میکسیکو سٹی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے شریک میزبان ملک میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے اعلان کیا ہے کہ میکسیکو ایونٹ کے دوران ایرانی فٹ بال ٹیم کو اپنے ملک میں ٹھہرانے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے سیکیورٹی اور سفارتی کشیدگی کے باعث ایرانی اسکواڈ کو اپنے ہاں قیام کی اجازت دینے سے معذرت کر لی۔ میکسیکن صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیفا کی درخواست پر انہوں نے اس تجویز کو قبول کیا ہے اور انہیں ایرانی ٹیم کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فیفا نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی ٹیم کا آفیشل ٹریننگ بیس میکسیکو کے سرحدی شہر ‘تیہوانا’ میں قائم ہوگا۔ واضح رہے کہ ایران کو ورلڈ کپ کے اپنے تینوں میچز امریکی شہروں لاس اینجلس اور سیئٹل میں کھیلنے ہیں، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدہ تعلقات نے ٹیم کی شرکت پر غیر یقینی کے بادل کھڑے کر دیے تھے۔
اس صورتحال میں ایک امید کی کرن تب پیدا ہوئی جب ایرانی وزیرِ کھیل احمد دونیامالی نے دعویٰ کیا کہ فیفا کے صدر نے ایرانی کھلاڑیوں کو امریکی ویزوں کے حصول کی یقین دہانی کروائی ہے۔ تاہم، معاملات اتنے سادہ بھی نہیں؛ ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے ان کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ویزوں کا مطالبہ کیا ہے جو ماضی میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا دو ٹوک موقف ہے کہ کھلاڑیوں کا خیرمقدم تو کیا جائے گا، لیکن پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے افراد پر انٹری کی پابندیاں لاگو رہیں گی۔ اس سے قبل کینیڈا بھی اسی بنیاد پر ایرانی حکام کو ویزے دینے سے انکار کر چکا ہے۔





