یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک اہم پیش رفت کے تحت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوطرفہ ملاقات کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر زیلنسکی نے روسی صدر کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ لڑائی بہت ہوچکی اور اب جنگ کے خاتمے کا فیصلہ پیوٹن کو کرنا ہے، جبکہ یوکرین مذاکرات کے دوران عارضی طور پر جنگ بندی کے لیے مکمل تیار ہے۔ خط میں روسی قیادت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ اگر روس جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا تو یوکرین میدانِ جنگ میں لڑنے کے لیے بھی تیار ہے، اور روسی فوج رواں سال ڈونیٹسک کے اسٹریٹجک علاقے پر کسی صورت قبضہ نہیں کر سکے گی۔ دوسری جانب کریملن کے ترجمان نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زیلنسکی کا خط ابھی تک صدر پیوٹن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، تاہم یوکرینی صدر جب چاہیں ماسکو آکر روسی صدر سے براہِ راست ملاقات کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ سفارتی پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2440 مربع کلومیٹر کا وسیع علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور روسی افواج یوکرین میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لوہانسک پر اس وقت روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے اور وہ جلد ہی پورے ڈونباس خطے کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرین اپنے مزید علاقوں سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ روس نے ہمیشہ چین کے ساتھ فوجی میدان میں تعاون کیا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جبکہ بھارت اور امریکہ کے گہرے تعلقات کبھی بھی روس اور بھارت کے روایتی روابط میں رکاوٹ نہیں بنے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود روس اب بھی یوکرین کے معاملے سے پُر امن طریقے سے نمٹنے اور ڈیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
