امریکی میڈیا نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے نیٹو حکام کا اجلاس چھوڑ کر ہنگامی بنیادوں پر فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے انتہائی حساس مشن پر بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیے لیکن انہوں نے ایران کی جانب سے شدید ردعمل، جنگ میں ممکنہ اضافے، عالمی معیشت کے عدم استحکام اور امریکی فوجیوں کے بھاری جانی نقصان کے خدشات کے باعث اس کارروائی کو روکتے ہوئے فوج کو گرین سگنل دینے سے صاف انکار کر دیا۔
امریکہ کا ایران پر زمینی حملے کا خفیہ مشن بے نقاب؛ صدر ٹرمپ نے آخری وقت پر آپریشن روک دیا
