وائٹ ہاؤس نے بالاخر امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور جنگ بندی میں توسیع سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس پیشرفت کو موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے مسودے پر اتفاق کیا تھا، جس میں جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز شامل ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق کے بعد اب ان تمام قیاس آرائیوں پر بھی بڑی حد تک خاموشی چھا گئی ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو منظوری دیں گے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے بعد فریقین کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے حصول پر پابندی، یورینیم افزودگی کے خاتمے اور منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔
سفارتی حلقوں میں اس خبر کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی سفارتی کوشش ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت عملی اقدامات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
