بندن میاں اور خوابوں کا قرض زندگی صبر اور استقامت کا ایک سفر

تحریر: محمد انور بھٹی

آج صبح کا منظر ہمیشہ کی طرح پرسکون تھامگر فضا میں ایک عجیب سی خنکی تھی جو انسان کے اندر تک اتر جاتی ہے۔ بندن میاں حسبِ معمول اپنے محلے کے اس پرانے نکڑ پر چائے کی پیالی تھامے بیٹھے تھےجہاں سے گزرنے والا ہر شخص زندگی کی کوئی نہ کوئی کہانی اپنے ماتھے پر لکھے گزرتا ہے۔ سامنے سے ایک نوجوان کا گزر ہوا جس کا چہرہ کسی ایسی کتاب کی طرح تھا جس کے اوراق وقت کی بے رحمی نے پڑھ کر بند کر دیے ہوں۔ اس کے چہرے پر مایوسی کی ایسی تہہ جمی تھی جیسے کسی سرکاری دفتر میں برسوں پرانی فائل پر دھول جم جاتی ہے اور اب اسے اٹھانے کی ہمت کسی میں نہیں ہوتی۔ بندن میاں نے اپنی روایتی مسکراہٹ لبوں پر سجائی اور ایک پروقار آواز میں پکارا ارے بھئی یہ چہرہ کیوں لٹکا رکھا ہے؟ جیسے ساری دنیا کا بوجھ تمہارے ہی کاندھوں پر آن پڑا ہو۔نوجوان رکا ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا بندن میاں بہت محنت کی، بہت دوڑ دھوپ کی، خون پسینہ ایک کر دیا لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ اب تو لگتا ہے کہ خواب دیکھنا ہی سب سے بڑی حماقت ہے۔
بندن میاں مسکرائے، چائے کا ایک گہرا گھونٹ لیا اور بولے، بیٹا اس دنیا میں سب سے بڑی غلط فہمی ہی یہ ہے کہ لوگ محنت کا حساب گھڑی کی سوئیوں سے لگاتے ہیں جبکہ قدرت کا حساب کیلنڈر، موسموں کی تبدیلی اور حالات کی پختگی سے چلتا ہے۔ تم شاید یہ سمجھتے ہو کہ آج بیج بویا تو کل ہی درخت سایہ دار ہو جائے گامگر فطرت تو صدیوں کی ریاضت کے بعد ایک تناور درخت جنم دیتی ہے۔ انہوں نے اپنے سامنے کھڑے نیم کے اس بوڑھے درخت کی طرف اشارہ کیا جس کی شاخیں آسمان کو چھو رہی تھیں اور بولےاس درخت کو دیکھو۔ جب اس کے بیج کو زمین میں دبایا گیا تھا تو کیا اس نے شور مچایا تھا کہ مجھے اندھیرے میں کیوں دفن کیا جا رہا ہے؟ کیا اس نے شکایت کی تھی کہ مجھے مٹی تلے کیوں دبا کر میری ہستی مٹا دی گئی ہے؟ نہیں وہ خاموش رہا مٹی کی تاریکی میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا رہا اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا اور پھر ایک دن اسی مٹی کو چیر کر روشنی کو گلے لگا کر آسمان کی طرف بڑھ گیا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بیج بننے کو تو تیار ہیں مگر زمین میں دبنے کی یعنی خود کو مٹانے اور تراشنے کی تکلیف اٹھانے کو تیار نہیں۔ ہم خواب تو دیکھتے ہیں مگر ان خوابوں کی قیمت چکانے کے لیے صبر، استقامت اور قربانی کی آگ میں سے گزرنا نہیں چاہتے۔ ہمیں کامیابی ایسی چاہیے جیسے کسی دکان سے سودا خریدتے ہیں فوراً بغیر کسی دیر کے۔
بندن میاں نے ایک بار پھر چائے کی پیالی میز پر رکھی اور کلام کو وسعت دیتے ہوئے کہا ناکامی کوئی قبر نہیں ہوتی یہ تو اگلے سبق کا دروازہ ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک امتحان میں ناکامی ایک کاروبار میں خسارہ یا ملازمت نہ ملنے پر لوگ خود کو ایک متروک اور ناکام انسان سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی جن کے نام تاریخ کے سنہرے اوراق پر کندہ ہوئے انہوں نے کامیابی سے زیادہ ناکامیاں دیکھی تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ ہر شکست کے بعد خود کو شکست خوردہ نہیں مانتے تھے بلکہ خود سے کہتے تھے یہ اختتام نہیں راستے کا ایک موڑ ہے جہاں سے مجھے اپنی سمت درست کرنی ہے۔تم نے سنا ہوگا کہ ہیرا بھی تب ہی چمکتا ہے جب وہ بہت زیادہ دباؤ اور تراش کا شکار ہوتا ہے۔ اگر زندگی تمہیں دبا رہی ہے تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں ہیرے کی طرح چمکانے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی جہاں بادلوں کا ایک ٹکڑا آہستہ آہستہ تیر رہا تھا اور بولے خواب وہ قرض ہوتے ہیں جو انسان اپنے مستقبل سے لیتا ہے اور محنت وہ قسط ہے جو اسے روزانہ کی بنیاد پر ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگر خواب پر یقین نہ ہو تو محنت بوجھ بن جاتی ہےاور اگر یقین زندہ ہو تو کانٹوں بھرا سفر بھی عبادت لگنے لگتا ہے۔ آج کی دنیا میں سب کچھ تیز ہو گیا ہے۔ کھانا چند منٹ میں تیار، پیغام چند سیکنڈ میں پہنچ جاتا ہے اور شہرت چند دنوں میں مل جاتی ہےمگر کردار، علم، عزت اور حقیقی کامیابی آج بھی وقت مانگتے ہیں۔ قدرت نے ان کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں بنایا۔ جو لوگ راتوں رات کامیابی کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ اکثر صبح ہونے سے پہلے ہی تھک کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ تم دیکھو دریا بھی سمندر تک ایک دن میں نہیں پہنچتا وہ پہاڑوں کے سینے چیر کر، چٹانوں سے ٹکرا کر، پتھروں کا رستہ کاٹ کر اپنی منزل تلاش کرتا ہے۔ سورج بھی رات کے اندھیرے کو ایک ہی لمحے میں ختم نہیں کرتا بلکہ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرنوں سے افق کو روشن کرتا ہے۔ قدرت کے ہر نظام میں وقت، تواتر اور استقلال شامل ہے۔
نوجوان خاموشی سے سن رہا تھا۔ بندن میاں نے اس کے کندھے پر اپنا شفیق ہاتھ رکھا اور مزید کہا یاد رکھومشکل راستے اس لیے مشکل نہیں ہوتے کہ تمہیں روک سکیں بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ تمہیں مضبوط بنا سکیں۔ آسان راستوں پر چلنے والے اکثر منزل کی قدر نہیں جانتے لیکن جو پتھروں، تپتی دھوپوں اور زندگی کے طوفانوں سے لڑ کر پہنچتے ہیں وہ اپنی منزل کو نعمت سمجھتے ہیں۔ تم نے اگر آج محنت کی ہے تو یقین رکھو وہ ضائع نہیں ہوگی۔ محنت ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا اجر قدرت ضرور دیتی ہے۔ کبھی کبھار لگتا ہے کہ ہم ایک خالی کنویں میں آواز لگا رہے ہیں مگر یاد رکھو گونج ہمیشہ واپس آتی ہے۔ تم اپنی نیت صاف رکھواپنے خوابوں کی شمع کو بجھنے نہ دوکیونکہ جس کے خواب مر جاتے ہیں اس کی روح کا جنازہ تو وہیں اٹھ جاتا ہے چاہے وہ جیتا جاگتا پھر رہا ہو۔
بندن میاں کی آواز میں ایک خاص سوز اور ٹھہراؤ تھا زندگی کے اس کارواں میں کبھی ہم خود کو تنہا پائیں گے کبھی حالات کا جبر ہمیں توڑنے کی کوشش کرے گا مگر اصل کمال یہی ہے کہ انسان ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے ٹوٹ کر دوبارہ جڑنے کا حوصلہ رکھے۔ ناکامی تو صرف ایک پڑاؤ ہےایک امتحان ہے جو تمہاری ہمت کو جانچنے کے لیے آیا ہے۔ کیا تم اتنے کمزور ہو کہ ایک جھونکے سے بکھر جاؤ گے؟ کیا تمہارے خواب اتنے کم قیمت ہیں کہ ایک ناکامی پر انہیں خیرباد کہہ دو گے؟ اگر ایسا ہےتو پھر تمہاری منزل بھی تمہارے قد کے برابر ہی چھوٹی ہوگی۔ لیکن اگر تم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اگر تم نے ان مشکلات کو اپنے کردار کی تعمیر کے لیے استعمال کیا تو یقین مانودنیا کی کوئی طاقت تمہیں تمہارے مقدر سے دور نہیں رکھ سکتی۔انہوں نے ایک بار پھر نیم کے درخت کو دیکھا اور مسکرا کر بولے دیکھواس درخت کی جڑیں گہرائی میں ہیں اسی لیے تو طوفان بھی اسے اکھاڑ نہیں سکتے۔ تم بھی اپنے ارادوں کی جڑیں گہری کرو۔ مطالعہ کرو، سوچ کو وسعت دو، لوگوں کے تجربات سے سیکھواور سب سے بڑھ کر خود پر یقین رکھو۔ کامیابی ان لوگوں کی لونڈی بن جاتی ہے جو اسے پانے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ قربانی خون کی نہیں، بلکہ اپنی آسائشوں کی، اپنی سستی کی اور اپنے غیر ضروری جذباتی ردعمل کی ہوتی ہے۔ جب تم اپنی ذات سے لڑنا سیکھ لو گےتو دنیا کی کوئی جنگ تمہیں شکست نہیں دےسکےگی۔
بندن میاں نے گہری سانس لی اور اپنی گفتگو کو سمیٹا بیٹا مایوسی کفر ہے کیونکہ یہ اللہ کی رحمت اور اپنی محنت پر شک کا نام ہے۔ اگر آج تمہاری محنت کا پھل نہیں ملا تو مایوس نہ ہونا یہ وقت تمہاری صلاحیتوں کو نکھارنے کا وقت ہے۔ قدرت کے ہر نظام میں ایک حکمت ہوتی ہے۔ شاید تم ابھی اس منزل کے لیے تیار نہیں تھے شاید تمہیں ابھی کچھ اور سیکھنا باقی تھا۔ اپنی نیت صاف رکھو اپنے خواب زندہ رکھو اور اپنی محنت جاری رکھو۔ اور ہاں اس سفر میں کبھی کسی کا برا نہ سوچنا کیونکہ جو دوسروں کے لیے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں وہ خود انہی کانٹوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔
آخر میں بندن میاں نے نوجوان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا آج کا دن تمہاری زندگی کا ایک ورق ہے اسے مایوسی کی سیاہی سے مت بھرو۔ اسے امید، جدوجہد اور یقین کے سنہرے حروف سے لکھو۔ ناکامی کبھی اختتام نہیں ہوتی وہ کامیابی کی طرف اٹھنے والا ایک نیا اور پختہ قدم ہوتی ہے۔ خوابوں پر یقین رکھنے والے لوگ ہی تاریخ کے صفحات پر اپنا نام لکھتے ہیں اور مشکل راستوں سے گھبرانے والے ہمیشہ منزل کے قصے دوسروں سے سنتے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اگر زندگی تمہیں آزمائشوں کے پتھریلے راستے پر لے آئی ہے تو گھبراؤ نہیں مسکراؤ اور کہو کہ میں تیار ہوں۔ کیونکہ اکثر خوبصورت منزلوں تک پہنچنے کے لیے راستے کا مشکل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اپنی ذات کو اس قدر بلند کر لو کہ قسمت بھی تمہارے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جائے۔ جاؤ اب اٹھو اور اپنے خوابوں کا قرض ادا کرنا شروع کروایک ایک لمحہ ایک ایک قدم ایک ایک کوشش کے ساتھ۔وہ نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے سے وہ پرانی دھول جھڑ چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ بندن میاں نے اپنی چائے کی پیالی خالی کی اور اطمینان سے اپنی کرسی پر پیچھے ٹیک لگا لی۔ آج انہوں نے ایک اور چراغ روشن کر دیا تھا ایک اور روح کو زندگی کا قرینہ سکھا دیا تھا۔ کیونکہ بندن میاں جانتے تھے کہ دنیا میں سب سے بڑا تحفہ کسی کو امید دلانا ہے اور سب سے بڑا کارنامہ کسی کو اس کے اپنے خوابوں پر دوبارہ یقین دلا دینا ہے۔ زندگی کا یہی تو حاصل ہے یہی تو اصل قرض ہے جسے ہم روزانہ کی محنت اور استقامت سے چکاتے ہیں تاکہ جب ہم اس دنیا سے جائیں تو ہمارے خواب ہمارے بعد بھی زندہ رہیں

Exit mobile version