جھوٹے بہانے بازی اور پیشہ ورانہ دیانت داری

فیصل جنجوعہ

معاشرے کی ترقی، اداروں کی کامیابی اور افراد کی شخصیت سازی میں سچائی، دیانت داری اور ذمہ داری بنیادی ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں معمولی فائدے، وقتی سہولت یا کسی ذمہ داری سے بچنے کے لیے جھوٹے بہانوں کا سہارا لینا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ عمل معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فرد کے کردار، ادارے کے ماحول اور معاشرتی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
جھوٹے بہانوں کی عام صورتیں
تعلیمی اداروں، دفاتر اور دیگر پیشہ ورانہ ماحول میں اکثر مختلف قسم کے بہانے سننے کو ملتے ہیں، جیسے:
بچہ بیمار ہے۔
سر میں شدید درد ہے۔
گھر میں ضروری کام ہے۔
گاڑی خراب ہو گئی ہے۔
رشتہ دار آ گئے ہیں۔
آج ذاتی مصروفیت ہے۔
آدھا دن یا چھٹی درکار ہے۔
اگر یہ وجوہات حقیقت پر مبنی ہوں تو یقیناً قابلِ قبول ہیں، لیکن جب انہیں محض ذمہ داری سے بچنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔
کسی بھی تعلیمی ادارے، دفتر یا تنظیم کی کامیابی صرف قوانین اور ضوابط سے نہیں ہوتی بلکہ باہمی اعتماد سے ہوتی ہے۔ جب ایک ملازم، استاد یا طالب علم بار بار غیر حقیقی وجوہات پیش کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی بات کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔
ایسا شخص وقتی طور پر فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے، لیکن طویل مدت میں اپنی اعتباریت کھو بیٹھتا ہے۔ پھر جب واقعی کوئی مجبوری پیش آتی ہے تو لوگ اس کی بات پر مکمل یقین نہیں کرتے۔
تعلیمی اداروں پر منفی اثرات
اسکول اور کالج صرف علم کی فراہمی کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی کے ادارے بھی ہوتے ہیں۔ جب اساتذہ یا عملہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست طلبہ پر پڑتے ہیں۔
تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے۔
طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کمزور ہوتی ہے۔
نظم و ضبط میں کمی آتی ہے۔
ادارے کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ طلبہ اپنے اساتذہ اور بڑوں کے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ دیانت داری اور ذمہ داری کا عملی نمونہ دیکھیں گے تو یہی اوصاف ان کی شخصیت کا حصہ بنیں گے۔
دیانت داری صرف سچ بولنے کا نام نہیں بلکہ اپنے فرائض کو اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنے کا نام ہے۔ ایک دیانت دار شخص:
غلطی کی صورت میں بہانے تراشنے کے بجائے حقیقت بیان کرتا ہے۔ اپنے کردار سے مثبت مثال قائم کرتا ہے. جھوٹا بہانہ بعض اوقات چند گھنٹوں یا چند دنوں کا فائدہ دے سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت اعتماد کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس سچائی شاید بعض اوقات مشکل محسوس ہو، مگر یہ انسان کو عزت، احترام اور مستقل اعتبار عطا کرتی ہے۔ کامیاب ادارے اور کامیاب افراد وہی ہوتے ہیں جو سچائی، شفافیت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ جب ہر فرد اپنے فرائض کو دیانت داری سے انجام دے گا تو نہ صرف ادارہ ترقی کرے گا بلکہ ایک مضبوط اور بااعتماد معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔
نتیجہ جھوٹے بہانے وقتی سہولت فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اعتماد ہمیشہ کے لیے کمزور کر دیتے ہیں۔ خصوصاً تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور عملے کی دیانت داری مستقبل کی نسلوں کی تربیت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سچائی کو اپنا شعار بنائیں، ذمہ داری کا احساس پیدا کریں اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مثبت مثال قائم کریں۔
"ایمانداری اپنائیں، اعتماد بنائیں اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔”

Exit mobile version