​گلگت انتخابات: حکمرانوں کی عوام دشمنی کا انجام

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کسی کے لیے حیران کن نہیں ہیں کیونکہ عوام کا غصہ پہلے ہی بڑھ رہا تھا اور گلگت کی ان ٹھنڈی وادیوں میں اب عوام کا وہ طوفان اٹھا ہے جس نے ن لیگ کے تمام دعووں کو بہا دیا ہے، جبکہ اس عبرتناک شکست اور عوامی غیض و غضب کی تمام تر ذمہ داری وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر عائد ہوتی ہے جن کی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے اور میاں محمد نواز شریف کے وہاں جا کر انتخابی مہم چلانے کے باوجود پارٹی کا نشستوں پر سمٹ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومتی مشینری عوامی امنگوں کو سمجھنے میں مکمل ناکام رہی جس نے قیادت کی ساکھ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے، دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کی قیادت میں جس طرح گراؤنڈ پر کام کیا اس نے ن لیگ کے لیے دیوار پر وہ تحریر لکھ دی ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پنجاب میں غلط حکمتِ عملیوں اور وفاقی حکومت کی مہنگائی والی پالیسیوں نے ن لیگ کے ووٹر کو بری طرح مایوس کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ پنجاب اب عوام کے بجائے چند خوشامدیوں، شاہوں اور حکمرانوں کے قبضے میں ہے جہاں پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں بار بار کا اضافہ، ظالمانہ ریٹس اور بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکس، سی سی ڈی اور پیرا فورس نے غریبوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، اسی لیے سی سی ڈی اور پیرا فورس اب ایک ایسی "غنڈا فورس” بن چکی ہیں جو غریب عوام کو بلاوجہ تنگ کر رہی ہے اور اصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں اور ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر بوجھ صرف حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے، شاید یہی وہ اصل وجہ ہے جس نے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے، آئے روز بجلی مہنگی ہونے سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، ایسے میں وہ خوشامدی مشیر جو ٹی وی پر بیٹھ کر اس شکست کو بھی کامیابی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل میاں صاحب اور پارٹی کے اصل دشمن ہیں کیونکہ یہ انہیں زمینی حقائق سے دور رکھ رہے ہیں، حکومتی نالائقیوں اور ٹیکسوں کے جال میں عوام کی جیب خالی ہو چکی ہے اس لیے اب وہ ووٹ دیتے وقت حکمرانوں کے گن نہیں گائے گی، گلگت کے عوام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب پرانے وعدوں سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران ابھی تک اپنی انا کے حصار سے باہر نہیں نکل رہے اور جب تک عہدوں کی غلط بانٹ، نااہل مشیروں کی فوج اور بجلی و ایندھن کے ان ظالمانہ ریٹس کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور اگر حالات نہ بدلے تو آئندہ انتخابات میں انجام اس سے بھی زیادہ برا ہوگا، میاں نواز شریف کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پارٹی کو بچانا چاہتے ہیں یا ان چند لوگوں کے ہاتھوں یرغمال رہنا چاہتے ہیں جنہوں نے پارٹی کی ساکھ خراب کر دی ہے، عوام اس وقت صبر کی آخری حدوں پر ہیں اور اگر اب بھی حالات نہ سنبھلے تو یہ عوامی غصہ کسی بڑے سیاسی طوفان کی شکل اختیار کر جائے گا، خدا کرے کہ قیادت ہوش کے ناخن لے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرے تاکہ ملک و قوم کا بھلا ہو۔ آمین

Exit mobile version