امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کی انتہائی اہم اور حساس شقیں منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں جوہری پروگرام، سخت اقتصادی پابندیاں اور آبنائے ہرمز سے متعلق تزویراتی معاملات شامل ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران باقاعدہ اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ نہ تو کوئی جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکا نے اتفاق کیا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے (ڈاؤن گریڈ) پر لائے گا، جبکہ اس کے تکنیکی طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
معاہدے کی دیگر اہم شقوں کے مطابق، امریکا ایرانی تیل پر عائد سخت پابندیوں کو ایک مخصوص مدت کے لیے نرم کر دے گا، جس کے نتیجے میں تہران کو بین الاقوامی سطح پر تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی براہِ راست حاصل کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ ساتھ ہی، حتمی معاہدہ طے پانے تک امریکا ایران پر کوئی بھی نئی اقتصادی پابندی عائد نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تمام عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دے گا، جبکہ جواب میں امریکا خطے سے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ معاشی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت کے طور پر، امریکا ایران کے منجمد کیے گئے 25 ارب ڈالر کے اثاثے بھی بحال کرے گا، جس میں براہِ راست نقد ادائیگیاں، علاقائی ممالک کا تعاون اور مالیاتی کریڈٹ لائنز کے ذریعے فنڈز کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس تاریخی معاہدے پر دستخط کی حتمی تاریخ اور وقت کے حوالے سے تاحال دونوں اطراف سے شدید متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں اور صورتحال بدستور مبہم ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے پر آج اتوار کے روز ہی دستخط کر دیے جائیں گے، جبکہ دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکی صدر کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار اتوار کو کسی بھی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا پہلے ہی بتا چکے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ دراصل اپنی سالگرہ کی مناسبت سے اس تاریخی تقریب کو آج 14 جون ہی کے دن منعقد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس موقع کو سیاسی و علامتی اہمیت دے کر اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کر سکیں، جس کی وجہ سے دستخط کا معاملہ تاحال لٹکا ہوا ہے۔
