ٹرمپ انتظامیہ کا سخت امیگریشن پالیسی پر عملدرآمد: تارکینِ وطن کے لیے ملازمتیں اور مراعات محدود

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے تارکینِ وطن کے خلاف اپنی سخت پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے، جس کے تحت امیگرینٹس کو ملازمتوں، ہاؤسنگ اور ہیلتھ کیئر سمیت بنیادی سہولیات سے دور کیا جا رہا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا واضح مقصد تارکینِ وطن پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ امریکا چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت بوسٹن ایئرپورٹ پر تین دہائیوں سے ملازمت کرنے والے متعدد تارکینِ وطن ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان اسامیوں پر اب صرف امریکی شہریوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جائے گی۔ انتظامیہ کا ہدف ہے کہ غیر ملکیوں کو حاصل مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔ خوف کے اس ماحول میں بہت سے تارکینِ وطن نے طبی سہولیات کے حصول اور ٹیکس گوشوارے جمع کروانا بھی چھوڑ دیے ہیں، جبکہ اب تک تقریباً ایک لاکھ 16 ہزار ایسے افراد امریکا چھوڑ چکے ہیں جن کے پاس مستقل قانونی حیثیت نہیں تھی۔

مزید برآں، انتظامیہ ایک ایسی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت ان بچوں کو وفاقی سبسڈی نہیں ملے گی جن کے والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ غیر شہریوں (بشمول گرین کارڈ ہولڈرز) پر بزنس لون لینے کی پابندی پہلے ہی عائد کی جا چکی ہے، جبکہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے ورک پرمٹ پر بھی پابندی لگانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

Exit mobile version