ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کی رات ایک انتہائی اہم خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تاریخی امن معاہدے پر ڈیجیٹل اور ریموٹلی (دور بیٹھ کر) دستخط کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد یہ اہم سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ اپنی نوعیت کے اس سب سے بڑے تاریخی معاہدے پر بلمشافہ ملاقات کے بجائے ڈیجیٹل دستخط کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے ایک معتبر سفارتی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنیوا میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی ذاتی حیثیت میں شرکت اور دستخط کی تقریب کے لیے تمام تر سفارتی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، لیکن بالکل آخری لمحات میں تہران کے پالیسی ساز اداروں نے اس منصوبے کو تبدیل کر دیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، ایران کو تاحال امریکہ اور اسرائیل پر بالکل بھروسہ نہیں ہے اور دو بنیادی وجوہات کی بنا پر آخری وقت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذاتی حیثیت میں جانے کے بجائے یہ عمل ریموٹلی سرانجام دیا جائے۔ باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ اگر یہ تقریب جنیوا کے بجائے پاکستان میں منعقد کی گئی ہوتی، تو عین ممکن تھا کہ ایرانی وفد وہاں پہنچ جاتا کیونکہ پاکستان کی میزبانی میں ایران کے تحفظات کافی حد تک دور ہو جاتے۔ تہران سے جنیوا تک کے طویل فضائی سفر کے دوران ایرانی وفد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر سنگین سوالات موجود تھے، کیونکہ ایران ماضی میں جے سی پی او اے معاہدے سے یکطرفہ طور پر پیچھے ہٹنے والے اور مذاکرات کے دوران بھی ایران پر بمباری کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کسی صورت اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے اعلیٰ حکام کو یہ شدید خدشات بھی لاحق تھے کہ اس طویل فضائی سفر کے دوران اسرائیل کی جانب سے سبوتاژ کی کوئی کارروائی کی جا سکتی ہے، کیونکہ لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے تہران کو کسی بھی حد تک جانے کی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ریموٹ دستخطوں کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کی مسلسل موجودگی بھی ہے؛ ایران کو اندیشہ ہے کہ اگر یہ جہاز واپس نہ گئے تو فٹبال ورلڈ کپ کے فوراً بعد خطے میں جنگ کے بادل دوبارہ گہرے ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ ذاتی حیثیت میں جنیوا جا کر معاہدے کو وہ درجہ نہیں دینا چاہتا جو بلمشافہ ملاقات سے بنتا۔
اس سوال پر کہ جب یہ حالات پہلے سے موجود تھے تو پھر شروع میں جنیوا جانے پر آمادگی کیوں ظاہر کی گئی، جبکہ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو اس ڈیل کے لیے یورپ بھیج رہے ہیں؟ سفارتی ذریعے نے امریکہ کی جانب سے ایرانی علاقوں پر کی گئی حالیہ بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقین میں بداعتمادی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ایران کو آخری وقت تک یقین ہی نہیں تھا کہ معاملہ دستخطوں تک پہنچ پائے گا۔ چونکہ امریکہ نے اس جنگ کا آغاز ایران میں اہم ترین رہنماؤں کے اجلاس کو نشانہ بنا کر کیا تھا، اس لیے تہران میں بعض حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور اسی لیے آخری لمحات میں اعلیٰ ترین سطح کے مشورے کے بعد ڈیجیٹل دستخط کا فیصلہ کیا گیا۔
مصدقہ ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اس تاریخی موقع پر بطور ثالث پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو بھی جنیوا میں موجود ہونا تھا جس کی تیاریاں سو فیصد مکمل تھیں اور وہاں پاکستانی سفارتکاروں کے لیے ہوٹل کی بکنگز بھی شروع ہو چکی تھیں، مگر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اچانک انٹرویو نے پوری صورتحال کا رخ بدل دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے بااثر حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں اس ریموٹ معاہدے پر دونوں طرف سے پوری طرح عمل درآمد کر دیا گیا، تو مستقبل میں فریقین کے درمیان بلمشافہ مذاکرات کا راستا کھلے گا اور حتمی معاہدے پر ایران ذاتی حیثیت میں بھی دستخط کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔
