کالمکار : جاوید صدیقی
اللہ کی مخلوق میں ایک پالتو اور جنگلی جانور کتا بھی ھے، قرآنِ مجید میں کتے کو قطعی اور صریح طور پر ” نجس العین” یعنی پیدائشی طور پر مکمل ناپاک قرار دیا گیا ھے جسے رب نے ناپاک قرار دیا ھے، اسکی ناپاکی کی وجہ اسکا غلاظت کھانا شامل ھے۔ احادیث کی رو سے کتے کا منہ اور اس کا لعاب ناپاک نجس مانا گیا ہے۔ دنیائے کائنات میں صرف اصحاب کہف کے کتے کو پاک اور معتبر کردیا گیا بقیہ تمام کتے نجس و ناپاک ہیں کیونکہ پاک اصحاب کی صحبت سے اس کتے کو پاک کردیا کیونکہ یہ ان اصحاب کیساتھ جنت میں داخل ہوگا۔ معزز قارئین اب ذرا سوچئے کہ آپ کے معاشرے میں کون کون سے طبقات، گروہ اور شخصیات ہیں جو حرام اور غلاظت سے بچنے کے بجائے اس کو استعمال کرنے میں نہ کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی شرم بلکہ اس مکروہ فعل پر فخر تک کرتے ہیں یعنی اللہ کے احکامات کی کھلی بغاوت اور حکم عدولی۔ کتوں میں خاصیت یہ بھی ہوتی ھے کہ وہ اپنے مالکوں کے جوتے اور تلوؤں کو چاٹتا ھے اس بابت بھی آپ اپنے اطراف گروہ، شخصیات، حلقوں اور طبقوں میں تلاش کیجئے کہ کون کون اپنے مالکوں، حاکموں، سرداروں، افسروں اور طاقتوروں کی تلوہ گیری میں غرق رہتے ہیں جبکہ انسان کو اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا ھے اسے تمام مخلوقات میں شرفِ عظیم بخشا ھے۔ کیا آج کا انسان اللہ کا بندہ ، اللہ واحد لاشریک پر مکمل توکل، مکمل بھروسہ، اور مکمل یقین رکھتا ھے کہ نہیں!! اگر نہیں تو وہ بھی اللہ کے احکامات کی کھلی بغاوت اور حکم عدولی کا مرتکب ھوا اور اسکا شمار انہی کتوں میں ہوگا۔ کتے جب اکھٹے ہوتے ہیں یا ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو ہرگز برداشت نہیں کرتے اکثر ایک دوسرے پر بھونکتے ہیں اور کچھ تو لڑ پڑتے ہیں یہ عمل ہمیں انسانوں یعنی اللہ کے بندوں میں بھی نظر آتا ھے خاص طور پر جنہیں عوام پسند کرکے ایک بڑے ٹھنڈے ہال میں پہنچاتے ہیں ان ہال کو اپر ہاؤس اور لوور ہاؤس بھی کہتے ہیں جہاں وہ ملک بھر کی عوام کیلئے قانونی راستے بناتے ہیں صحیح یا غلط یہ الگ بحث ھے۔ کتوں میں کسی کو ایک ہڈی یا چھوٹا سا گوشت کا ٹکڑا مل جائے تو وہ ایک دوسرے سے ایسا چھیننا جھپٹنا شروع کردیتے ہیں جس سے خود بھی لہولہان ہوجاتے ہیں اور سامنے والے کو بھی کردیتے ہیں لیکن کبھی بھی باہم اتفاق و اتحاد، صبر و شکر کیساتھ شراکت اور برداشت نہیں کرتے یہی حال اکثر ہمارے حضرت انسان میں بھی پایا جاتا ھے ان میں چند ایک خاص طبقات ہمارے ہاں بھی ہیں۔ کتوں کا کتیا دیکھ کر جنسی لذت میں محو ہونا اور دنیاوی مخلوق سے مبرا ہوجانا بھی جانوری کی حد سے گزرنا کہلاتا ھے جو ان کتوں میں بھرا ہوتا ھے اور یہ اجتماعی جنسی زیادتی کے بھی عادی ہوتے ہیں ہمارے طبقات میں ایسے لوگوں گروہ اور طبقات میں بھی اضافہ ہورھا ھے جو کتوں کے ان غلیظ اعمال کی جانب زیادہ عمل پزیر ھوتے نظر آرھے ہیں۔ کتوں کی ایک غلط عادت یہ بھی ہوتی ھے کہ وہ کمزور پر حاوی اور طاقتور سے مرعوب رہتے ہیں جو اب یہ عمل ہمارے معاشرے کا خاص حصہ بن چکا ھے۔ اگر ھم کتوں اور آج کے انسانوں کا موازانہ کریں تو یقین جانئے صرف شکلیں تبدیل پر عادتیں یکساں ہیں۔ پاکستان اور پاکستانی معاشرے اور عوام کو انسان بنانے کا ایک ہی نسخہ ھے جو ہمارے پاس 1400 سال قبل سے ہمیں عطا کیا ھے لیکن ھم یہودیوں و کفار و مشرکین کے اس قدر غلام بن چکے ہیں کہ نہ قرآن کو تسلیم کررھے ہیں اور نہ ہی اللہ اور اسکے حبیب پر ایمان ھے کیونکہ ھم نے جمہوریت کو ہی اپنا ایمان خدا اور رسول جان لیا ھے یہ جانتے ہوئے بھی کہ جمہوریت مکمل دین محمدی ﷺ کی مخالف ھے جو دنیاوی دجالی یہود و عیسائی اور مشرکین زائینسٹ کی پیداوار ھے جس نے مسلم امہ کو بربادی کیلئے اپنے کارندوں ایجنڈوں کے ذریعہ نافذ العمل کرایا ھے جب تک اس نظام سے جان نہیں چھڑائیں گے ھم کبھی بھی انسان نہیں بن سکیں گے کتے کے کتے ہی رہیں گے ہماری نجات ہماری خوشحالی ہماری ترقی ہماری کامیابی صرف اور صرف قرآنی قانون شرعی نظام میں ھے بناء مسلک بناء تفریق بناء تعصب بناء عصبیت وہ نظام جو آپ ﷺ نے ہمیں دیا جس پر خلفائے راشدین قائم رھے وہی نظام اب پاکستان کی شدید ضرورت بن چکا ھے ورنہ من الحیث القوم سب کتے بنیں رہیں گے اس جمہوری نظام کے سبب۔۔۔۔ !!
