پرنس رحیم آغا خان کا 7 روزہ سرکاری دورہ پاکستان مکمل

اسلام آباد: اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان نے حکومتِ پاکستان کی دعوت پر اپنے 7 روزہ تاریخی سرکاری دورے کا کامیاب اختتام کر لیا ہے۔ یہ منصب سنبھالنے کے بعد پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا، جس نے حکومتِ پاکستان اور اسماعیلی برادری کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور چترال کا دورہ کیا، جہاں حکومتی شخصیات اور اسماعیلی کمیونٹی کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔

نور خان ایئر بیس آمد پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد ایوانِ صدر میں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ صدرِ مملکت کی جانب سے ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ دیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرنس رحیم آغا خان کو آغا خان چہارم کی یاد میں جاری کردہ خصوصی ڈاک ٹکٹ بھی پیش کیا۔

پرنس رحیم آغا خان نے گلگت بلتستان اور چترال میں اپنے قیام کے دوران مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیلی برادری پر زور دیا کہ وہ اتحاد، تعلیم، بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم اور اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔ انہوں نے توحید کے تصور اور صراطِ مستقیم پر کاربند رہنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ان کا الوداع کیا۔ اس دورے نے پاکستان میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی انسانی فلاحی خدمات کے عزم کو ایک نئی جہت بخشی ہے۔

Exit mobile version