کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
اسلام آباد جو اپنی خوبصورتی، نظم و ضبط اور پرسکون ماحول کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے بے ہنگم تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ سی ڈی اے (CDA) نے ان غیر قانونی بستیوں کے خلاف ایک حتمی آپریشنل پلان مرتب کر لیا ہے، جس کا پہلا مرحلہ سیکٹر جی-7، نائن اور مہر آباد کے علاقوں میں شروع کیا جائے گا۔ بلاشبہ شہر کی خوبصورتی کو بحال کرنا اور تجاوزات کا خاتمہ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اس پوری صورتحال میں انسانی حقوق اور غریب خاندانوں کی بے بسی کے پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس سنگین مسئلے کے سماجی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فیڈریشن آف کچی آبادیز کے صدر، چوہدری ظفر اقبال جتالہ صاحب کا کردار اور ان کا موقف انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ چوہدری ظفر اقبال جتالہ صاحب ایک طویل عرصے سے کچی آبادیوں کے مکینوں کی آواز بنے ہوئے ہیں اور ان کا واشگاف مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کو کارروائی سے قبل ان غریب اور دیہاڑی دار خاندانوں کی دہائی کو سننا چاہیے جو برسوں سے ان کچی آبادیوں میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ چوہدری ظفر اقبال جتالہ صاحب کا موقف ہے کہ محض بلڈوزر چلا کر بستیوں کو مسمار کر دینا کوئی پائیدار حل نہیں، بلکہ یہ عمل مزید سماجی انتشار اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ان کے نزدیک اصل حل ان خاندانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنا اور انہیں تحفظ کا احساس دلانا ہے، کیونکہ ان لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا مستقبل اسی چھت سے وابستہ ہے۔ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسلام آباد میں تجاوزات کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ صرف قبضہ مافیا کا جرم نہیں، بلکہ اس میں متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور بعض کالی بھیڑوں کی ملی بھگت بھی شامل ہے۔ اگر سی ڈی اے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کو نوٹس جاری کرنے کی جسارت کر رہا ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان افسران کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا جنہوں نے رشوت اور مفادات کی خاطر ان تجاوزات کو پنپنے کا موقع فراہم کیا؟ آپریشن کی کامیابی کا دارومدار صرف غریبوں کی جھونپڑیاں گرانے پر نہیں، بلکہ ان بااثر عناصر اور کرپٹ افسران کو کٹہرے میں لانے پر ہے جنہوں نے شہر کے نظم و نسق کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ چوہدری ظفر اقبال جٹالہ صاحب جیسے عوامی نمائندوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے اور ایک ایسا قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرے جس میں اسلام آباد کی خوبصورتی کی بحالی کے ساتھ ساتھ انسانیت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ ترقی کے نام پر کسی غریب کے سر سے چھت چھین لینا انصاف نہیں، بلکہ ظلم ہے۔ اگر سی ڈی اے اپنے اس پلان پر عمل درآمد کرتے وقت انسانی ہمدردی، متبادل رہائش کے وعدے اور انصاف کو ترجیح دے، تو ہی یہ شہر کے اصل خدوخال کی بحالی کی ایک متوازن اور قابلِ فخر کوشش کہلائے گی۔ یاد رکھیے، قانون کی عملداری تبھی حقیقی معنوں میں قائم ہوگی جب اس کا ترازو سب کے لیے برابر ہوگا اور غریب کو بھی وہی تحفظ ملے گا جو ایک امیر کو حاصل ہے۔ کیا ترقی کے نام پر غریب کا گھر اجاڑنا ہی واحد راستہ ہے، یا انسانیت کو مقدم رکھ کر کوئی اور حل بھی نکالا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں حق و انصاف کے راستے پر چلنے، مظلوموں کی داد رسی کرنے اور غریبوں کی دستگیری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
