تحریر: محمد انور بھٹی
عجب تماشائے دہر ہے اور عجب اس کارگہِ شیشہ گری کی کج ادائیاں ہیں کہ جہاں چشمِ بصیرت وا ہو تو ہر گوشہء زمین عبرت کا ایک دفترِ پُر ورق دکھائی دیتا ہے مگر افسوس کہ بستی کے لوگ خوابِ خرگوش کی آغوش میں ایسے مدہوش ہیں کہ انہیں اپنے ہی ہاتھوں اجڑتی ہوئی جنت کا رتی برابر بھی احساس نہیں۔ اسی قصبے کے ایک خستہ حال, شکستہ دل اور گوشہ نشین بزرگ, جنہیں دنیا ادب و احترام سے ‘بندن میاں’ کے نام سے پکارتی ہےآج اپنے پرانے کُرتے کی آستین سے آنسو پونچھتے ہوئے اس ویران ڈاک بنگلے کی دیوارِ گریہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں جو کبھی اس علاقے کا تاجِ سر اور حسنِ بے نظیر ہوا کرتا تھا مگر اب گردشِ ایام اور انسانی بے حسی کے شاخسانے میں ایک بھیانک بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بندن میاں جن کی زندگی کی ڈوری اس مٹی کی خوشبو اور اس کی قدیم روایات سے بندھی ہے جب اپنی سحر انگیز اور دردِ دل سے لبریز گفتگو کا آغاز کرتے ہیں تو ان کا اندازِ بیاں سحرِ سخن کا وہ مرقع پیش کرتا ہے جہاں شیریں کلامی اور کلاسیکی فصاحت باہم دوش بدوش چلتے ہوئے دل کے نہاں خانوں میں اتر جاتے ہیں۔ وہ دھیمے مگر گہرے گداز میں ڈوبے ہوئے انداز میں گویا ہوتے ہیں کہ افسوس صد افسوس اس بقعہء نور اور گلستانِ ارم کو اب بوم و بر کی نحوست نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس بستی کے ناخلف فرزند اپنی اسلاف کی نشانیوں کو اپنے ہی کلہاڑوں سے کاٹ کر ترقی کے جھوٹے سراب کے پیچھے اندھا دھند بھاگے جا رہے ہیں۔
کبھی یہ ڈاک بنگلہ, رشکِ باغِ ارم اور مظہرِ حسنِ فطرت تھا جہاں داخل ہوتے ہی انسان خود کو ایک دوسری ہی دنیا, ایک طلسماتی اور سحر انگیز کائنات میں محسوس کرتا تھا جس کی فضا عطر بیز اور جس کا چمن چمنِ مینو نظیر تھا جہاں کے در و دیوار سے شرافت, متانت اور ایک خاص تہذیبی رکھ رکھاؤ کی خوشبو آتی تھی۔ اس کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی سبزہ زار کی وہ مخملیں کیاریاں جو زمرد کی مانند چمکتی تھیں اور جن کی شادابی و شکوہِ چمن کو دیکھ کر چشمِ فلک بھی دنگ رہ جاتی تھی اس صفائی اور سلیقے سے تراشی گئی تھیں کہ گویا کسی مصور نے کائنات کے کینوس پر سبز رنگ کا شاہکار بکھیر دیا ہو۔ ان زمردیں کیاریوں کے چاروں طرف ایک باقاعدہ فصیل کی مانند, رنگ برنگے, عطر سا اور دلنواز پھولوں کا ایک دائرہ تھا جس میں گلابِ سرخ اپنی رعنائی و نازکی کے ساتھ دلوں کو گرماتا تھا چمبیلی اپنی سپید و پاکیزہ پنکھڑیوں سے فضا میں شبنم جیسی ٹھنڈک اور خوشبو کا جادو جگاتی تھی اور گیندے کے سنہری و نارنجی پھول یوں مسکراتے تھے جیسے آفتاب کی کرنیں زمین پر اتر آئی ہوں اور ہر پھول بستی کے لوگوں کو امن و آشتی کا درس دیتا ہو۔
اس بہشت نما چمن زار میں جہاں نگاہ جس طرف بھی جاتی حسنِ الٰہی کی نشانیوں سے ہمکنار ہوتی وہاں ایک خاص دلاویز راستہ تھا جس کا ذکر کیے بغیر ماضی کی کوئی داستان مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس تاریخی ڈاک بنگلے کے دو پروقار اور عظیم الشان گیٹ ہوا کرتے تھے جن میں سے ایک گیٹ کی آغوش سے نکلتی ہوئی وہ پرپیچ, خوبصورت اور سادہ سی پگڈنڈی سحر و شام کا ایک لازوال استعارہ تھی جس کے دونوں اطراف درجن بھر املتاس کے درخت شانہ بشانہ ایک قطار میں ایسے کھڑے تھے جیسے چمن کے پاسبان ہوں۔ جب بھی موسمِ بہار اپنے جوبن پر آتا اور ان شجرِ املتاس پر پیلے پھولوں کے گچھے لہراتے تو وہ پگڈنڈی ایک طلسماتی راہگزر کا روپ دھار لیتی تھی جہاں قدرت نے اپنے ہاتھوں سے پیلے سونے کی ایک ململیں چادر بچھا دی ہو اور اوپر سے زرد پھولوں کی وہ بارش ہوتی تھی کہ دیکھنے والی آنکھ اس سحر انگیز سماں میں خود کو بھول جاتی تھی اور اس راستے سے گزرنے والا ہر مسافر مسحور ہو کر رہ جاتا تھا۔ املتاس کے ان درختوں کے پہلو بہ پہلو آم کے قدیم گھنے اور سایہ دار درخت اپنی پوری شوکت و جلال کے ساتھ ایستادہ تھے جن کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے اور پرندوں کے بسیط سے جھکی جھکی رہتی تھیں اور جن کی جڑیں اس مٹی کی صدیوں پرانی تاریخ کی امین تھیں۔
انہی آم کے شجرِ سایہ دار کی گہری اور ٹھنڈی چھاؤں میں پوشیدہ ہو کرکوئل اپنی سریلی سحر انگیز اور دل گداز ہوک سنایا کرتی تھی جس کی کُہو کُہو کی تان سن کر یوں گمان ہوتا تھا جیسے دشت و در پر کوئی صوفیانہ قوالی کا سماں طاری ہو گیا ہو اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس الٰہی نغمگی کے سحر میں گم ہو گیا ہو۔ آم کے ان درختوں کے پہلو بہ پہلو دو عظیم الشان کہنسال اور باوقار بوہڑ کے درخت کھڑے تھے جن کی جڑیں زمین کے اندر تک پیوست تھیں اور جن کی لٹکتی ہوئی داڑھی نما جڑیں زمین کو چھو کر گویا اس مٹی کی قدامت اور بزرگی کی گواہی دیتی تھیں اور ان کے ساتھ ہی جامن کے تین سرسبز درخت تھے جو اپنے جامنی رنگ کے رسیلے پھلوں سے بچوں اور پرندوں کو یکساں دعوتِ شیراز دیتے تھے۔ ان شجرہائے سایہ دار کے جلو میں شیشم کے مضبوط اور تن آور درخت بھی تھے جن کے پتے ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ ایک دھیمی اور مدہم سرسراہٹ پیدا کرتے تھے جو کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی تھی۔ صبح و شام کا وقت تو اس گلستانِ لازوال میں ایک باقاعدہ جشنِ فطرت, ایک محفلِ موسیقی اور ایک تقدس ماب عبادت کا منظر پیش کرتا تھا جب شیشم, بوہڑ اور آم کی شاخوں پر ہزاروں مخروطی اور چھوٹی چڑیاں جمع ہو کر بیک وقت چہچہاتی تھیں تو ایسا نغمہء سرمدی بلند ہوتا تھا جو انسان کے تمام دنیاوی غموں کو دھو ڈالتا تھا۔ ان کے درمیان طوطے میاں اپنی شوخ ہری قبا پہنے سرخ چونچ ہلائے میاں مٹھو میاں مٹھوکی دلنشین صدائیں بلند کرتے تھے جو معصومیت اور زندگی کی حرارت کا مظہر تھیں جبکہ بلبلیں ادھر سے ادھر ایک شاخ سے دوسری شاخ پر پھدک پھدک کر اپنے نغمے بکھیرتی تھیں جس سے ایک ایسا قدرتی سماں ایک ایسا مشاعرہء طیور اور ایک ایسی بزمِ الٰہی برپا ہوتی تھی کہ روح پکار اٹھتی تھی کہ ‘فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ’ یعنی تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
مگر ہائے ری قسمت اور افسوس صد کروڑ افسوس اس بستی کے عقل کے اندھوں اور مادہ پرستی کے پجاریوں پر جنہوں نے اس قدرتی شاہکار اس سحر انگیز بہشت اور اس الٰہی پناہ گاہ کو اپنی سنگدلی, بے حسی اور نام نہاد ‘ترقی’ کی بھینٹ چڑھا کر تہس نہس کر دیا۔ ہم نے جدیدیت, سیمنٹ کے جنگلوں اور کنکریٹ کی فلک بوس عمارتوں کی ہوس میں اپنی ان جڑوں کو ہی کاٹ ڈالا جو ہمیں زندگی اور آکسیجن فراہم کرتی تھیں اور آج حالت یہ ہے کہ جہاں املتاس کے پیلے پھولوں کی سنہری چادر بچھی ہوتی تھی, جہاں گلاب و چمبیلی کی خوشبوؤں سے دماغ معطر ہوتے تھے وہاں اب صرف اندھی اڑتی ہوئی دھول, سیمنٹ کے سرمئی بادل اور انسانی ہوس کے کالے سائے نظر آتے ہیں۔ بندن میاں اپنے مخصوص کاٹ دار اور دھیمے طنز کا تیر چلاتے ہوئے جو سننے والے کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دے کہتے ہیں کہ میاں واہ بہت خوب ترقی کی ہے تم لوگوں نے کہ اب تم چار دیواری کے قید خانوں میں ائیر کنڈیشنر چلا کر بیٹھتے ہو مگر باہر کی اس قدرتی ٹھنڈک اور پاکیزہ ہوا کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کر چکے ہواور تمہاری یہ سیمنٹ کی بے جان بلڈنگیں تمہاری ذہنی پستی, تمہاری روحانی موت اور تمہاری جمالیاتی حس کے جنازے کا اشتہار ہیں۔
اگر اب بھی اس قوم اس بستی اور اس معاشرے میں کوئی رمقِ حیات باقی ہے اگر اب بھی حمیتِ انسانی اور حسِ جمالیاتی پوری طرح مردہ نہیں ہوئی تو اس تباہی کے راستے کو روکنا ہوگا اس جنونِ سیمنٹ و آہن کو لگام دینی ہوگی اور اس ویران ڈاک بنگلے کو اس کے پرانے درختوں اس کی مخملیں کیاریوں اور اس کے پرندوں سمیت دوبارہ زندہ کرنا ہوگا ورنہ یاد رکھو کہ جب دھرتی سے درخت ختم ہو جائیں گےجب پرندوں کے نغمے گونجنے بند ہو جائیں گے تو تمہاری یہ کنکریٹ کی عمارات تمہاری اپنی قبریں ثابت ہوں گی جہاں کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی سانس لینے کو ترسے گا۔ سچی اور حقیقی اصلاح کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ مصالحت کریں اس برباد ہوتے ہوئے تاریخی اثاثے کو دوبارہ سرسبز و شاداب بنائیں ہر کٹے ہوئے شجر کی جگہ دس نئے پودے لگائیں تاکہ املتاس پھر سے مسکرائے, کوئل پھر سے گائے اور یہ زمین دوبارہ انسان کے رہنے کے قابل بن سکے۔
آج جب میں اس اجڑے ہوئے دیار سے گزرتا ہوں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور دل مٹھی میں آ جاتا ہے کیونکہ جو پگڈنڈی کبھی زندگی کا رستہ دکھاتی تھی اب وہ خود مٹ چکی ہے اور اس کی جگہ صرف اک ہولناک سناٹا اور اڑتی ہوئی گردِ سفر رہ گئی ہے جو ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ کیا ہم اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی بقا کی قیمت پر کھڑی کی جانے والی یہ عمارات ایک بوجھ محسوس نہیں ہوتیں اور کیا ہم آنے والی نسلوں کو وراثت میں صرف یہ دھول اور دھواں ہی دے کر جائیں گے؟ بندن میاں کی آنکھوں سے گرنے والا ایک ایک آنسو اس دھرتی کا نوحہ ہے اور ان کی آواز اس سوئے ہوئے ضمیر کی دستک ہے جسے اگر آج نہ سنا گیا تو کل پچھتانے کا وقت بھی میسر نہیں ہوگا اور یہ بستی ہمیشہ کے لیے ایک بے نام و نشان ریگستان میں تبدیل ہو جائے گی۔ ہمیں اس مادہ پرستی کے سحر سے نکل کر قدرت کی آغوش میں لوٹنا ہوگا ان پرانے شجرہائے سایہ دار کی حفاظت کرنی ہوگی اور اس ڈاک بنگلے جیسی تاریخی نشانیوں کو اجڑنے سے بچا کر اپنی تہذیب و تمدن کی لاج رکھنی ہوگی تاکہ زندگی کا یہ قدرتی توازن برقرار رہ سکے
