بہاولنگر وائلڈ لائف پارک: تفریح گاہ یا اذیت کدہ؟

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​ شہر کے وسط میں قائم وائلڈ لائف پارک بہاولنگر کبھی شہریوں، بالخصوص بچوں کے لیے تفریح کا واحد مرکز اور مسرتوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا مگر آج جب آپ یہاں کے دروازے سے گزرتے ہیں تو تفریح تو کجا، آپ کو ایک ایسی ویرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کسی قبرستان کی یاد دلاتی ہے۔ اس مخدوش حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں ہفتے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) بہاولنگر کے جنرل سیکرٹری جناب ہمایوں بٹ صاحب تفریح کی غرض سے وائلڈ لائف پارک پہنچے تو وہاں کے المناک حالات دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رو دیا؛ یہ وہ دردناک مناظر ہیں جنہیں دیکھ کر ایک حساس انسان کا دل دہل جائے لیکن حیرت اور دکھ اس بات پر ہے کہ انتظامیہ کی نظروں سے یہ سب اوجھل کیوں ہے؟ وائلڈ لائف پارک بہاولنگر اب ایک تفریح گاہ نہیں بلکہ "اذیت کدہ” بن چکا ہے جہاں بے زبان جانوروں کا کوئی والی وارث ہے اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی پرسانِ حال، یہ بے زبان مخلوق جو قدرت کی جانب سے ہمارے پاس ایک امانت ہے، بھوک، پیاس اور گرمی سے نڈھال ہو کر موت کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب پارک کا رخ کرنے والے شہریوں اور معصوم بچوں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں، کیونکہ یہاں کبھی جو سرسبز درخت اور دیدہ زیب پھول اس پارک کی آن بان ہوا کرتے تھے اور فضاؤں کو معطر رکھتے تھے، آج وہ پانی کی ایک بوند کو ترستے ترستے سوکھ کر لکڑی کا ڈھیر بن چکے ہیں، گویا پارک کے قدرتی حسن کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ بچوں کے لیے یہاں کوئی جھولے یا سامانِ تفریح موجود نہیں جس سے پارک کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو کر رہ گیا ہے اور آنے والے خاندانوں کے لیے مایوسی کے سوا کچھ نہیں بچا جبکہ خواتین اور بچوں کے لیے واش رومز کا حال تو یہ ہے کہ وہاں پانی تو دور کی بات، طہارت کے لیے ایک معمولی لوٹا تک دستیاب نہیں؛ یہ بدترین صورتحال چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ ہماری انتظامیہ انسانیت کے کس پستی والے درجے پر کھڑی ہے اور کس قدر بے حسی کا شکار ہے۔ چنانچہ ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سمیت محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسرانِ بالا سے میرا سوال ہے کہ آپ کی ترجیحات میں یہ شہر اور اس کے باسی آخر کس نمبر پر ہیں؟ آخر کیوں عوامی مقامات کی اس طرح تذلیل کی جا رہی ہے؟ آپ کی تنخواہیں اور مراعات عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا ہوتی ہیں، تو کیا اس کے بدلے عوام کو وائلڈ لائف پارک کا یہ ویران اور غیر انسانی ماحول تحفے میں دیا جا رہا ہے؟ کیا آپ کی ذمہ داری محض اے سی کمروں میں بیٹھ کر فائلوں کے انبار لگانا ہے یا عوامی مقامات کے زخموں پر مرہم رکھنا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے؟ یاد رکھیں، ہمایوں بٹ صاحب کا وہاں جانا ایک چشم کشا لمحہ ثابت ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب عملی اقدام اٹھانے اور خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کا وقت آ چکا ہے لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ سے لے کر صوبائی سطح تک اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے کیونکہ ہمیں صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہئیں، جن میں جانوروں کے لیے خوراک، پودوں کی آبیاری، بچوں کے لیے جدید جھولے اور بنیادی انسانی سہولیات کی بحالی وقت کا عین تقاضا ہے۔ آخر میں پروردگارِ عالم ہمارے حکامِ بالا کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کریں اور وائلڈ لائف پارک بہاولنگر میں موجود بے زبان جانوروں اور پریشان حال شہریوں کی تکالیف کو دور کرنے کا سبب بنیں۔ دعا ہے کہ یہ تفریح گاہ دوبارہ اپنی رونقیں بحال کرے، ہمارے شہر کے گلشن میں ہریالی لوٹ آئے اور یہاں آنے والوں، بالخصوص بچوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹیں بکھر جائیں۔ آمین

Exit mobile version