آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر اے پی سی کا انعقاد، مہاجرین کی نشستوں پر گتھی سلجھ نہ سکی

وزیراعظم ہاؤس آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اٹھائے گئے مطالبات اور ریاستی صورتحال پر غور و خوض کے لیے ایک اہم آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) سمیت آزاد کشمیر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندہ وفود نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا اور ریاست میں درپیش سیاسی و آئینی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ تاہم، طویل مشاورتی عمل کے باوجود کانفرنس مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر کوئی واضح فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔

​وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ نشستوں کے تنازع پر ابھی تک کوئی متفقہ فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس پیچیدہ معاملے کو حل کرنے کے لیے جلد ہی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا، جہاں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیراعظم نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام معاملات کا حل صرف اور صرف ‘ڈائیلاگ’ یعنی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی عمل اور قانون سازی منتخب سیاسی قیادت کا استحقاق ہے اور اس کو اسمبلی کے فورم کے ذریعے ہی طے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں طاقت کے استعمال پر یقین نہیں رکھتی۔

​وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر بھارت منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے اور ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے مقدم ریاست کا مفاد اور استحکام ہے۔ اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ حکومتی کوششوں کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی کال کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

​کانفرنس کے شرکاء نے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی جس کے متن میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کو باقاعدہ دعوت نامے بھیجے گئے تھے، تاہم کئی گھنٹے انتظار کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بنی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل ہی ریاستی استحکام کی واحد بنیاد ہے، اور کسی کو بھی ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقے برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں۔

​قرارداد کے اہم نکات میں یہ بات شامل ہے کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق اپنی مقررہ مدت کے اندر ہی منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس نے انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات اٹھانے کی منظوری دی اور یہ واضح کیا کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے یا غیر قانونی طور پر مؤخر کرنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا۔

Exit mobile version