کلاس روم سے زندگی کا سفر ، پچیس سال بعد استاد اور شاگردوں کی یادگار ملاقات

از قلم: فیصل جنجوعہ

زندگی کا سفر عجیب رنگ لیے ہوتا ہے۔ وقت کی تیز رفتار لہروں میں انسان بہت کچھ پیچھے چھوڑ آتا ہے، مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو برسوں بعد بھی دل کے کسی گوشے میں تازہ رہتی ہیں۔ انہی یادوں میں ایک یاد کلاس روم کی بھی ہوتی ہے، جہاں خوابوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جہاں استاد علم کی شمع روشن کرتا ہے اور شاگرد اپنے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔

حال ہی میں سیشن 2001-02 کے چند سابق طلبہ کو اپنے استاد سے پچیس سال بعد ملاقات کا موقع ملا۔ یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ جذبات، محبت، احترام اور یادوں سے بھرپور ایک خوبصورت لمحہ تھا۔ جب شاگرد اپنے استاد کے سامنے بیٹھے تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت کا پہیہ ایک بار پھر ماضی کی طرف لوٹ گیا ہو۔ وہی کلاس روم، وہی سبق، وہی شرارتیں اور وہی خواب دوبارہ آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے۔

اس ملاقات میں شامل طلبہ آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ کوئی کاروباری دنیا میں نام کما رہا ہے، کوئی سرکاری یا نجی اداروں میں خدمات انجام دے رہا ہے اور کوئی اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مگر ان تمام کامیابیوں کے باوجود ان کے دلوں میں اپنے استاد کے لیے وہی احترام اور محبت موجود تھی جو طالب علمی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔

گفتگو کے دوران پرانی یادوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کلاس روم کے دلچسپ واقعات، امتحانات کے دن، اساتذہ کی نصیحتیں اور دوستوں کے ساتھ گزارے گئے سنہری لمحات سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔ ہر شخص کے پاس سنانے کے لیے کوئی نہ کوئی یادگار قصہ موجود تھا۔

استاد کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے شاگرد زندگی میں کامیاب ہوں، معاشرے کے مفید شہری بنیں اور برسوں بعد بھی اپنے استاد کو عزت اور محبت سے یاد رکھیں۔ ایک استاد کی اصل کامیابی اس کے شاگرد ہوتے ہیں، اور جب یہی شاگرد کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے دوبارہ اپنے استاد کے پاس لوٹیں تو یہ لمحہ یقیناً ناقابلِ فراموش بن جاتا ہے۔

یہ ملاقات اس حقیقت کا عملی ثبوت تھی کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ وقت اور فاصلے کا محتاج نہیں ہوتا۔ پچیس سال گزر جانے کے باوجود اس رشتے کی محبت، خلوص اور احترام میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہی وہ رشتہ ہے جو نسلوں کو جوڑتا ہے اور معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

بلاشبہ، کلاس روم سے شروع ہونے والا سفر زندگی کے مختلف راستوں سے گزرتا ہوا کامیابیوں تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اپنے استاد اور ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہمیشہ انسان کے دل میں زندہ رہتا ہے۔ یہی یادیں زندگی کا اصل سرمایہ اور حقیقی اثاثہ ہوتی ہیں۔

Exit mobile version