جون 15, 2026

امریکی میڈیا کا سنسنی خیز دعویٰ: ایران نے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کے راستے بند کر کے بارودی سرنگیں نصب کر دیں

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی جن انتہائی حساس زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں افزودہ یورینیم محفوظ کر رکھا ہے، انہیں مستقل طور پر سیل کر کے وہاں تک پہنچنے والے تمام راستوں پر خطرناک بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے انٹیلی جنس معاملات سے واقف معتبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حفاظت کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے غیر معمولی اور انتہائی سخت اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں زیرِ زمین اہم سرنگوں کو جان بوجھ کر منہدم کرنا اور ان کے داخلی و خارجی راستوں پر مائنز (بارودی سرنگیں) بچھانا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایران کے پاس موجود تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک کسی بھی بیرونی قوت کی رسائی اب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انٹیلی جنس اداروں کے مروجہ اندازوں کے مطابق، اس سٹرٹیجک جوہری ذخیرے کا ایک بہت بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کی انہی منہدم شدہ خفیہ سرنگوں میں محفوظ ہے، جبکہ کچھ دیگر حساس مواد کو ملک کے مختلف خفیہ مقامات پر منتقل کر کے اسی طرح محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ مئی کے وسط میں امریکی فوج اس ایرانی جوہری مواد پر اچانک قبضے کے لیے ایک انتہائی خفیہ کمانڈو آپریشن کے لیے مکمل تیار تھی، تاہم دفاعی ماہرین کی جانب سے اس مشن کو حد سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن قرار دیے جانے کے بعد اسے عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا تھا۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ناکام امریکی منصوبے کی بھنک پڑتے ہی ایران نے ان تمام جوہری مقامات کی دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط، پیچیدہ اور کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف محفوظ بنا دیا ہے۔