گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے مطابق اب تک موصول ہونے والے 24 میں سے 22 حلقوں کے نتائج کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 10 نشستیں حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔ ان نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) 4 اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ استور کے دو اہم حلقوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں جن پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے کامیاب ہونے والے 10 امیدواروں میں حلقہ جی بی اے 1 سے امجد حسین، حلقہ 4 نگر 1 سے محمد علی اختر، حلقہ 5 نگر 2 سے ذوالفقار علی مراد، اور حلقہ 7 اسکردو 1 سے سید توقیر مہدی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حلقہ 9 اسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد، حلقہ 10 اسکردو 4 سے ناصر علی خان، حلقہ 11 کھرمنگ سے اقبال حسن، حلقہ 12 شگر سے عمران ندیم، جی بی اے 17 دیامر 3 سے محمد نسیم اور حلقہ 19 غذر 1 سے سید جلال شاہ نے بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں میں حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 سے حفیظ الرحمان، حلقہ 18 دیامر 4 سے کفایت الرحمان، حلقہ 20 غذر 2 سے عبدالجہاں اور حلقہ 22 گھانچے 1 سے ابراہیم ثنائی الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ آزاد امیدواروں میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا جس میں سید سہیل عباس (جی بی اے 3)، نیک نام کریم (حلقہ 6 ہنزہ)، امام مالک (جی بی اے 16 دیامر 2)، امان علی (حلقہ 21 غذر)، انور علی (حلقہ 23 گانچھے 2)، اسد شفیق (حلقہ 24 گانچھے 3) اور محمد دلپزیر (حلقہ 15 دیامر 1) سے کامیاب قرار پائے ہیں۔ علاوہ ازیں، مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم نے حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 سے اپنی نشست محفوظ کی ہے۔
انتخابی گنتی کے عمل کے دوران جہاں نتائج سامنے آ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف گلگت بلتستان اسمبلی کے مکمل انتخابی نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور مبینہ دھاندلی کے الزامات پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اور مختلف آزاد امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے کئی علاقوں میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نتائج کو فوری اور شفاف طریقے سے واضح کیا جائے۔
