جون 7, 2026

قمر زمان کائرہ کی بلدیاتی نظام پر کڑی تنقید: "ایم این ایز اور ایم پی ایز گلیوں نالیوں کی سیاست پر قبضے کے لیے بلدیاتی ادارے فعال نہیں ہونے دیتے”: ڈنگہ میں میڈیا سے گفتگو

ڈنگہ (سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی وزیر‘ مرکزی راہنما پاکستان پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے ڈنگہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا یہ مقبول نعرہ ہے کہ ”پی پی ہے تو جی۔ بی ہے“ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1974ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان میں جاگیرداری ختم کر کے زمین کی ملکیت عوام کو دی۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں گورنر آرڈر کے ذریعے فارمل صوبہ قرار دے کر وہاں کا گورنر الیکشن کمشنر اور وزیر اعظم دیا گیا۔ اس وقت اس کو مکمل صوبہ قرار دینے کی راہ میں عالمی رکاوٹیں تھیں۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ان کو پاکستان کے ساتھ شامل کر کے باضابطہ صوبہ قرار دیا جائے۔ ان کو NFC ایوارڈ سے فنڈز دیگر صوبوں کی طرح دیئے جائیں۔ پیپلزپارٹی نے اپنے ہر دور میں وہاں پر بے پناہ تعمیراتی کام کروائے جن میں پل‘ سڑکیں تعمیر کروا کر موثر رابطہ راستے بنوائے۔

ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وہاں پر الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوگی۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے عوامی جلسہ میں کہا ہے کہ فارم 45 پر آپ ووٹ دیں۔ فارم 47 سے ہم نمٹ لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب سے 5000 پولیس ملازمین کے وہاں جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ گلگت بلتستان کے پاس پولیس کی نفری الیکشن کے لئے ناکافی ہے۔ پہلے بھی وہاں پر پولیس کے پی‘ بلوچستان اور پنجاب سے جاتی ہے۔ ان دنوں KP میں حالات کے باعث پولیس وہاں مصروف ہے۔ بلوچستان میں بھی امن و امان کے حوالے سے پولیس مصروف ہے اس لئے پنجاب سے نفری جا رہی ہے۔ تا ہم تمام اعلیٰ پولیس افسران سے کہوں گا کہ وہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کو نظر میں رکھیں۔

ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلدیاتی نظام کا فعال ہونا جمہوریت کی بنیادی روح ہے مگر بد قسمتی سے ہر عوامی حکومت نے کوشش کی ہی کہ بلدیاتی ادارے فعال نہ ہوں۔ کیونکہ اس طرح گلیوں نالیوں کی سیاست ایم پی ایز‘ ایم این اے کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی کہہ رکی ہے اور بنیادی جمہوریت کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ الیکشن جماعتی بنیاد پر کروائے جائیں۔ کیونکہ قومی لیڈر شپ ان اداروں سے ہی پیدا ہوتی رہی ہے۔ مگر نئے بلدیاتی نظام میں کچھ بد نیتی ضرور نظر آتی ہے۔یونین کونسل‘ میونسپل کمیٹی‘ میونسپل کارپوریشن اور تحصیل کونسل کے نمائندگان تو ووٹ سے منتخب ہو کر آئیں مگر ضلعی سطح پر جہاں تمام محکموں کے ہیڈز ہوتے ہیں وہاں کا نظام بیورو کریسی کے حوالے کر دیا جائے۔

گویا ایپلیکیٹڈ نمائندگان کو بیورو کریسی کے ماتحت کیا جائے۔ یہ کسی طور بلدیاتی نظام کے آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ ایک سوال ے جواب میں انہوں نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم ابھی تک حکومتی سطح پر نظر نہیں آئی کچھ نمائندگان تقریریں کر کے کہہ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کے پاس فنڈز نہیں رہے کہ وہ ملک چلا سکیں تو اس ضمن میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت چاروں وزرائے اعلیٰ سے مل کر ان کو صورت حال سمجھائے کہ وہ اس ضمن میں مرکزی حکومت سے چند معاملات میں تعاون کریں۔ اگر NFC ایوارڈ ختم کیا گیا تو نئی تحریکیں جنم لیں گیں جو ان حالات میں درست نہیں ہے۔