جب بجلی کے کھمبوں کے ساتھ ضمیر کے ستون بھی گر گئے

تحریر: ۔محمد انور بھٹی

قدرت کا اصول ہے کہ وہ کبھی کبھی انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لیے اپنے جلال کی ایک معمولی سی جھلک دکھاتی ہےاور یہ حقیقت ہے کہ کائنات کے مالک کے سامنے مٹی کا یہ پتلا ہمیشہ سے بے بس رہا ہے اور رہے گا۔ سندھ کے مخلتف اضلاع میں آنے والا حالیہ طوفان بھی قدرت کی طرف سے محض دس منٹ کا ایک جھٹکا تھاعوام اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے صبر و شکر کا دامن تھامے ہوئے تھےلیکن اصل المیہ قدرت کی آفت نہیں بلکہ اس آفت کے بعد جنم لینے والی وہ انسانی ساختہ قیامت تھی جس نے پانچ روز تک لاکھوں انسانوں کو زندہ درگور کیے رکھا۔ سوال یہ نہیں کہ طوفان کیوں آیا سوال یہ ہے کہ جب طوفان گزر گیا تو سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی انتظامیہ، عوامی نمائندے اور شہری انتظامیہ کہاں روپوش ہو گئے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس دس منٹ کی ہوا نے برسوں کے دعوؤں، اربوں روپے کے بجٹوں اور طفل تسلیوں کے محلات کو پل بھر میں مٹی کا ڈھیر بنا دیا۔
جب ہم اس پانچ روزہ قیامت خیز بلیک آؤٹ کے ایک ایک پل کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور یہ سوال ذہن کے پردے پر کسی ہتھوڑے کی طرح لگتا ہے کہ کیا ہم واقعی اکیسویں صدی کے ایک مہذب معاشرے میں سانس لے رہے ہیں یا ہم کسی ایسے تاریک دور میں لوٹ چکے ہیں جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے؟ طوفان صرف دس منٹ کا تھا ہوا کی رفتار شاید کچھ تیز تھی لیکن اس نے سندھ کے کئی اضلاع بالخصوص سکھر ڈویژن اور پنوعاقل جیسے گنجان آباد شہروں کے پورے انتظامی ڈھانچے کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ سندھ کی دھرتی پر موسم نے جب بھی کروٹ لی ہویہاں کی تپتی ہوئی گرمیاں اور مون سون کی بارشیں صدیوں سے اس خطے کا مقدر ہیں لیکن ہر سال، ہر موسم میں اور ہر چھوٹی بڑی قدرتی آفت کے بعد عوام کو اسی بے بسی اور لاچاری کے جہنم میں کیوں جھونک دیا جاتا ہے؟
سب سے پہلے بات کرتے ہیں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی جس کی نااہلی اب ایک طے شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ ایک ایسی کمپنی جو صارفین سے بجلی کے بھاری بھرکم بل ،فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، اچھے بھلے ٹیکس اور نہ جانے کون کون سے پوشیدہ چارجز باقاعدگی سے وصول کرتی ہےاس کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی پلان کیوں نہیں ہوتا؟ جیسے ہی طوفان کے دس منٹ گزرے اور بجلی بند ہوئی، تو سیپکو کا پورا نظام ایسے مفلوج ہو گیا جیسے کسی نے اس کی رگوں سے خون نچوڑ لیا ہو۔ کیا ان کے پاس اتنی افرادی قوت، اتنی گاڑیاں اور اتنے جدید آلات موجود نہیں ہیں کہ وہ چند گرے ہوئے کھمبوں کو چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ کھڑا کر سکیں؟ پانچ دن کا وقت کوئی معمولی وقت نہیں ہوتا۔ پانچ دن کا مطلب ہے ایک سو بیس گھنٹےاور ایک سو بیس گھنٹوں کا مطلب ہے سات ہزار دو سو منٹ اس طویل دورانیے میں سیپکو کے لائن مین، انجینئرز اور اعلیٰ افسران کہاں چھپے ہوئے تھے؟ کیا وہ اپنے ایئر کنڈیشنڈ بنگلوں میں جہاں بھاری بھرکم جنریٹرز اور سولر سسٹمز چمک رہے تھے بیٹھ کر عوام کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے تھے؟ یہ سراسر آئینی اور اخلاقی جرم ہے۔ جب ایک صارف اپنی محنت کی کمائی سے بل ادا کرتا ہےتو وہ صرف بجلی کی قیمت نہیں دیتابلکہ وہ اس سروس کے تسلسل کی ضمانت خریدتا ہے۔ سیپکو انتظامیہ کا یہ رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں عوام کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ان کے لیے عوام محض ایک بھیڑ بکریوں کا گلہ ہے جسے جیسے چاہو ہانک دو۔ اگر چند پول گرنے پر پانچ دن لگ سکتے ہیں تو کل کو اگر کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو کیا یہ پورا خطہ ایک سال کے لیے اندھیرے میں ڈوب جائے گا؟ اور پھر ستم ظریفی دیکھیے کہ جب بحالی کا کام شروع بھی ہوا تو اس کی رفتار اتنی سست تھی کہ جیسے کوئی چیونٹی پہاڑ سر کرنے نکلی ہو۔ روز ایک نیا بہانہ، روز ایک نئی تاریخ، روز ایک نیا وعدہ کہ بس لائن چالو ہونے والی ہےگریڈ اسٹیشن پر کام چل رہا ہےتیکنیکی خرابی دور کی جا رہی ہے۔ یہ دلاسا بازیاں دراصل ان کی اپنی ناہلی کو چھپانے کا ایک بھونڈا طریقہ تھیں جس نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔
اب آئیے ان عوامی نمائندوں کی طرف جو الیکشن کے دنوں میں عوام کے پیروں میں بیٹھنے کو بھی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ جو دعوے کرتے ہیں کہ ہم آپ کے خادم ہیں ہم آپ کے حقوق کی جنگ لڑیں گےہم اس شہر کی تقدیر بدل دیں گے۔ کہاں تھے وہ خادم؟ جب پنوعاقل اور سندھ کے دیگر شہروں کی عوام گرمی اور حبس سے تڑپ رہی تھی جب ہسپتالوں میں آکسیجن مشینوں پر موجود مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے جب چھوٹے بچے پانی کی ایک ایک بوند کے لیے بلبلا رہے تھےتو ان نمائندوں میں سے کسی ایک کا چہرہ بھی سڑکوں پر کیوں نظر نہیں آیا؟ کیا ان کا کام صرف فیتے کاٹنا، سرکاری پروٹوکول کا لطف اٹھانا اور اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنے مفادات کی قانون سازی کرنا ہے؟ ایک عوامی نمائندے کی اصل پہچان بحران کے وقت ہوتی ہے۔ اگر وہ بحران میں اپنی عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا اگر وہ سیپکو انتظامیہ کے دفاتر کے باہر بیٹھ کر ان سے کام نہیں کروا سکتا اگر وہ ضلعی انتظامیہ کو متحرک نہیں کر سکتا تو اسے عوامی نمائندہ کہلوانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ عوام نے انہیں اس لیے ووٹ نہیں دیا تھا کہ وہ مشکل وقت میں اسکرینوں سے غائب ہو جائیں اور اپنے موبائل فون بند کر کے بیٹھ جائیں۔ ان کی یہ روپوشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں عوام کے درد سے، ان کے بیمار بزرگوں سے اور ان کے معصوم بچوں کی چیخوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سیاسی دیوالیہ پن ہے جس کا خمیازہ سندھ کی عوام دہائیوں سے بھگت رہی ہے۔
اس بحران کا ایک اور تاریک پہلو مواصلاتی کمپنیوں (ٹیلی کام سیکٹر) کا مجرمانہ رویہ تھا۔ جیسے ہی بجلی بند ہوئی پنوعاقل سمیت تمام اضلاع میں موبائل نیٹ ورکس، انٹرنیٹ سروسز اور یہاں تک کہ پی ٹی سی ایل کی لائنیں بھی ایک کے بعد ایک دم توڑ گئیں۔ ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں مواصلات کو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اگر کسی گھر میں کوئی ایمرجنسی ہو جائے کوئی مریض زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو یا کسی کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہو تو وہ کس سے رابطہ کرے؟ تمام نیٹ ورکس کا بند ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کثیر القومی کمپنیوں کے پاس اپنے ٹاورز کو چلانے کے لیے بیک اپ (جنریٹرز یا سولر پاور) کا کوئی متبادل انتظام ہی نہیں تھا یا اگر تھا تو انہوں نے ڈیزل بچانے اور اپنا منافع بڑھانے کے لیے اسے چالو کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔ عوام نے ان کمپنیوں کے ماہانہ پیکجز خریدے ہوتے ہیں ان کی رقم ایڈوانس میں ان کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹ میں چلی جاتی ہےلیکن جب سروس دینے کا وقت آتا ہے تو یہ کمپنیاں ہاتھ کھڑے کر دیتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہےانہیں معلوم ہے کہ پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) جیسی ریگولیٹری باڈیز صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور وہ ان بڑی کمپنیوں سے کبھی جواب طلبی نہیں کریں گی۔ چنانچہ عوام جائے بھاڑ میں ان کا نیٹ ورک چلے یا بند رہےان کی بلا سے۔مواصلات کے اس تعطل نے عوام کی ذہنی اذیت میں سو گنا اضافہ کر دیا کیونکہ لوگ اپنے رشتہ داروں اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے سے بھی قاصر ہو گئے اور پورا شہر ایک الگ تھلگ جزیرے کی مانند بن کر رہ گیا۔
جب بجلی اور مواصلات کا یہ حال ہو تو شہری انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور عوام کو ریلیف فراہم کرےلیکن یہاں بھی مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بجلی کی بندش کے ساتھ ہی پانی کا بحران کھڑا ہو گیا کیونکہ واٹر سپلائی کی اسکیمیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑی تھیں۔ ایسے میں ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ٹینکرز کے ذریعے گلی محلوں میں پانی پہنچانے کا انتظام کرتی لیکن انتظامیہ کے افسران اپنے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ اور جب ایک عام شہری ایک مزدور باپ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے بازار کی طرف نکلتا ہے تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کا قانون اور انصاف پر سے بھروسہ ہی اٹھ جاتا ہے۔ گیس کا بحران شروع ہوا تو لکڑی پر چلنے والے تندور مالکان نے اس مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے غریبوں کی مجبوری کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ روٹی کی قیمت تو شاید سرکاری نرخ نامے کے مطابق رکھی لیکن اس کا وزن اور سائز اتنا کم کر دیا کہ وہ انسانی ضمیر پر ایک طماچہ بن گئی۔ ایک مجبور باپ جس کے بچے گھر میں بھوک سے رو رہے ہوں وہ وہاں کھڑے ہو کر تندور والے سے بحث کیسے کر سکتا تھا؟ وہ مرتا کیا نہ کرتا بھاری داموں وہ چھوٹی اور ناپ تول میں کم روٹیاں خرید کر گھر لے جانے پر مجبور ہوا۔ یہ سراسر لوٹ مار ہےیہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے لیکن شہری انتظامیہ کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور فوڈ انسپکٹرز اس وقت کہاں سو رہے تھے؟ کیا ان کا کام صرف رمضان بازاروں میں تصاویر بنوانا ہے یا عام دنوں میں آنے والی ایسی ناگہانی آفات کے دوران بھی مارکیٹ کی نگرانی کرنا ہے؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ خاموشی گراں فروشوں اور منافع خوروں کے لیے ایک خاموش رضامندی کا درجہ رکھتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا منظر برف کی مارکیٹ میں دیکھنے کو ملا۔ پنوعاقل اور گردونواح کے اکثر برف کے کارخانے اب جدید ٹیکنالوجی یعنی سولر پاور پر منتقل ہو چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا انحصار سرکاری بجلی پر بہت کم ہو چکا ہے اور وہ دن کے وقت مفت کی دھوپ سے بھاری مقدار میں برف تیار کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی طوفان کے بعد بجلی بند ہوئی اور شہر میں حبس کی شدت بڑھی تو ان کارخانہ داروں کے اندر کا انسان مر گیا اور ان کا کاروباری بھیڑیا جاگ اٹھا۔ انہوں نے مارکیٹ سے برف کو ایسے غائب کر دیا جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ دکانوں پر برف کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی تاکہ قیمتوں کو آسمان تک پہنچایا جا سکے۔ اور جن برف فروشوں کے پاس برف کا تھوڑا بہت اسٹاک موجود تھا وہ تین سو روپے سے کم کی معمولی ڈلی دینے سے بھی انکاری تھے۔ تین سو روپے جو ایک دیہاڑی دار مزدور کی آدھی کمائی ہوتی ہےمیں بمشکل اتنی برف مل رہی تھی جس سے دس لیٹر پانی کو بمشکل ٹھنڈا کیا جا سکے۔ یہ وہ پانی تھا جو کسی بوڑھے باپ کی پیاس بجھانے، کسی بیمار ماں کی تڑپ کو کم کرنے اور کسی معصوم بچے کے حلق کو تر کرنے کے لیے ضروری تھا۔ لیکن منافع خوروں کو اس درد سے کیا لینا دینا؟ ان کی نظریں صرف اس غریب کی جیب پر تھیں وہ دیکھ رہے تھے کہ گاہک کتنا مجبور ہے اور اس مجبوری سے کتنے پیسے نچوڑے جا سکتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جب انسان کو دوسرے انسان کا ہمدرد ہونا چاہیے تھا ہمارے معاشرے کے ان عناصر نے چمڑی ادھیڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس کھلے عام ڈکیتی پر خاموش تماشائی بنے رہےکیوں کہ ان کے اپنے گھروں میں شاید برف اور پانی کی کوئی کمی نہیں تھی یا پھر ان منافع خوروں کی پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگ خود ان اداروں کے سرپرست تھے۔
اس پوری قیامت خیز صورتحال میں جہاں ایک طرف عوام عملاً تڑپ رہی تھی تو دوسری طرف سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر ایک عجیب و غریب تماشہ لگا ہوا تھا۔ مجھ جیسے فیس بک صارفین اور کمنٹیٹرز مسلسل متحرک نظر آئے۔ ہر کوئی اپنے موبائل کی بچی کھچی بیٹری کا استعمال کرتے ہوئے کمنٹری کرنے میں مصروف تھا کہ بجلی صبح بحال ہو جائے گی دوپہر تک تار جوڑ دیے جائیں گےشام کو فیڈر چالو ہو جائے گایا رات دیر تک ہر صورت روشنی لوٹ آئے گی۔ یہ فیس بک کی کمنٹری دراصل اس بے بس عوام کے لیے ایک نشہ آور دوا کی طرح تھی جو روزانہ ایک نئی امید باندھتے تھے اور رات کو اسی حبس کے اندھیرے میں سو جاتے تھے۔ اسی جھوٹی تسلیوں پوسٹوں اور تبصروں کے کھیل میں پانچ طویل دن گزر گئے۔ یہ پانچ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھے کیونکہ ان پانچ دنوں نے ہمارے معاشرے کے ہر طبقے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ اس نے دکھا دیا کہ ہم زبانی کلامی تو بہت بڑے مسلمان بہت بڑے انسان اور اخلاقیات کے علمبردار ہیں لیکن جب عملی طور پر امتحان کا وقت آتا ہے تو ہم سب اپنی اپنی جگہ ناکام ہو جاتے ہیں۔
یہاں پر جو سب سے اہم اور بنیادی نقطہ ہے وہ "اشرف المخلوقات” کا فلسفہ ہے اللہ عزوجل نے انسان کو تمام کائنات پر فضیلت دی اسے عقل، شعور اور سب سے بڑھ کر "دل” عطا کیا تاکہ وہ دوسرے انسانوں کے کام آ سکے۔ اشرف المخلوقات ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ جب دس منٹ کے طوفان نے بجلی کا نظام درہم برہم کیا تھاتو تندور والا کہتا کہ آج میرے بھائی مشکل میں ہیں میں روٹی سستی بیچوں گا۔برف والا کہتا کہ آج بجلی نہیں ہےلوگ پریشان ہیں میں مفت یا اصل قیمت پر برف دوں گا تاکہ کسی کا بچہ پیاسا نہ رہے مواصلاتی کمپنیاں اپنے پیکجز کی مدت میں اضافہ کر دیتیں اور اپنے جنریٹرز چلا کر عوام کو رابطے کی سہولت فراہم کرتیں اور عوامی نمائندے سڑکوں پر کھڑے ہو کر سیپکو کے ملازمین کے ساتھ مل کر کھمبے کھڑے کروا رہے ہوتے۔ لیکن افسوس ہم نے اس افضلیت کی پاسداری کرنے کے بجائے اس کا جنازہ نکال دیا۔ ہم نے ثابت کیا کہ ہم صرف نام کے اشرف المخلوقات ہیں جبکہ ہمارے افعال جنگل کے جانوروں سے بھی بدتر ہو چکے ہیں۔ جانور بھی مصیبت کے وقت اپنی نسل کا ساتھ دیتے ہیں لیکن ہم وہ مخلوق بن چکے ہیں جو اپنے ہی بھائی کی مجبوری کو دیکھ کر اپنی چمڑی سیدھی کرنے دوڑتی ہے۔ ایک جانب ہم سب روتے ہیں کہ ملک برباد ہو گیا ادارے تباہ ہو گئے مہنگائی نے کمر توڑ دی لیکن دوسری جانب ہم خود اس تباہی کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے ہی ہمیں کوئی موقع ملتا ہے۔ جس کا جہاں داؤ لگتا ہے وہ دوسرے کی کھال اتارنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن کسی بھی قدرتی آفت سے ہزار گنا زیادہ خطرناک ہے۔
ایک مزدور،ایک بے بس باپ، ایک لاچار بھائی اور ایک فرماں بردار بیٹے نے یہ پانچ دن کیسے کاٹےاس کے درد کا اندازہ ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے والے بیوروکریٹس یا کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومنے والے سیاستدان کبھی نہیں لگا سکتے۔ اس درد کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے ضعیف العمر، بیمار اور لاغر ماں باپ کو شدید گرمی اور حبس کی حالت میں بستر پر تڑپتے دیکھا ہوجن کے پاس اتنی سکت بھی نہ ہو کہ وہ اپنے ہاتھ سے پنکھی جھل سکیں اور بیٹا بے بسی سے انہیں دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا ہو۔ اس درد کو وہ بھائی سمجھ سکتا ہے جس کی چھوٹی بہنیں اور بھائی گرمی کی وجہ سے بے حال ہو رہے ہوں اور وہ ان کے لیے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس بھی فراہم نہ کر پا رہا ہو۔ اس کرب کو وہ باپ سمجھ سکتا ہے جس کے معصوم اور بلبلاتے بچے رات بھر گرمی، بھوک اور پیاس کے سبب چیختے رہے ہوں جن کے چھوٹے چھوٹے جسم پسینے سے شرابور ہوں اور باپ رات بھر اندھیرے میں بیٹھ کر ان کی چیخیں سنتا رہے اور اندر ہی اندر خود کو ملامت کرتا رہے کہ وہ کتنا نااہل ہے کہ اپنے بچوں کو بنیادی ضرورتیں بھی فراہم نہیں کر پا رہا۔ یہ وہ نفسیاتی اور جذباتی عذاب ہے جو اس پانچ روزہ بلیک آؤٹ نے سندھ کے غریب عوام کو دیا ہے۔ یہ عذاب کسی طوفان نے نہیں دیا بلکہ یہ عذاب سیپکو، شہری انتظامیہ، عوامی نمائندوں اور اس معاشرے کے منافع خوروں نے مل کر دیا ہے۔
دل بہلانے کو یہ خیال واقعی برا نہیں کہ صرف چار چھ پول ہی گرے تھے لیکن ان چار چھ پولوں نے ہمارے پورے ریاستی اور سماجی نظام کا پول کھول کر رکھ دیا۔ ان کھمبوں کا گرنا دراصل ہمارے اداروں کے دعوؤں کے ستونوں کا گرنا تھا۔ جو ادارے روزانہ اربوں روپے کے منصوبوں، تیاریوں، ہنگامی ٹیموں اور کارکردگی کے گیت گاتے ہیں ان کی حقیقت چند لمحوں کی ہوا نے عیاں کر دی۔ اگر خدانخواستہ واقعی ایک درجن یا اس سے زیادہ کھمبے گر جاتےتو لگتا ہے کہ یہ نااہل انتظامیہ بحالی کے لیے ایک سال کا ہدف مقرر کر دیتی اور پھر عوام کو صبر، برداشت، قناعت اور تعاون کے وہ طویل لیکچر سنائے جاتے جن کا مقصد صرف اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس طوفان میں کھمبے کم گرے ہیں لیکن عوام کے اعتماد کے ستون زیادہ گر گئے ہیں۔ عوام کا یہ اعتماد اب اتنی آسانی سے بحال نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ مشکل وقت میں ان کا کوئی وارث نہیں ہے وہ بالکل اکیلے اور بے یار و مددگار ہیں۔
اس تحریر کا مقصد صرف گلہ شکوہ کرنا نہیں بلکہ ان تمام اداروں اور افراد کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجوڑنا ہے جو اس وقت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ذمہ داری اس طرح نہیں نبھائی جاتی۔ سیپکو انتظامیہ کو اپنے پورے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہوگاانہیں ہنگامی حالات کے لیے جدید متبادل نظام وضع کرنا ہوگا اور غفلت برتنے والے افسران کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔ شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنی ہوگی اور منافع خوروں، گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایسی سخت کارروائی کرنی ہوگی کہ آئندہ کسی آفت کے وقت کسی تندور والے یا برف والے کو غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی جرات نہ ہو سکے۔ اور سب سے بڑھ کرہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم خود ایک دوسرے کے لیے رحم دل نہیں بنیں گے جب تک ہم اپنے اندر کی منافع خوری اور خود غرضی کا خاتمہ نہیں کریں گےتب تک ہم پر ایسے ہی نااہل حکمران اور ادارے مسلط رہیں گے۔ ہمیں اپنے اندر کے انسان کو زندہ کرنا ہوگا اشرف المخلوقات کے درجے کی لاج رکھنی ہوگی اور انسانیت کے فلسفے کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیےکھمبے تو دوبارہ کھڑے ہو جائیں گےتاریں بھی جڑ جائیں گی لیکن جو معاشرہ اخلاقی طور پر مر جاتا ہے وہ کبھی دوبارہ کھڑا نہیں ہو سکتا۔ یہ تحریر ایک پکار ہے، ایک نوحہ ہے اور ایک چیلنج ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل موجود ہے اور جو اس معاشرے کو ایک بار پھر زندہ اور باضمیر دیکھنا چاہتا ہے۔

Exit mobile version