پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کے 22 امیدوار میدان میں تھے اور پوری جمع تفریق کے بعد ہم 15 نشستوں پر واضح طور پر جیتے ہیں، لہٰذا 2 نشستیں ہمیں دے کر باقی 13 کسی اور کو دے دینا ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے جس کو مینڈیٹ دیا ہے، حقِ حکمرانی بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے؛ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے خلاف ہمارا بیانیہ بالکل واضح ہے، تو پھر مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے ساتھ ہم گلگت میں کیوں حکومت بنائیں گے؟ بیرسٹر گوہر نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے فارورڈ بلاک کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا۔ صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال "پی ٹی آئی میں کوئی بھی مسئلہ ہو آپ سافٹ ٹارگٹ بن جاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟” پر بیرسٹر گوہر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر ہنس کر جواب ٹال دیا۔
بیرسٹر گوہر نے آزاد کشمیر کی 12 مہاجرین نشستوں کے مسئلے کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے کہ تمام مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کے حامی ہیں اور حقوق کے لیے آواز اٹھانا عوام کا حق ہے، تاہم ہم تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے سخت خلاف ہیں۔ وفاقی بجٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے بجٹ اجلاس 12 جون کو ہوگا اور اس کی سمری بھیجی گئی ہے، ہماری پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ بجٹ کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم بجٹ اجلاس میں ہوں یا نہ ہوں، یہ وقت عوام کو ریلیف دینے کا ہے کیونکہ لوگ اب یوٹیلیٹی بلز اور پیٹرول کے پیسے ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے بجٹ اجلاس سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے اور ہماری کوشش ہے کہ بجٹ سے قبل وزیراعلیٰ کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ہو جائے کیونکہ پچھلی مرتبہ بھی انہیں ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے شکوہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقاتیں گزشتہ 34 ہفتوں سے بند ہیں؛ کیا تاریخ میں کسی قیدی کو اتنے طویل عرصے تک ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا ہوگا؟ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقاتیں فوری بحال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن یہ کہنا کہ ہم غدار ہیں، ناقابلِ برداشت ہے، ہمیں 6 ماہ سے معلوم ہی نہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں کن حالات میں ہیں۔” انہوں نے اڈیالہ جیل میں بانی سے کسی خاص شخصیت کی ملاقات کی خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی حقوق کے لیے پارلیمنٹ پر دھرنے کی کال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری جانب، اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے درمیان 45 منٹ طویل ملاقات کرائی گئی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
