گلگت بلتستان میں انتخابی میدان پوری طرح سج چکا ہے جہاں اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر نئے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل آج شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس جمہوری عمل میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے، جس کے لیے پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے لے کر بلا تعطل شام 5 بجے تک مقرر کیا گیا ہے اور تمام اضلاع میں انتخابی سامان کی ترسیل کا کام پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ خطے میں انتخابات کو مکمل طور پر پرامن، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت مقامی پولیس اور جی بی اسکاؤٹس کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تمام حلقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی سہولت کے لیے کل 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں، جن میں سے انتظامی لحاظ سے 488 کو نارمل، 349 کو حساس جبکہ 551 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
اس بار گلگت بلتستان اسمبلی کی انتخابی دوڑ میں مجموعی طور پر 403 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں، جن میں 396 مرد جبکہ صرف 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ جماعتوں کی ترتیب کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 23، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان مسلم لیگ نے 11، جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 9، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے 7، جبکہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6، 6 امیدوار انتخابی دنگل میں اتارے ہیں، اس کے علاوہ ریکارڈ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سی پی او لاہور کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کی ڈیوٹی کے لیے پنجاب پولیس کے 10 ہزار جوانوں کو وہاں روانہ کیا گیا ہے جو انتخابی نتائج کے حتمی اعلان تک وہیں قیام کریں گے، جبکہ پنجاب پولیس کے مزید 1400 اہلکار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھیجے گئے ہیں تاکہ اسلام آباد پولیس کی نفری آزاد کشمیر روانہ ہونے کے بعد وہاں پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کو پورا کیا جا سکے۔
