واشنگٹن: امریکی کرنسی پر ایک اہم تبدیلی کے حوالے سے نئی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ حکام نے امریکی کرنسی چھاپنے والے ادارے (بیورو آف اینگریونگ اینڈ پرنٹنگ) پر دباؤ ڈالا ہے کہ 250 ڈالر کا ایک نیا نوٹ تیار کیا جائے جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر نمایاں ہو۔
امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” نے ادارے کے چار موجودہ اور سابق ملازمین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ سال سے کوششیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے عہدیدار برینڈن بیچ اور ان کے سینئر مشیر مائیک براؤن نے ادارے کے عملے کو بارہا اس نوٹ کے نمونے تیار کرنے کے احکامات دیے۔
اس اقدام نے امریکی حلقوں میں قانونی اور اخلاقی خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکی قانون کے مطابق، کرنسی پر صرف ان شخصیات کی تصاویر شائع کی جا سکتی ہیں جو وفات پا چکی ہوں، جبکہ کسی زندہ شخصیت کی تصویر چھاپنا 150 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار ہوگا۔
برطانوی مصور آئین الیگزینڈر، جنہوں نے اس نوٹ کا خاکہ تیار کیا، کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے خود صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ڈیزائن میں مزید تبدیلیوں کی حمایت کی، جن میں امریکی پرچم کے رنگوں کا استعمال اور ملک کے قیام کی 250ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک خصوصی لوگو شامل کرنا ہے۔ مجوزہ ڈیزائن میں نوٹ کے وسط میں صدر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے دستخط بھی دکھائے گئے تھے۔
اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اس دباؤ کی خبروں نے سرکاری سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، تاہم قانون دانوں کا ماننا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام موجودہ وفاقی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگا۔





