری اس تہذیب کا چہرہ ہے جس نے ترقی کے نام پر اپنی روح کا سودا کر لیا جس نے رشتوں کے لمس پر ڈالروں کی چمک کو ترجیح دی اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا سماج ایک ایسا ویران جنکشن بن چکا ہے جہاں گاڑیاں تو آتی ہیں شور تو مچتا ہے رونق کا گماں بھی ہوتا ہے لیکن کوئی کسی کا استقبال کرنے کے لیے پھول لے کر کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی رخصتی پر کسی کی آنکھ سے محبت کا کوئی قطرہ ٹپکتا ہے بندن میاں نے سر ہلایا اور سوچا کہ یہی تو اصل بیماری ہے جب پیٹ ضرورت سے زیادہ بھر جائے اور غرور عقل سے بڑا ہو جائے تو انسان اپنوں کو گلے لگانے کے بجائے انہیں اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے اسٹیشن کی ویرانی میں پرندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ایک کبوتر ٹوٹی ہوئی چھت کے نیچے بیٹھا تھا جیسے وہ بھی اس عمارت کی آخری سانسوں کا محافظ ہو بندن میاں کو یوں لگا جیسے یہ پرندے انسانوں سے زیادہ وفادار ہیں کم از کم یہ اپنے گھونسلے نہیں بھولتے کم از کم یہ اپنی جڑوں سے شرمندہ نہیں ہوتے پھر ان کی نگاہ ایک زنگ آلود بورڈ پر پڑی جس پر اسٹیشن کا نام بمشکل پڑھا جا سکتا تھا انہوں نے سوچا نام مٹتے نہیں انہیں مٹایا جاتا ہے اور ادارے مرتے نہیں انہیں مارا جاتا ہے جب ذمہ دار لوگ اپنی ذمہ داری بھول جائیں جب امانت دار امانت میں خیانت کرنے لگیں جب منصوبے فائلوں میں دفن ہو جائیں اور وسائل جیبوں میں منتقل ہونے لگیں تو پھر یہی ہوتا ہے جو آج اس اسٹیشن کے ساتھ ہوا بندن میاں کے ذہن میں ماضی کی تصویریں ابھرنے لگیں انہیں وہ زمانہ یاد آیا جب شام کے وقت ٹرین آتی تو پورا پلیٹ فارم جگمگا اٹھتا تھا چائے والوں کی صدائیں بچوں کی خوشیاں مسافروں کی باتیں اور انجن کی آواز ایک عجیب رومانوی موسیقی پیدا کرتی تھیں وہ موسیقی زندگی کی موسیقی تھی امید کی موسیقی تھی تعلق کی موسیقی تھی مگر آج خاموشی اتنی گہری تھی کہ اپنے قدموں کی چاپ بھی اجنبی لگتی تھی انہوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے زندہ نہیں رہتیں قومیں اپنے رویوں سے زندہ رہتی ہیں جب لوگ اپنے بزرگوں کو بھول جائیں جب ادارے اپنے محسنوں کو بھول جائیں جب اولاد اپنے والدین کو بھول جائے اور جب حکمران اپنی عوام کو بھول جائیں تو پھر ترقی کے دعوے صرف رنگین پوسٹر بن کر رہ جاتے ہیں بندن میاں نے مزاحیہ انداز میں خود سے کہا لگتا ہے اس اسٹیشن کی قسمت بھی اس سرکاری فائل جیسی ہو گئی ہے جو میز سے میز تک سفر کرتی رہتی ہے مگر منزل تک نہیں پہنچتی پھر خود ہی ہنس دیے مگر اس ہنسی میں درد چھپا ہوا تھا کیونکہ بعض اوقات طنز ہی سچائی کا سب سے طاقتور آئینہ بن جاتا ہے وہ اٹھے اور آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر چلنے لگے ہر قدم کے ساتھ انہیں محسوس ہو رہا تھا جیسے زمین ان سے بات کر رہی ہو جیسے پٹریاں اپنے زخم سنا رہی ہوں جیسے دیواریں اپنے دن یاد کر رہی ہوں اور جیسے وقت خود ان کے ساتھ چل رہا ہو انہوں نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ اگر یہ اسٹیشن بول سکتا تو شاید کہتا مجھے نئی عمارت نہیں چاہیے مجھے نئے رنگ نہیں چاہیے مجھے صرف وہ لوگ واپس چاہیے جو مجھے اپنا سمجھتے تھے اسی لمحے بندن میاں کے دل میں ایک عجیب سی روشنی جاگی انہوں نے سوچا اصل مسئلہ ریلوے کا نہیں اصل مسئلہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی بے حسی کا ہے جب انسان اپنے رشتوں کو نظر انداز کرتا ہے تو گھر ویران ہو جاتے ہیں جب قوم اپنے اداروں کو نظر انداز کرتی ہے تو ملک کمزور ہو جاتا ہے اور جب انسان اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے تو اس کا مستقبل بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں سورج اب پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور دل ہی دل میں کہا ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا زنگ آلود پٹریاں پھر چمک سکتی ہیں خستہ عمارتیں پھر آباد ہو سکتی ہیں ویران پلیٹ فارم پھر مسافروں کی آوازوں سے گونج سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنے اندر کے غرور کو کم کریں اپنے دلوں کے دروازے کھولیں اور اپنے اداروں کو اپنی ماں کی طرح عزت دینا سیکھیں اس سنگین مادی دور کی سب سے بڑی اصلاح یہی ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے وجود کے اس جھوٹے ابھار کو کم کرے اپنے اندر کے فرعون کو عاجزی کے دربار میں سرنگوں کرے اور دوبارہ سے ان پرانے رشتوں کی مٹیالی خوشبو کو گلے سے لگائے جو بغیر کسی لالچ اور مفاد کے صرف محبت کی بنیاد پر قائم تھے کیونکہ جب تک ہم اپنے دلوں کے اس ویران اسٹیشن پر اخلاص کی ہری جھنڈی نہیں لہرائیں گے تب تک زندگی کی کوئی بھی رومانوی اور پرسکون گاڑی ہمارے وجود کی پٹری پر نہیں اترے گی اور ہم یوں ہی تنہائی کی دھول اڑاتے ہوئے اسی خستہ حال عمارت کی طرح ایک دن تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جائیں گے جہاں کوئی ہماری یاد کا دیا جلانے والا بھی باقی نہیں رہے گا بندن میاں نے جاتے جاتے آخری بار اس اسٹیشن کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی وہ نمی صرف ایک عمارت کے لیے نہیں تھی بلکہ اس سوچ کے لیے تھی جو ہم نے کہیں راستے میں کھو دی تھی انہوں نے دل میں عہد کیا کہ جب تک سانس باقی ہے وہ لوگوں کو یہی یاد دلاتے رہیں گے کہ ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام نہیں ترقی اپنے ماضی کی حفاظت اپنے حال کی اصلاح اور اپنے مستقبل کی ذمہ داری کا نام ہے اور یہ بھی کہ انسان کا اصل قد اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے ظرف سے ناپا جاتا ہے کیونکہ پیٹ کا بڑھ جانا کوئی کمال نہیں مگر دل کا بڑا رہ جانا سب سے بڑی دولت ہے اور جو شخص اپنے اپنوں کو گلے لگانا نہیں بھولتا وہی حقیقت میں کامیاب ہوتا ہے یہی اصول خاندانوں کو جوڑتا ہے یہی اداروں کو زندہ رکھتا ہے یہی قوموں کو عظمت دیتا ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو ویران اسٹیشنوں سے لے کر ویران دلوں تک ہر اندھیرے کو شکست دے سکتی ہے اور انسان کو مٹی کے اس ڈھیر سے اٹھا کر لافانی محبتوں کا وہ ابدی مسافر بنا دیتی ہے جس کی منزل ہمیشہ امر رہتی ہے اور جس کا وجود دوسروں کے لیے سایہ دار شجر بن جاتا ہے۔
